میں اور تم
بنت نذیر اور حفصہ الماس
ایپیسوڈ 8
![]() |
| Unplash |
وہ یونیورسٹی کی طویل راہداری سے گزر کر تیری سے زینے اتر رہی تھی جب وہ اچانک سے اس کے سامنے آگیا۔ پورے ایک ہفتے بعد اسے اپنے رو برو دیکھ کر فیمیا کی ویران زندگی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔دل فرحت بخش احساسات سے بھر گیا تھا اور لبوں پہ پیار بھری مسکان آٹھہری تھی لیکن اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کچھ خاموش اور گم سم سا ہے۔
"کیسے ہیں آپ؟"
فیمیا نے استفسار کیا۔
"کیسا نظر آرہا ہوں؟"
فاتین نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے الٹا سوال کر دیا۔
"بہت خاموش، اداس اور پہلے کی نسبت لاغر۔"
وہ اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔ فاتین کے لب مسکرانے کے انداز میں پھیلے۔
"میں بہت خوش ہوں۔"
"تو پھر آپ کے چہرے پر سوگواری کیوں چھائی ہوئی ہے؟"
وہ دونوں زینے اتر کر یونیورسٹی کے بڑے گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔
"چہرہ کیوں دیکھتی ہو؟ میرے دل میں جھانکا کرو۔"
وہ روبرو آکے اس کا چہرہ ہاتھوں کے ہالے میں لے کر بولا۔فاتین کی اس جسارت پر اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔اس نے فوراً اپنے چہرے پر سے اس کے ہاتھ ہٹائے۔
"پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا پھر آج آپ اس طرح حق کیوں جتا رہے ہیں؟"
"جسے دل کی مسند پہ بٹھا رکھا ہے، اس پہ حق نہیں جتاؤں گا تو اور کون اس قابل ہے؟"
"مجھے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے دو تین دن کے بخار نے آپ کے دماغ کی چولیں ہلا دی ہیں تبھی ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔"
اس کے ناگواری سے کہنے پر فاتین کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
"فیمیا! کیوں نہ ہم کورٹ میرج کر لیں؟"
فاتین نے اپنی مسکراہٹ چھپا کر سنجیدگی سے کہا اور ساتھ ہی فیمیا کے چہرے کے بدلتے تاثرات سے دل ہی دل میں محظوظ ہونے لگا۔
"کیا؟ کورٹ میرج۔۔۔۔؟"
اس کے حلق سے چیخ برآمد ہوئی۔ فاتین نے فوراً معصومیت سے سر کو ہاں میں جنبش دی۔
"کورٹ میرج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں مر جاؤں گی لیکن ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گی جس سے میرے بھائی کی عزت پہ حرف آئے۔"
"بھائی کا تو خیال ہے لیکن میرا نہیں۔ آج فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ تمہاری زندگی میں سب سے اہم کون ہے؟ میں یا تمہارا بھائی؟"
"یہ کیسا بے تکا سوال ہے فاتین؟"
"مجھے جواب چاہیے۔"
"کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ میرے دل میں آپ دونوں کا مقام جدا ہے۔کوئی کسی کی جگہ نہیں لے سکتا۔"
"تو پھر تمہیں میری محبت کا خیال کیوں آتا؟"
فیمیا نے اس کے ایسے انداز و اطوار پر حیرت اور قدرے دکھ سے اسے دیکھا پھر آنکھوں میں تاسف اور نمی بھر کے آگے بڑھ گئی مگر وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا ، اس لیے فوراً اس کا راستہ روک کر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو گیا۔
"کل شام کی چائے تمہارے ساتھ ، تمہارے گھر میں پیوں گا۔ تیار رہنا پھر۔"
اس کی بات پہ فیمیا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ وہ اسے گنگ حالت میں چھوڑ کر مسکراتا ہوئے کیفے ٹیریا کی طرف چل دیا جہاں عریش اور باقی سب اس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔
"کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ مجھے دیکھ کر سب کو سانپ کیوں سونگھ گیا۔"
وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے چہکا۔
"تیرے چہرے سے خوشی کا رنگ عیاں ہو
زندگی اس طرح تجھ پر مہرباں ہو"
عریش نے اس کے کھلکھلاتے چہرے کو دیکھ کر باآواز بلند شعر کہا۔
اس کے دعائیہ شعر پر فاتین نے دل سے آمین کہتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔
"اتنی جلدی آنٹی اور انکل مان گئے؟ کون سا جادو کیا ہے بھئی؟"
آبی اب بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
"فٹ پاتھ پہ مچھروں نے فاتین کی وہ درگت بنائی کہ بیچارے کو ہسپتال پہنچا دیا۔ یہ سب مچھروں کی کاری گری ہے ورنہ اس میں فاتین کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اسے تو ان مچھروں کا شکر گزار ہونا چاہیے"
عریش نان اسٹاپ شروع ہو گیا تھا جبکہ یہ رام کتھا سن کر باقی سب محظوظ ہو رہے تھے۔
"ایک دن تو بھی فٹ پاتھ پر گزار کے آ جا۔ تمہاری محبت کی کٹھن راہیں خود بخود سہل ہو جائیں گی۔"
"میرے دوست! میں دریا کے یخ پانی میں بھی رات گزار کے آجاؤں تو میرا کچھ نہیں ہونے والا۔ محبت ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتی۔یہ صرف بخت والوں کی میراث ہوتی ہے۔"
"آج کل کون سا ناول پڑھ رہا ہے بیٹا جو محبت کے بارے میں اس قدر فلسفہ جھاڑ رہا ہے۔"
آہن نے اس کی کمر پہ دھپ رسید کی۔
"کیوں؟ میں اس بارے میں بات نہیں کر سکتا؟ کیا میرا محبت پہ حق نہیں ہے؟"
"یہ منہ اور مسور کی دال۔"
ماہی زیرِ لب بڑبڑائی مگر عریش اس کی گل افشانی باخوبی سن چکا تھا۔
"ہونہہ۔۔۔۔مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا۔"
اس نے فوراً استہزائیہ انداز میں ہنکارا بھر کے حساب چکتا کرنے کی کوشش کی جس پر ماہی کلس کر رہ گئی۔
"تم دونوں اپنی ناراضگی ختم کیوں نہیں کر دیتے؟ کب تک ایک دوسرے پر طنز کے تیر چلاتے رہو گے؟"
عائش کو ان کی معمولی سی بات پر طویل ناراضگی سے اکتاہٹ ہونے لگی تھی جبکہ اس ناراضگی کی اصل وجہ، ان دونوں کے علاوہ صرف فاتین کو معلوم تھی۔
"میں کسی سے ناراض نہیں ہوتا، یہ تو ماہی ہے جس نے مجھ سے خدا واسطے کا بیر باندھ لیا ہے اب تم لوگ خود ہی اس پوچھ لو کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ شاید تم لوگوں کو بتا دے۔"
وہ سنجیدگی سے کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا لیکن اس کا یہ لب و لہجہ سب کو بری طرح کھٹکا تھا.
فاتین کی ادھ ادھوری باتوں پہ وہ الجھ کر رہ گئی تھی اور دل الگ ڈر کے مارے سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔
"فاتین کے گھر آنے سے عمیر بھائی کے سامنے میری کیا عزت رہ جائے گی؟
یہ سوچ سوچ کر اس کا دماغ درد سے پھٹا جا رہا تھا لیکن اگلی شام مسز زمان کو اپنے در پر رشتے کا خواستگار بنا دیکھ کر اس کے دل و دماغ سے ہر بوجھ اتر گیا تھا۔ اپنا آپ بالکل ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا اور پھر فاتین کی چھیڑ خانی یاد کر کے بے ساختہ اس کے لبوں پہ تبسم بکھر گیا۔ فارہ کمرے میں آئی تو اسے خیالوں میں گم، مسکراتے دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے ہوئے شریر انداز میں بولی:
"ارے واہ! یہ میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟ آپ یعنی فیمیا نبیل مسکرا رہی ہیں۔"
اس کے لب فوراً سکڑے۔
"فارہ کی بچی۔ تنگ مت کرو۔"
فیمیا نے بظاہر غصیلے لہجے میں کہا لیکن دل نے خوشی سے ناچ ناچ کر سینے میں اودھم برپا کر رکھا تھا۔
"میں جانتی ہوں یہ غصہ مصنوعی ہے ورنہ آپ کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے ہیں۔۔۔ارے ارے یہ چہرے پہ پھیلی لالی تو دیکھیں۔ اف! بالکل لال ٹماٹر لگ رہی ہیں۔۔۔نہیں نہیں سرخ تازہ گلاب۔"
"فری پلیز۔۔۔"
وہ منمنائی پھر فارہ کے چہرے پہ ناچتی شرارت دیکھ کر فوراً اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔
"ہائے یہ دلفریب ادا۔۔۔۔۔ فاتین بھائی تو گئے کام سے۔ آپ کا یہ مشرقی روپ ہی انہیں تباہ و برباد کر دے گا۔"
فیمیا نے کشن اٹھا کر اسے مارا لیکن اب بھلا وہ کہاں باز آنے والی تھی۔
آتے جاتے اسے چھیڑتی اور پھر اس کے لبوں پہ بکھرنے والی شرمیلی مسکان کا لطف اٹھاتی لیکن اندر ہی اندر عزیز از جان بہن کی جدائی کا غم اسے آبدیدہ کر گیا تھا۔
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے
آنکھیں موندے راکنگ چئیر پر جھولتی ہوئی وہ عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کی خوبصورت اور دلسوز آواز میں گم تھی۔ غزل کے درد بھرے الفاظ اس کے دل میں اتر رہے تھے۔
"عجیب لڑکی ہو تم۔ اپنی مُحبّت کسی اور کی جھولی میں ڈال کر اب اداس غزلیں سن رہی ہو۔ مجھے افسوس کے ساتھ ساتھ اب تم پر شدید غصہ آ رہا ہے۔"
عائش کی آواز پر اس نے آنکھیں نیم وا کیں۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے کڑے تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔
"تم کب آئی؟"
آبی نے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ سجا کر پوچھا۔
"کیوں بغیر لڑے میدان چھوڑ رہی ہو آبی؟"
عائش نے اس کا سوال قطعی نظر انداز کر دیا۔
"اگر میری جگہ تم ہوتی تو کیا کرتی؟"
"آخری دم تک لڑتی۔کم از کم تمہاری طرح اپنی مُحبت کسی اور کے کشکول میں ہر گز نہ بھرتی۔"
آبی کے لبوں پر زخمی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
"میرا اپنا دامن محبت سے خالی رہا ہے عائش۔ فاتین میرا کبھی نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ سے فیمیا کا تھا پھر میں کیسے ان دونوں کے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی؟"
"تو کیا تمام عمر نارسائی کا کرب سہہ لو گی؟"
"میری قسمت میں یہ کرب سہنا لکھا ہے تو سہہ لوں گی۔ میں خود غرض نہیں ہوں جو اپنی خوشی کے لیے دوسروں کی خوشیاں کا خون کر ڈالوں۔"
"تم اپنے بارے میں کیوں نہیں سوچتی آبی؟ تمہارا دکھ کسی کو نظر نہیں آتا، نہ تمہاری کسی کو پرواہ ہے مگر ایک تم ہو جسے سب کی خوشیاں عزیز ہیں۔ عریش اور آہن ، فاتین کی خوشی میں خوش ہیں اور ماہی اپنے فیانسی کو پیاری ہو کر ہمیں بھول ہی گئی۔
بتاؤ ان میں سے کس کو پرواہ ہے تمہاری؟ کس کو تمہاری آنکھوں میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں نظر آتی ہیں؟۔۔۔۔۔کسی کو نہیں آبی۔۔۔۔سب اپنی زندگی اور خوشیوں میں مست و مگن ہیں مگر ایک تم ہو جسے ایثار پرستی کا بخار چڑھا ہے۔"
وہ بغیر روک ٹوک کے اسے بے نقط سنائے گئی۔ آبی نے انتہائی ڈھٹائی اور فراخدلی سے اس کے طنز اور کوسنے برداشت کیے پھر جواباً مسکرا کر بولی:
"فرض کرو اگر میں اسے حاصل کر لوں تو آگے کیا ہو گا؟ وہ میرا ہو جائے گا اور دل و جان سے مجھے اپنالے گا؟ نہیں عائش نہیں۔۔۔۔اس کا دل ہمیشہ میرے اور فیمیا کے درمیان ڈانواں ڈول رہے گا۔ وہ نہ فیمیا کو بھول پائے گا اور نہ پوری طرح میرا ہو سکے گا اس سے بہتر ہے میں کنارہ کر لوں۔ یک طرفہ محبت کا کرب تو سہہ لوں گی لیکن محبت میں شراکت داری میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔"
"ٹھیک ہے پھر ادھر ہی پڑی اداس غزلیں سنتی رہو۔"
آبی غصے سے کہہ کر پاؤں پٹختی باہر نکل گئی۔اس نے پاکٹ ٹیپ پر دوبارہ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی غزل چالو کی اور سر کرسی کی پشت سے ٹکاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
تم فرشتوں کی بات لے بیٹھے
ہم ترستے ہیں آدمی کے لیے
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
ایک بار پھر آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے تھے۔
______________
یونیورسٹی کے بعد دن بدن شادی کی تیاریوں میں تیزی آتی گئی۔ فاتین کے لیے کوئی خاص مسٔلہ نہیں تھا کیونکہ آہن اور عریش بڑھ چڑھ کر شادی کی تیاریوں میں حصہ لے رہے تھے اور باقی خریداری کے لیے مسز زمان مختص تھیں لیکن عمیر خریداری کے ساتھ ساتھ باقی انتظامات بھی دیکھ رہا تھا۔
اس نے کافی سوچ بچار کے بعد پھپھو کو کال کر کے بلا لیا۔ وہ بھی شاید ایک فون کال کی منتظر تھیں، فوراً زیب کو لے کر ان کے پاس چلی آئیں اور زنانہ خریداری کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
مہندی کی تقریب میں صرف ایک دن بچا تھا۔ پھپھو اور فارہ جو صبح کے وقت شاپنگ کے لیے نکلی تھیں، شام کے سائے پھیلتے ہی سامان سے لدی پھندی گھر کو لوٹیں۔
"ہائے ! ان بازاروں کے چکر نے مجھے مار ڈالا۔ ایک تو اس قدر مہنگائی ہے۔ ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔"
وہ تھکن زدہ سانس خارج کرتے ہوئے صوفے پر ڈھے گئی۔ فارہ نے صوفے پر شاپنگ بیگز پھینکے اور پاؤں کو چپل سے آزاد کر کے قالین پہ ہی پاؤں پسار کر بیٹھ گئی۔
"اب تو تقریباً ساری شاپنگ مکمل ہو چکی ہے۔جو دوپٹے پیکو کروانے کے لیے دیے تھے وہ بھائی لے آئیں گے۔"
فارہ نے سر صوفے پر رکھتے ہوئے کمزور سی آواز میں کہا۔ سخت گرمی نے ان کو نڈھال کر دیا تھا۔فیمیا فوراً دونوں کے لیے ٹھنڈا پانی لے آئی۔
"شکر ہے یہ معرکہ بھی سر ہوا خیر اب شادی میں دن ہی کتنے بچے ہیں۔ کل مہندی کی تقریب اور پرسوں رخصتی۔"
پھپھو نے غٹاغٹ پانی حلق میں انڈیلا اور خالی گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
"پھر آپی بھی پرائی ہو جائیں گی۔"
فارہ نے رنجیدگی سے کہا تو فیمیا کا دل بھر آیا۔ وہ بے اختیار ہو کر رو پڑی۔
"ارے! میری بچی روتے نہیں ہیں ۔ بیٹی تو ہوتی ہی پرایا دھن ہے۔ اسے ایک نہ ایک دن رخصت ہو کر پرائے گھر جانا ہوتا ہے۔ جن والدین کی اکلوتی بیٹی ہوتی ہے، وہ اسے بھی بیاہ دیتے ہیں ، یہ سلسلہ تو ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری و ساری رہے گا۔"
وہ اسے آغوش میں بھر کر نرمی سے گویا ہوئیں۔
"میں فارہ اور بھائی کے بنا نہیں رہ سکتی۔ ان کے بغیر میرا دل نہیں لگے گا پھپھو میں کیسے۔۔۔۔۔۔؟"
روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔
"میری بچی۔ بس اب اور آنسو نہیں بہانے۔۔۔
شادی کے بعد عورت کی زندگی کا نئے سرے سے آغاز ہوتا ہے۔ اپنا آپ مار کر اسے سسرال کے طور طریقے اپنانے ہوتے ہیں اور میری بچی جب سسرال کے رنگ میں رنگ جائے گی، اس گھر اور اس کے مکینوں کو اپنا مان لے گی تو دل بھی لگ جائے گا اور بہن بھائی کی یاد بھی نہیں ستائے گی۔"
وہ بہت نرمی اور شفقت سے اسے سمجھا رہی تھیں۔فیمیا نے انگلیوں کی پوروں سے آنسو صاف کیے اور ہولے سے سر ہلا کر گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔
"آپ کی آغوش کی ٹھنڈک مجھے امی کی یاد دلاتی ہے۔ آپ کے وجود سے اٹھتی مہک سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے امی کہیں آس پاس ہیں۔ پھپھو آپ ہم سے ملنے پہلے کیوں نہیں آئیں؟ ماں باپ کے بعد سگے رشتوں میں ایک آپ ہی بچی تھیں اور آپ نے بھی مڑ کر خبر تک نہ لی۔"
مدت سے جو شکوہ اس کے دل میں مچل رہا تھا آج نہ چاہتے ہوئے بھی زبان پر آگیا۔
"میرا عمیر سے کبھی رابطہ نہیں ٹوٹا۔ وہ میرے مالی حالات سے واقف رہا ہے۔میں نے ان ہاتھوں سے محنت مشقت کر کے گھر کا نظام چلایا اور اپنے ہی بل پوتے پر زیب کو تعلیم دلوائی ورنہ تمہارے پھوپھا نے تمام عمر منجھی توڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔"
پھپھو کے چہرے پر گزرے وقت کا حزن و ملال واضح تھا۔ فیمیا کو سخت افسوس ہوا۔
"اب گھر کے حالات کیسے ہیں؟"
فارہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا کہ کہیں پھپھو برا نہ مان لیں۔
"اللّْٰہ کا شکر ہے میرے زیب نے نوعمری میں ہی گھر کی ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی اور اب تو ماشاء اللہ اس کی اچھی جاب لگ گئی ہے۔"
زیب کا نام لیتے ہی ان کی آنکھوں میں چمک عود کر آئی تھے اور لہجے میں محبت ہی محبت گھل گئی تھی۔
جاری ہے۔
_______
آپکی قیمتی آراء کی منتظر
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔
https://hifsaalmas.blogspot.com/2022/08/blog-post_88.html

0 Comments