کاش
طیبہ تبسم
![]() |
| Pixabay |
شاید تم بھول چکے ہوہ آخری ملاقات
مگر مجھے یاد ہے
میں اس کے سنگ پوری زندگی بیتا سکتی ہوں
شاید تم جان ہی نہیں سکے
کاش میں تمھیں اپنی روح دکھا سکتی
کیسے وہ سسکیاں لیتے دم توڑ رہی ہے
میرا وجود تو دنیاوی تھا
بس اسی لیے وہ ٹھیک رہا
مگر میری روح کتنے ہی ٹکڑوں میں
ڈھل گئ
مجھے تمھاری محبت نے دیمک کی
طرح چاٹ لیا
اے کاش تم آجاؤ
اور شاید میری باقی کی زندگی
سکون میں جائے
کاش!

0 Comments