Hifsaalmas

Ikhlaq by Hifsa Almas

 اخلاق

از قلم حفصہ الماس


ہمارا اخلاق ہماری تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو الفاظ ہم اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں وہ ہمارے معاشرے کی دین ہوتے ہیں۔ ہمارا اٹھنا،بیٹھنا،ملناجلنا کن لوگوں سے ہے؟ وہ کون ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ کیسے رہتے ہیں؟ حتی کہ ہمارے معاشرے میں اردگرد جو بھی ہو رہا ہوتا ہے اس کا اثر انسانی زندگی پہ ضرور ہوتا ہے۔جوسیکھتے ہیں ہمیشہ وہی الفاظ ہم ادا کرتے ہیں۔

اگر ہم کسی سے پیارومحبت، عزت و احترام اور توجہ سے بات کر لیں تو یہ احسن اخلاق کے زمرے میں آتا ہے اور 

" اخلاق کا اچھا ہونا اللہ سے محبت کی دلیل ہے بےشک جو اللہ سے محبت رکھتے ہیں وہ اللہ کی مخلوق سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔"

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

"تم میں سے مجھ کو وہ شخص بہت پیارا ہے جس کا اخلاق اچھا ہو۔"(صحیح بخاری)

Pixabay 


لیکن اگر ہم ہر ایک کو کاٹ کھانے کو دوڑیں، بات بات پہ طعنہ دیں،خود کو کوئی توپ چیز سمجھتے ہوئے ادب و لحاظ کے بغیر بحث کر نا اپنا فرض سمجھیں تو یہ ہمارے برے اخلاق کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ہم کسی سے اچھے اخلاق سے پیش نہیں آتے لوگ نہ ہمارا قصور بناتے نہ معاشرہ کا لیکن وہ آپکی تربیت پہ ضرور انگلی اٹھاتے ہیں تب انکی زبان پہ یہ لفظ ضرور ہوتے ہیں، 

"ماں باپ نے بچوں کی تربیت اچھی نہیں کی۔"

لیکن ماں باپ بچوں کو کچھ سکھائیں بھی تو کیسے ؟

آہ! یہی تو المیہ ہے کہ اس دور کی زندگی کی باگ دوڈ میں بچوں کے پاس بیٹھنے کیلئے نہ تو والدین کے پاس وقت ہوتا ہے اور نہ ہی والدین کے پاس کوئی وقت ہوتا ہے بچوں کیلئے۔ نتیجہ وہی ہے والدین بچوں کوکچھ سکھا نہیں پاتے، کچھ بتا نہیں پاتےاور انکی تربیت اس قابل نہیں بنا پاتے جو قابل بیاں ہو۔

اگر کچھ والدین ایسا کر بھی لیں تو ان کے بچے جن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں وہ ان کو بگاڑنے میں غلط کردار ادا کرجاتے ہیں ۔

بچوں کو شروع سے ہی اچھی تربیت دینی چاہیےکہ چھوٹوں بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے، بڑوں کیلئےکیا الفاظ استعمال کرنے ہیں، کن کے ساتھ اپنا فارغ وقت گزارنا ہےاور کس سے بچنا ہے تاکہ وہ کچھ اچھا سیکھیں اور ان کا اخلاق قابل بیاں ہو نہ کہ قابل پشیماں۔

اور بقول شیخ سعدی، 

"اگر تم چاہتے ہو تمہارا نام باقی رہے تو اپنے بچوں کو اخلاق سکھاؤ۔"

ختم شد



Post a Comment

0 Comments