" اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ"
عریشہ اقبال
تعلیم دراصل ان اہم عناصر میں سے ایک ہے جس سےانسان کی شخصیت اورکردارکی عکاسی ہوتی ہے،نیز اس کی تربیت کے
اندر بھی تعلیم ہی کا اثر نظر آتا ہے ۔ ہم بارہا کئی جگہوں پر پڑھتے بھی ہیں اور کئی مرتبہ ہماری سماعتوں سے بھی یہ بات گزرتی رہی ہے کہ " اگر تعلیم و تربیت ہی اچھی نہیں تو فائدہ کیا ہے" تعلیم کا لفظ درحقیقت علم سے نکلا ہے اور علم ہی وہ عنصر ہے،جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ" تم نہیں جانتے میں جانتا ہوں" اور اس جاننے پر ہی تو اللہ تعالیٰ کا پہلا حکم نازل ہوا تھا ۔
جب حضرت جبرائیل علیہ السلام غار حرا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو وحی کے ذریعے ان تک اللہ تعالیٰ کا پہلا حکم پہنچایا کہ اقراء"پڑھو" اب ہم خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم ہی وہ اہم ترین شے ہے جس سے کامیابی و کامرانی کی سیڑھیاں چڑھی جاسکتی ہیں اور تعلیم ہی وہ چیز ہے جس سے پستی و ناکامی کی راہیں عبور کرتے ہوۓ دلدل میں گرا جاسکتا ہے اور دلدل میں جب انسان گرجاتا ہے تو بجاۓ اس سے باہر نکلنے کے اندر دھنستا چلا جاتا ہے۔اب یہ تعلیم کے دونوں رخ آپ کے سامنے واضح ہیں اب کس راہ کو اختیار کرنا ہے وہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے آئیے تعلیم سے نکلے لفظ علم کو مزید گہرائی میں جاکر سمجھنے کی کوشش کریں جس علم کو سیکھنے کی ہم دوڑ دھوپ کررہے ہیں اس کا مقصود دراصل کامیابی ہے اور کامیابی کے مفہوم کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ علم ہے کیونکہ جب تک اس چیز کا علم نہیں ہوگا، جس چیز کو جاننے کی مجھے اور آپ کو تمنا اور خواہش ہے وہ لا حاصل ہی رہے گی کامیابی کیا ہے؟ حقیقی کامیابی تو وہ ہے جو اللہ نے بتائ ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھائی ہے اور سمجھائی ہے قرآن میں کامیابی کے لیے فلاح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مؤذن دن میں پانچ وقت حی الصلاۃ ، حی الفلاح "آؤ نماز کی طرف،آؤ کامیابی کی طرف پکارتا ہے اور نماز کیا ہے؟ نماز تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جاننے کا ذریعہ ہے اور ہم کیا سمجھ بیٹھے ہیں جس کامیابی کی پٹی ہماری آنکھوں پر ہمہ وقت بندھی ہے وہ حاصل کر لینا کافی ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہےبلکل نہیں ہے یہ جو تعلیم ہم اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حاصل کررہے ہیں۔ اس کی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف ایک صورت میں ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے اس کے ساتھ اس کے دین کا علم حاصل کر کے اس کی اقامت کا کام کیا جاۓ جس فریضے کے تقدس کا ہمیں بظاہر بہت خیال ہے ،وہ صرف خیالی پلاؤ کی ہی مانند ہوسکتا ہے، کیونکہ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جو تعلیم ہمیں فراہم کی جارہی ہے اور جس کی دوڑ دھوپ میں ہم اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے لیے تیار ہیں وہ ہمیں ہمارے فریضے سے غفلت برتنے پر ابھار رہی ہے بجاۓ اس سے سچی محبت و عقیدت رکھنے کے اور اس فریضے کے تقدس کا پاس رکھنے کے برعکس اس فریضے کو پامال کرنے اور ساتھ ہی اس کی دھجیاں اڑانے کے کام پر مامور ہے اور ہماری آواز نہیں اٹھتی ، ہماری آنکھیں نہیں کھلتی کیوں؟؟ کیونکہ واقفیت اور دلچسپی جس چیز سے ہوتی ہے تو پھر انسان وہی چیزیں اپنے عمل میں لے کر آتا ہے ۔
آج کے تعلیمی اداروں کا نصاب اور ماحول درحقیقت اللہ تعالیٰ سے دور کررہا ہے اور امت وسط" بہترین امت " کا اسٹیٹس ہمیں بنی اسرائیل سے لے کر دیا گیا!! وہ تو مفت میں اپنے ساتھ ساتھ لیے پھر رہے ہیں گویا شہیدوں میں نام لکھوانے کو انگلی کٹوا لی جاۓ مگر شاید اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ جو چیز اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتی ہے اس سے دوری کا باعث ہے وہ دراصل فتنہ ہے ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تعلیم ضروری نہیں تعلیم بہت ضروری ہے مگر اس کی آڑ میں اپنے مقصد حیات سے غفلت سراسر غلط ہے خدارا ہوش کریں اس چیز کو سمجھیں ورنہ جتنا زوال پذیر ہم ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی اللہ نا کرے کہ ہم شکست خوردہ ہو جائیں۔ نوجوان نسل قوم کا سرمایہ ہوتی ہے اور ہم تو قوم کا سرمایہ ہونے کے ساتھ ہی اپنے دین کا سرمایہ ہیں ۔اس حقیقت کو جتنا جلد تسلیم کر لیں گے عروج کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں گے اور ایک دن پرچم اسلام دنیا کے افق پر چھا کر رہے گا انشا ء اللہ تعالیٰ ! اقبال نے کیا خوب کہا ہے ۔
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ"


0 Comments