Hifsaalmas

Digital Muhabbat by Bint-e-Hamid

 از بنت حمید

 ڈیجیٹل محبت 

Unplash 


سب سے بڑھ کر عورت کے لیے اس کی عزت ہونی چاہیے جب وہ اپنی عزت داؤ پر لگا دیتی ہے تو اسکے پاس کچھ نہیں بچتا۔

ہائے کیسی ہو!

میں ٹھیک آپ بتاؤ؟

ابھی تک سوئی نہیں۔

آپ سے بات کیے بغیر کیسے سو سکتی تھی؟

(رات کی تاریکی عروج پر تھی اور گھڑی رات 1 بجے کا وقت دکھا رہی تھی انشال اور آفاق رات گئے ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔)

انشال! "جی امی" رات گئے موبائل پر کیا کر رہی ہو؟ ارے وہ آ آ کچھ نہیں بس پانی پینے اٹھی تھی اب نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا موبائل یوز کر لوں۔(پریشانی انشال کے چہرے سے جھلک رہی تھی ۔ دسمبر کی سرد راتوں میں بھی گبھراہٹ کے مارے انشال کے پسینے چھوٹنے لگے ۔)اچھا چلو کوشش کرو سونے کی صبح یونیورسٹی سے لیٹ ہوجاؤ گی ورنہ ۔ جی امی بہتر۔ 

امی جی ناشتہ ابھی تک نہیں بنا ؟ ہاں ہاں بس بنا رہی ہوں صبر کرو۔(ہمیشہ کی طرح انشال آج بھی یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہو چکی تھی)امی پھر اب رہنے دیں میں جارہی ہوں ۔یونی سے ہی کچھ کھا لوں گی۔ "ہاں وہاں سے کھا لینا اور پھر پیٹ خراب کی داستانیں بھی مجھے ہی سنانا" (انشال ایسی ہی تھی لاپروا , جذباتی, جلد باز اور نازک ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پر رونے والی لیکن غصہ آسمان جتنا ,پوری بات سنے بغیر ری ایکٹ کر دینے والی لیکن دل اسکا بہت بڑا ۔ایک حسین خوبصورت نوجوان لڑکی جو یونی کے ہر لڑکے کا کرش۔)

ہاں ہاں نکل گئ ہوں بس پانچ دس منٹ تک پہنچتی ہوں ۔ اپنی دوست رائمہ کی کال سنتے ہوۓ انشال نے کہا۔ ارے بابا کہا نا بس آرہی ہوں۔ ہاۓ کیسی ہو؟ ابھی رائمہ کی کال چل رہی تھی کہ انشال کو میسج رسیو ہوا میسج دیکھتے ہی انشال نے کال کاٹی اور جواب دینے لگی۔ "ہاں میں ٹھیک آپ کیسے ہیں؟" میسج کرتے ہوۓ انشال کے چہرے پر ایک الگ ہی مسکراہٹ تھی چہرہ مانو جیسے چمک رہا ہو ۔آنکھیں جو پہلے ہی موٹی اور کاجل جو مزید اسکی انکھوں کو چار چاند لگارہا تھا اس کو چہرے کی مسکراہٹ نے مزید خوبصورتی بخش دی۔ میسج آفاق کا تھا ۔ آفاق سے بات کرتے ہوۓ انشال کہاں کھو جاتی تھی یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔ انشال آفاق سے کبھی نہیں ملی تھی لیکن اس سے بات کرتے ہوۓ وہ ایسا محسوس کرتی تھی جیسے صدیوں سے اسے جانتی ہو۔ آفاق سے انشال کی بات چیت کا سلسلہ تقریباً ایک سال پہلے فیسبک سے ہوا تھا اور کب وہ پرسنل لائف تک اٹیچ ہو گۓ پتا ہی نہ چلا ۔

بی بی او بی بی بات سنو ! (انشال موبائل میں اس قدر ڈوب چلی تھی کہ وین والے بھائی کی آواز سننے سے بھی قاصر تھی) آہ ہاں ہاں جی کیا مسٔلہ ہے؟ باجی کب سے آواز دے رہا ہوں سکول آگیا آپ کا۔ ارے ان پڑھ سکول نہیں یونیورسٹی ہے یہ چار جماعتیں پڑھ لی ہوتیں تو فرق معلوم ہوجاتا خیر پکڑو پیسے اور چلتے بنو۔ سارا موڈ خراب کر دیا میرا پاگل انسان۔ منہ بسورتے ہوۓ یونیورسٹی میں داخل ہوئی شروع میں ہی رائمہ نہایت سلیقے سے کرسی پر بیٹھی تھی ۔ ارے نقاب پوش یہاں بیٹھی کیا کررہی ہو؟ (رائمہ ایک سلجھی ہوئی نیک , بااخلاق مذہبی لڑکی جو تحمل پسند ہے)آہ انشال ڈرا ہی دیا مجھے ۔ بس کرو رامی تم اور ڈر ایک ساتھ اووف ہو ہی نہیں سکتا ۔ اچھا چلو جلدی کلاس لینی ہے آگے تمھاری وجہ سے دو کلاسز مس کر دی ہیں ۔اچھا جی چلو چلو۔ پہنچ گئیں ہیں آپ یونی؟ جی جی(موبائل پر میسج آتا ہے اور انشال فوراً میسج دیکھ کر جواب دینے لگتی ہے)اوووف انشال حد ہے کبھی تو موبائل چھوڑ دیا کرو۔ہاں ہاں چلو چلو میں آرہی ہوں۔ 

کیسی رہی کلاس ؟ کلاس کی بچی تم یہ بتاؤ مجھے جانے کا کہہ کر تم کیوں نہیں آئی۔اوہ یارا ایک ضروری میسج آگیا تھا۔ ضروری میسج ؟ ھمم ۔ دیکھو انشال مجھے تمھاری حرکتیں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہیں بہت وقت سے نوٹس کر رہی تھی اب تو شک ہے مجھے تم پر ۔ارے یار تم بھی نا امی ابو کی طرح شکی ہو۔ نہیں انشال ماں باپ شکی نہیں ہوتے بس فکر کرتے ہیں۔ہاں ہاں بس کرو یہ لیکچر اپنا۔ انشال بتاؤ کیا چکر ہے اب تو شک یقین میں بدل گیا ہے۔اچھا پھر سنو جی۔آپ کی دوست کو محبت ہو گئ ہے۔ ہیں؟ ہاں نا محبت ہو گئ ہے مجھے ۔لیکن کس سے۔ رائمہ نے انشال کی طرف حیرت سے دیکھا ۔ارے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے شرم آرہی ہے۔انشال کیا بیہودہ باتیں کررہی ہو مجھے تفصیل سے بتاؤ معاملہ کیا ہے۔اچھا سنو تقریباً نو ماہ پہلے فیبسک پر میری بات آفاق سے ہوئی اور یوں آہستہ آہستہ ہم میں دوستی ہو گئ اب ہمارے پاس ایک دوسرے کے پرسنل نمبر ہیں اور اس وقت سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔میں تو کہہ چکی ہوں انہیں کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔اوہ میرے خدایا ! انشال تم پاگل ہو کیا؟ یہ چار دن کی باتیں تم نے اسے اپنا جیون ساتھی بنانے کا سوچ لیا۔ ارے کہاں چار دن یار سال ہونے والا ہے ہمیں۔ اچھا تو تم کبھی اس سے ملی ۔نہیں تو۔ کبھی اسے دیکھا نہیں نا مجھے فرق نہیں پڑتا کہ وہ خوبصورت ہے کہ نہیں بس وہ اچھا ہے بہت ہے۔ پاگل لڑکی بات خوبصورتی کی نہیں ہے بات یہ ہے کہ کیا بھروسہ جس کے ساتھ تم محبت کے باغ سجانے کی بات کررہی ہو وہ واقعی ایک اچھا انسان ہے بھی کے نہیں اور دوسرا یاد ہے نہ مجھ سے چھپ کر جب ساحل کے ساتھ ایک تعلق بنا چکی تھی تم۔ یار تم اپنے ماں باپ کو جانتی ہو نا کہ کس طرح اعلی تعلیم دلوا رہے ہیں وہ تم پر بھروسہ کرتے ہیں اور تم ان سے دغا کر رہی ہو۔یہ چار دن کی ڈیجیٹل محبت تمھیں اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز ہے۔انشال زور دار تھپڑ رائمہ کے منہ پر رسید کرتی ہے۔اوففف بس کرو رائمہ جاؤ یہاں سے دفع ہو جاؤ ۔تم کچھ نہیں جانتی محبت کیا ۔تم بھی دقیانوسی ہی ہو۔جیسے سب ہیں۔رائمہ بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئ۔رائما جانتی تھی کہ ابھی انشال کچھ سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔

تین دن گزر چکے تھے انشال اور رائمہ نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی تھی۔اب انشال کو اپنے کیے پر افسوس ہونے لگا۔

"کیا ہوا؟ آج اچھے سے بات نہیں کررہی آپ" افاق کا میسج دیکھ کر انشال سب بھلا کر اسے ریپلاۓ کرنے لگی۔کچھ نہیں بس موڈ خراب تھا۔ اچھا میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں ۔پوچھ لوں؟ جی جی ایک کیوں ہزار پوچھیں۔ ہاہاہاہاہاہا واقعی۔اچھا مجھے یہ بتائیں ایک سال ہونے والا ہے ہم دونوں کبھی ایک دوسرے سے نہ ملے نہ کبھی میں نے آپ کو دیکھا۔ آج کا دور کہا سے کہا پہنچ گیا ہے ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لیکن میں نے آپ کو دیکھا بھی نہیں کبھی۔"ایک منٹ کیا کہا آپ نے؟ کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں" جی جی تو کیا ایسا نہیں ہے؟ جی ہاں ایسا بلکل نہیں ہے۔ آفاق یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ,آپ مزاق کررہے ہیں نا؟ میں بھلا کیوں مزاق کروں گا کیا میں نے کبھی ایسی بات کہی کہ آپ کو چاہتا ہو یا محبت کرتا ہوں یہ باتیں تو آپ ہی کرتی ہیں میڈم اپنی تصاویر شئیر کرتی ہیں جبکہ آج تک میں نے کبھی نہیں مانگی۔ آفاق آپ مجھے ہرٹ نہ کریں آپ مزاق ہی کر رہے ہیں یقیناً۔انشال ہوش میں آؤ میں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ انشال کے پیروں تلے سے جیسے زمین کھسک گئ ہو وہ بلکل ساکن ہوگئ رنگ زرد پڑگیا اور موبائل ہاتھ سے گرچکا تھا ۔وہ سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔اس کے دماغ میں اب بس رائمہ کی باتیں گھوم رہی تھیں۔(ڈیجیٹل محبت,تمھارے ماں باپ۔تمھاری عزت)یہ کیا کر دیا انشال تم نے یہ تو واقعی ٹھیک ہے کہ کبھی اس نے ایسا نہیں کہا ۔آہ میرے خدایا یہ کیا کر دیا میں نے۔ابھی وہ اس صدمے سے باہر نکلتی اسے احساس ہوا کہ وہ تو آفاق کے ساتھ اپنی تصاویر بھی شئیر کرتی رہی ہے۔ کیا ہوا آپ چپ ہی کر گئیں ؟انشال کے موبائل پر رینگ ہوتی ہے یہ کال رائمہ کی تھی ۔آہ رائمہ تو جیسے میرے برے وقت کو جانتی ہو ہر دفعہ موقعے پر میرے قریب ہوتی ہے اور ایک میں جو اسے نہ جانے کیا کیا کہہ بیٹھی تھی۔دیکھیں آپ جواب تو دیں ۔اوہ بس کریں مجھے معاف کریں میں بات نہیں کرنا چاہتی۔انشال اپنے اندر شرمندہ بھی تھی اور غصے میں بھی کہ غلطی تو اس کی اپنی ہے آفاق نے تو واقعی کبھی ایسا کچھ نہیں کہا تھا جیسا وہ سمجھ بیٹھی تھی۔

ایک ہفتہ گزر چکا تھا آفاق مسلسل میسجیز کررہا تھا لیکن انشال کوئی جواب نہیں دے رہی تھی۔انشال یونیورسٹی میں تھی جب آفاق کی کال آنے لگی۔جب سے انشال کا رابطہ آفاق سے ہوا تھا اس نے پہلی دفعہ اسے کال کی تھی۔انشال نے نہ چاہتے ہوۓ بھی کال ریسیو کرلی وہ آخر محبت تو کرتی تھی اور اب شاید وہ اسکی آواز سننا چاہتی تھی۔ہیلو بتائیں کیا مسئلہ ہے ؟ انشال نے بھڑکتے ہوئے انداز میں کہا ۔کیسی ہیں آپ؟ یہ آواز جانی پہچانی معلوم ہورہی تھی یہ آواز کسی مرد کی تو نہیں لگتی آہ یہ آواز یہ آواز تو۔ پیچھے سے ایک دم رائمہ سامنے آگئ اور زور زور سے ہنسنے لگی ۔آہ وہ رائما تھی یعنی آفاق تو کوئی تھا ہی نہیں ۔رائما بس ہنسے ہی جارہی رہی تھی اور انشال ابھی بھی حیرانی سے صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی۔رائمہ وہ تم تھی تم آفاق بن کر بات کررہی تھی اور میں شروع دن سے تمھیں ! انشال خاموش ہوگئ ۔وہ اب پہلے سے زیادہ شرمندہ ہوگئ کہ آخر اتنے وقت سے اسے بےوقوف بنایا جارہا تھا۔انشال تیزی سے وہاں سے نکلی اور کمپیوٹر لیب کے سامنے آکر رکی رائمہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آگئ۔یار رائمہ یہ سب کیا تھا۔یہ وہی تھا جو ہونا چاہیے تھا۔لیکن یہ سب کرنے کی کیا وجہ تھی؟ اچھا تو پھر سنو یاد ہے نا جب ساحل سے تم نے دھوکا کھایا تھا اور بعد میں اپنے تعلق کے بارے میں مجھے بتایا تھا میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر تم نے یہ غلطی کیسے کی یعنی کسی بھی لڑکے پر بھروسہ کیسے کرسکتی ہو اسی لیے بس کچھ ماہ بعد ہی آفاق کے نام سے آئی ڈی بنائی اور تم سے رابطہ شروع کیا اور میں بےحد مایوس ہوئی اس دن جب تم نے مجھے اپنا پرسنل نمبر آرام سے دے دیا۔ جبکہ میں تمھاری نظر میں آفاق تھی اور ایک مرد۔دیکھو انشال میں مانتی ہوں انسان کو محبت ہو جاتی ہے لیکن اپنی حیاء داؤ ہر نہیں لگانی چاہیے اس دن جب تم نے میرے منہ ہر تھپڑ مارا تو میں سمجھی تھی تم کچھ تو سوچو گی اور میرا خیال تھا کہ تم آفاق کو چھوڑ دو گی لیکن تم تو شادی تک پہنچ گئ۔تمھاری عزت تار تار کرسکتا تھا اگر وہ واقعی لڑکا ہوتا۔اب رائمہ پھر ہسنے لگی۔ ھمم ٹھیک کہتی ہو میں غلط تھی ۔خیر کیا کر سکتی ہوں۔"بہن کچھ بھی کر لینا لیکن اس ڈیجیٹل محبت سے دور رہنا" دونوں زور زور سے ہنستے ہوئے اپنی کلاس کی طرف ہو لیں۔

Post a Comment

0 Comments