شہید بیٹی
لکھاری۔یاسمین کنول پسرور
دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح تھی۔جب نرما آمنہ اور بلال اذان کے وقت اٹھ بیٹھے تھے۔ان کی امی حیران ہوئیں پھر سوچا آج ضرور سکول میں کوئ ٹیسٹ ہو گاجس کی وجہ سے انہوں نےاس کی دہرائ کے لیے ایسا کیا ہوگا وہ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے اٹھ گیے تھے واقعی ان کا خیال درست ثابت ہوا تھا جب نرما نے بتایا کہ بھائ کا فزکس کا ٹیسٹ ہےاور آمنہ اور میرا ریاضی کا ٹیسٹ ہے۔بلال نویں جماعت میں اور آمنہ اور نرما چوتھی پانچویں میں پڑھتے تھے۔تینوں آرمی پبلک سکول میں جاتے تھے۔کیونکہ ایک تو وہ ان کے گھر سے قریب تھادوسرے ان کے ابو آرمی میں ہیڈ کلرک تھے۔اسلیے ان کا استحقاق بھی بنتا تھا۔وہ سب کینٹ ایریا میں رہتے تھے۔اور ان کا سکول سے گھرتک فاصلہ پیدل دس منٹ اور بأئک پر تین منٹ کا تھا۔تینوں خوش خوش آتےاور جاتے تھے۔کبھی ان کی امی ان کے ساتھ جاتی کبھی ابو چھوڑآتے اور کبھی کبھی وہ خودبھی چلے جاتے تھے۔
نماز کے بعد تینوں اپنی اپنی کتابیں کاپیاں لے کر بیٹھ گیے۔امی نے ناشتہ تیار کیا اور پہلی آواز پر ہی تینوں چلے آے۔امی خوش ہوئیں۔آج اچھے بچے بن گیےہیں ورنہ تو وہ کئ کئ بار بلاتی تب ناشتے کی میز پر آتے۔آمنہ نے بتایا۔امی ہماری مس نے کہاتھا امی ابو کا کہنا مانیں پو پیپرز اچھے ہوتے ہیں اس لیے آج ہم جلدی جلدی آپ کے پاس ناشتے کے لیےآگیے ہیں۔پیپرز نہ بھی ہوتے میں پھر بھی آتا ماں باپ کا کہنا تن ماننا چاہیے ناں۔ہمارے سر نے بتایا تھا با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب ہوتا ہے۔ جی بیٹا اس میں تو کوئ شک نہیں ناشتہ جاری تھا کہ ابو بہی السلام علیکم کہتے ہوئے ناشتے میں شامل ہو گیے۔وہ نماز کے بعد جاگنگ کے لیے باہر چلے گیے تھے گھر کے قریب ہی پارک تھا جہاں چھٹی والے دن بچے بھی کھیلنے کودنے جاتے تھے۔
ناشتے کے بعد یونیفارم پہنے گئے امی نے دونوں بچیوں کی پونیاں بنای ربن ڈالے جبکہ بلال نےاپنےبال خود ہی بنالیے جب سےوہ بڑی کلاس میں آیا تھاوہ اپنا خیال خود رکھتا تھا۔جبکہ نرما اور آمنہ ابھی چھوٹی تھیں۔ان کو بال بنانے میں امی کی مدد درکار ہوتی تھی۔صاف ستھرا یونیفارم اور چمکتے جوتےپہن کر تینوں نے آخری بار آئنہ دیکھا اور امی کی طرف دیکھنے لگے ہم تیار ہیں آج کس نے ہمارے ساتھ جانا ہے۔امی نے کہا آج تمہارے ابو کے آرام کا دن ہے۔وہ ٹایم پر آفس جائیں گے جبکہ میں آپ لوگوں کے ساتھ چلتی ہوں تاکُہ میری واک بھی ہو جائے امی نے چادر لی۔اور ان کے ساتھ ہو لیں۔راستے میں پیارے پیارے پودےسردی سے سہمےنظر آرہے تھے ابھی سورج ذرا اونچا ہو گاتو پھول کھلیں گے پودے خوش ہو جائیں گے۔ابھی سردی سے ٹھٹھرے نظر آتے ہیں۔امی نے کہا تو سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائ۔ابھی تھوڑی دور چلے ہوں گےکہ ان کی ہمسائ انٹی ستارہنظر آئ وہ بچوں کو چھوڑ کر واپس آ رہی تھیں۔السلام علیکم آج اتنی جلدی بچوں کو چھوڑ آئ بہن امی نے پوچھا تو وہ کہنے لگیں ٹیسٹ کی وجہ سے جلدی کا کہہ رہے تھے چھوٹی رامین نےایک سوال اپنی مس سے سمجھنا تھاجو باربار غلط ہو رہا تھا۔اس لیے جلدی کی ہے اچھا خدا حافظ کہتے ہوئےوہ گھر کی طرف روانہ ہو گئیں جبکہ بلال اور اس کی بہنیں امی کی باتوں سے لطف اٹھاتےسکول کی طرف رواں دواں رہے۔
گیٹ پر خدا حافظ کہتے ہوئے امی نےآمنہ نرما اور بلال کا بوسا لیا اور دعائیں دی اللہ آپ کو کامیاب کرے میرے بچو اور واپسی کے لیے مڑ گئیں .
![]() |
| pixabay |
قرآنی آیات کا ورد کرتے کرتے وہ گھر کی دہلیز پر آگئیں بلال کے ابو کو جائے بنا کر دی اور تیاری میں ان کی مدد کرنےکے بعدباورچی خانے کی صفائ کرنے لگیں ان کے دل میں عجیب عجیب خیال آرہے تھے۔اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔انہوں نے خیالات کو جھٹکا اور ٹی وی پر خبریں سننے لگیں ۔ساتھ وہ لہسن چھیل رہی تھیں۔تاکہ دوپہر کوبچوں کے آنے سے پہلےتازہ ہانڈی تیار کر لیں۔ابھی خبریں مکمل بھی نہ ہوئیں تھیں کہ آنٹی ستارہ پریشان حالت میں کمرے میں داخل ہوئیں۔ارے آپ؟؟کیا ہوا بہن؟ وہ موٹر سائکل پر ایک آدمی گھر کے قریب سے گزرا ایک آدمی کو بتا رہا تھاکہ بچوں کے سکول میں فائرنگ ہوئ ہے۔کیا؟!؟بلال کی امی گرتے گرتے بچی۔کوئ غلط فہمی ہوئ ہو گی ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔گیٹ پر چوکیدار موجود ہیں کوئ کیسے اندر جاسکتا ہے؟؟بہن مجھے خود بھی آوازیں آئ تھیں۔آپ نے ٹی وی لگایا ہےآپ کو سنائ نہیں دی۔دور سے گولیاں چلنے کی آوازیں صاف سنائ دے رہی تھیں۔ستارا آنٹی نے کہا تو بلال کی امی روہانسی ہو گیں۔
آؤ چل کر دیکھتے ہیں کیا صورتحال ہے۔ستارہ آنٹی نے کہا تو امی چادر لے کر ان کے ساتھچلی گئیں ۔ایک ایک قدم دو دو من کا ہورہاتھا۔وہی فاصلہ جو دس منٹ میں طے ہونا تھا بیس منٹ میں طے ہوا سکول گیٹ بند تھا اور باہر لوگو ں کا ہجوم۔بچوں کی مائیں پریشان کھڑی تھیں۔کچھ رو رہی تھیں۔کچھ گھر فون کر رہی تھیں۔اور ایک دو توگیٹ پر زور زور سےہاتھ مار رہی تھیں اور گیٹ کھولو ہم نے اپنے بچوں سے ملنا ہے کہتی چلی جا رہی تھیں عجیب پریشان کن منظر تھا۔کوئ چہرہ بھی پریشانی سے خالی نہ تھا۔فوجی جوانوں نے سکول کی عمارت کو گھیر رکھا تھا۔اور وہ سب کو گھروں میں جانے کا کہ رہے تھے نہیں میں اپنے بچوں کو لے کر جاؤں گی ستارہ آنٹی نے کہاتو بلال کی امی نے بھی ہاں میں ہاں ملائ۔آپ کے بچے جس حال میں بھی ہوں گے آپ کے گھر پہنچ جائیں گے۔پلیز آپ گھر چلی جائیں ۔انہوں نے سب لوگو ں کو چلے جانے کا حکم دیا۔تو چاروناچارسب کواپنے اپنےگھروں کی راہ لینا پڑی۔
شام کا سورج ڈھلنے کے قریب تھا سرد موسم میں تھکا ہاراسورج خداحافظ کہنے کو بے تاب تھا۔اور زمین والوں کی سردی میں مذید اضافہ ہونے والا تھا۔ایسے میں بلال کے گھر کے دروازے پر زور سے دستک ہوئ تو بلال کی امی دوڑی دوڑی آئیں۔دروازہ تو پہلے ہی کھلا تھاپھر دستک دی؟ انہوں نے خود سےسوال کیا ۔دروازےکے باہرکے منظر پر نظر پڑتے ہی وہ گرتے گرتے بچیں بلال کے ابو دوسرے فوجیوں کےساتھ ایک تابوت کو پکڑےکھڑے تھے۔ایک طرف بلال پٹیوؤں میں جکڑا کھڑا تھا تو دوسری طرف نرما۔آمنہ آمنہ کدھر ہے؟میری بیٹی آمنہ کہاں ہے انہوں نے تابوتکو دیکھتے ہوۓ کہا۔وہ اللہ کی امانت تھی اللہ نے واپس لے لی بلال کے ابو نےاسے پیچھے ہٹاتےہوۓ تابوت اندر لانے میں فوجی جوانوں کی مدد کی بلال کی امی یہ بات سن کر بے ہوش ہو چکی تھیں گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔پتہ نہیں اتنے لوگ کہاں سے آگیے تھے۔کسی نے بلال کو بیڈ پر لٹایا کسی نے نرما کو گلے لگایا کسی نے بلال کی امی کو اٹھاکرکمبل دیا جو سردی اور صدمے سے بے ہوش تھیں۔بلال کے ابو کی آنکھیں نم تھیں اور صدمہ ان کے چہرے سے ہویدا تھا۔لیکن وہ ایک پاکستانی فوجی تھےبہادر اور ثابت قدم رہنے والے۔اپنی اولاد کی قربانی پر بھی ان کے حوصلے نہیں ٹوٹے تھے۔جو دنیا میں آیا ہے اس نے واپس تو جانا ہے۔مگر شہادت کی موت ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ہماری آمنہ ہماری پیاری بیٹی کو اللہ نےاس کے لیے منتخب کیا۔مجھے فخر ہے میں ایک شہید بیٹی کا باپ ہوں وہ لوگوں کی ڈھارس پر بار بار یہی بیان دے رہے تھے۔جو بچے پڑھنے کے لیے سکول جاتے ہیں ان کی کسی وجہ سے اگر موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ شہید ہیں۔اور شہید کامقام بہت بلند ہے اسلام میں شہادت کادرجہ بہت ذیادہ ہے ۔آمنہ بلا شبہ کمسن شہید ج تھی ایک فوجی کی بیٹی جس نے شہادت کا رتبہ حاصل کر لیا تھا ۔ اسکے ساتھ ایسی بچیاں اور بچے بھی شہید ہوے تھے جن کے باپ فوجی نہ تھے وہ سب شہادت کے رتبے پر فائز ہو چکے تھے۔۔. .
ختم شد

4 Comments
میں آپ کی تحریر پڑھ کر بہت روئ ہوں۔شہید کی ماں کو اللہ صبر دے۔۔بہت بڑا صدمہ ہے