محنتی لڑکا
زونیرا شرافت (لاہور)
![]() |
| Pixabay |
ذیشان اپنے گھر کا اکلوتا بیٹا تھا بہت ہی لاڈلہ تھا۔ اس کی ہر بات مانی جاتی تھی۔ اس کی ایسی کوئی خواہش نہیں تھی جو پوری نہ ہوئی ہو. اس کا والد کسان تھا کھیتوں میں ہل چلایا کرتا تھا . ذیشان اکثر سکول سے سیدھا کھیتوں میں چلا جاتا تھا اور اپنے والد کو کام کرتے دیکھتا رہتا تھا اور آخر کھیتی باڑی کا کام ذیشان بھی سیکھ گیا . ایک وقت ایسا آیا کہ ذیشان کا والد بیمار رہنے لگا اب ذیشان کے علاوہ گھر کو کوئی نہیں دیکھنے والا تھا . ذیشان اب دن رات اسی سوچ میں رہتا کہ گھر کو کیسے چلایا جائے ؟ ایک دن اس نے سوچا کیوں نہ اپنے والد کے کام کو میں سنبھال لوں. اس طرح وہ روزانہ صبح جلدی اٹھتا اور کھیتوں میں چلا جاتا اور اپنے کام میں مگن ہو جاتا . حالانکہ اتنا محنت کا کام اس کے لیے بہت مشکل تھا . اس کے دماغ میں یہ بات بھی آتی تھی کہ میری تو کتنی آسانی سے ہر خواہش پوری ہو جاتی تھی اور آج پتا چل رہا ہے کہ میرا باپ میرے لیے کتنی محنت کرتا تھا اور میرے ہر لاڈ اٹھاتا تھا.
خیر دن گزرتے گئے اب سردیوں کے دن شروع ہو گئے اور اتنی سردی میں کام کرنا نہایت مشکل تھا. وہ تھوڑا کام کرتا اور پھر چھوڑ کر آ کر بیٹھ جاتا کیونکہ سردی کے باعث اس کے ہاتھ بہت ٹھنڈے ہو جاتے اور کام کرنا ناممکن ہو جاتا تھا وہ سوچنے لگا کہ اب کیا ایسا کِیا جائے جس سے کام ہوتا رہے کیونکہ کام کرنا بھی ضروری ہے اور ابھی اِسی ترکیب میں گم تھا کہ اتنے میں اس کی بیوی ( سدرہ) نے اسے آواز دے دی .جو کہ اس کے لیے کھانا لائی تھی . وہ کھانا درخت کے نیچے گھاس پر رکھ کر بیٹھ گئی اور ذیشان نے سوچا کیوں نہ آگ جلا لی جائے وہ درخت کو کاٹنے لگا لیکن ناکام رہا اس نے بوتل توڑی اور وہ درخت کے سوراخ میں گھسا دی اور اب دوبارہ درخت کو کاٹنے کی کوشش کرنے لگا اس بار وہ کامیاب رہا . سدرہ اور ذیشان نے لکڑیاں اکٹھی کیں اور آگ جلا لی۔ ذیشان آگ جلنے کی خوشی میں کودنے لگا اور درخت پر چڑھ گیا کیوں کہ محنت رنگ لے آئی تھی. سدرہ آگ کے پاس بیٹھ کر ذیشان کے لیے انڈے چھیلنے لگی اور ذیشان سے کہنے لگی "چلو اب نیچےاتر بھی آؤ ذیشان آ کر گرما گرم انڈے کھا لو."
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

4 Comments