جن پہ تکیہ تھا
حمیرا نگاہ
میں نے اس بوڑھے کو مسلسل یہاں وہاں چکر لگاتے دیکھا تو باوجود کوشش کے نظر انداز نہ کر سکا۔ غالباً اس مارکیٹ کی گیلری میں یہ اس کا ساتواں چکر تھا شکل سے تو اچھا خاصا پڑھا لکھا لگ رہا تھا سوٹڈ بوٹڈ تو نہیں تھا لیکن پھر بھی کپڑے اچھی حالت میں صاف ستھرے پہن
رکھے تھے۔وہ میری دکان کے سامنے رکا تو میں نے کام والے لڑکے کو بھیج کر اسے اندر بلوا لیا۔
"کیا بات ہے بزرگوں۔۔؟؟؟ کب سے دیکھ رہاں ہوں آپ یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں چکر پہ چکر لگائے جا رہے ہیں ۔۔۔سب خیریت تو ہے نا؟؟"اسے آرام سے بٹھانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا اور ساتھ ہی کام والے لڑکے کو پانی لانے کا کہا ۔ کچھ دیر تک وہ بوڑھا شخص بغور میری طرف دیکھتا رہا اور پھر سر جھکا لیا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی آنکھوں میں تیرتی نمی کو چھپانے کے لیے سر جھکایا ہو۔۔میں پانی کا گلاس ان کا ہاتھ پکڑ کر ہاتھ میں تھمایا تو وہ ایک ہی سانس میں سارا گلاس خالی کر گئے۔
میں نے خالی گلاس ان کے ہاتھ سے پکڑ کر پاس پڑے بنچ پررکھااور پھر ان کی طرف متوجہ ہوا۔۔آپ اپنا مسئلہ بیان کر سکتے ہیں"میں نے بوڑھے کی یاسیت بھری آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے اور پھر دونوں لب ایک دوسرے میں پیوست کر لیے اور اپنی جیب ٹٹولنے لگا۔۔۔میری سوالیہ نظریں ان کی جیب پر ٹکی تھیں کہ جیب سے کیا نکلتا ہے تھوڑی تگ و دو کے بعد انہوں نے ایک شناختی کارڈ نکال کر میری طرف بڑھا دیا۔ "یہ دیکھیے" جی دیکھ رہا ہوں یہ تو غالباً شناختی کارڈ ہے میں نے شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑ کر بغور دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔لیکن ان کا اگلا جملہ مجھے حیران کر گیاتھا جب وہ بولے کہ "میں گم ہو گیا ہوں"
آپ اپنے ہوش و حواس میں تو ہیں"میں فقط یہی بول سکا۔بھائ آپ یقین کریں میں اپنے مکمل ہوش و حواس میں ہوں ۔آپ کو میری گفتگو سے بھی اندازہ ہوگیا ہوگا ۔
میں کئ دن سے ادھر ادھر پھر رہا ہوں ۔ایک صاحب مجھے اس پتے پر بھی لے گئے تھے جو میری جیب میں موجود شنا ختی کارڈ پر درج ہے مگر وہاں مجھے کسی نے نہیں پہچانا ۔میں اس وقت بہت پریشان حال ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں۔۔اس بوڑھے نے اچانک اپنے جھریاں زدہ ہاتھ میرے سامنے جوڑ دئیے۔۔۔میں انہیں اٹھا کر اپنی گاڑی تک لایا اور انہیں فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔۔ لاہور شہر کی دیکھی بھالی سڑکوں پر گاڑی چلاتے میں مطلوبہ پتے پر پہنچ چکا تھا۔
مطلوبہ عمارت کے سامنے پہنچ کر میں گاڑی سے اترا اور عمارت کے کالے اکھڑے پینٹ زدہ گیٹ پر دستک دی تھوڑی دیر بعد ایک بارہ سالہ بچے نے دروازہ کھولا میں نے اسے ابو کو بلانے کہا تو اس کی اگلی بات سن کر میرا وجود کانپ گیا۔۔۔اور میں بنا کچھ بولے گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی ایک دفعہ پھر لاہور کی سڑکوں پر دوڑا دی ۔
ایک شاندار سی عمارت سامنے تھے جس کے اوپر چاندی کے رنگ جیسے بڑے بڑے اردو الفاظ جگمگا رہے تھے۔میں نے گاڑی روکی اور بوڑھے کو گاڑی سے اتار کر اس عمارت کے مرکزی دروازے کی جانب بڑھا جب بوڑھے شخص کے الفاظ میری سماعتوں سے ٹکرائے۔۔
ارے یہی تو میرا گھر تھا اور میں یونہی در بدر ہو رہا تھا میں نے نم آنکھوں سے بزرگ کو دیکھا اور اولڈ ہوم کی عمارت کے دروازے پر کھڑے چوکیدار کے ہاتھ میں اس بوڑھے شخص کا ہاتھ تھما دیا۔ کیونکہ شناختی کارڈ پر لکھے پتے پر کھڑے بچے نے جب بتایا کہ ابو قبرستان چلے گئے اور دادا کو ماموں اولڈ ہوم چھوڑ آئے ہیں تو مجھے سارا معاملہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی تھی۔

0 Comments