غزل
محمد زبیر زائر(گگومنڈی)
![]() |
| Pixabay |
رواں آج آنکھوں سے میری لہو ہے
نہیں غم, اگر یہ تری آرزو ہے
مرے خواب اجڑنے پہ جو لوگ خوش تھے
انھیں بھی تو اب , نیند کی جستجو ہے !
جو غیروں نے لوٹا تواپنوں نے روندا
سبھی ہیں منافق, ہر اک شے عدو ہے
"ظلوماجهولا "پکارے مجھے وہ
یہ اعزاز ہی تو مری آبرو ہے
ترے در کی چوکھٹ پہ آنسو بہا کر
سناؤں غم جاں ,بڑی آرزو ہے
تری یاد ہو جس میں دل ہے وہی بس
ترا ذکر ہو جس میں ،وہ گفتگو ہے
خزاں میں بھی اجڑا نہیں ہوں میں" زائر"
سہارامرا ایک "لاتقنطو "ہے
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

0 Comments