صبر
بنتِ یوسف۔ رحیم یار خان
![]() |
| Unplash |
استاد:پیارےپیارےبچوں!کسی کوپتاہےصبرکیا ہوتاہے؟
زین:سرکوئی چیزہمیں چاہیے،لیکن وہ ہمیں نہیں مل رہی یانہیں مل سکتی،اس پہ خاموش ہوجانا اسےصبرکہتےہیں۔
استاد:ماشاءاللہ زین نےہمیں بتایاصبرکیاہوتاہے۔ کوئی اوربچہ بتائےگا؟
حسن:سراگرکوئی چیزہم سےچھین جائےجوکے ہمیں بہت پیاری ہو،اس کےچھین جانےپرواویلا نہیں کرنا،غصہ نہیں کرنااسےصبرکہتےہیں۔
استاد: ماشاءاللہ حسن نےہمیں صبرکےبارےمیں بتایا۔اب کوئی بچہ یہ بتائےگاکہ ہم صبرکیوں کریں؟غصہ کیوں نہ کریں؟چیخیں کیوں نہ؟
عائشہ:سرہمیں صبراس لیےکرناچاہیےکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:"اللہ صبرکرنےوالوں کےساتھ ہیں"
استاد:گڈ ماشاءاللہ عائشہ نےہمیں قرآن کی آیت پڑھ کربتایاکہ اگرہم اللہ کاساتھ چاہتےہیں تو ہمیں صبرکرناآناچاہیے۔کوئی اوربچہ بتائےگاکہ ہم صبرکیوں کریں؟
عون:سرہوسکتاہےکہ جوچیزہم اللہ سےمانگ رہیں ہیں وہ ایک خاص وقت میں ہمیں ملنی ہو،اور اس خاص وقت میں ہی اُس چیزکاملناہمارےحق میں بہترہواس لیےبھی ہمیں اس خاص وقت تک صبرکرناچاہیے۔
ثناء:سراللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہےکہ انسان اپنےلیےشرمانگ رہاہوتالیکن اس کوپتابھی نہیں ہوتا،ہوسکتاہےجوچیزہم اللہ سےمانگ رہیں ہیں وہ ہمارےحق میں بہترنہ ہو،اللہ نےہمیں اس سے بھی بہترچیزسےنواز ناہو۔اگروہ چیزہمیں نہیں مل رہی توہمیں صبرکرناچاہیے۔
استاد:گڈ ماشاءاللہ سب بچوں صحیح جواب دیا۔
استاد:کوئی بچہ بتائےگاصبرکس وقت کیاجاتا ہے؟
نمرا:سرصبراس وقت کرتےہیں جس وقت ہمیں کوئی صدمہ یاتکلیف پہنچے،تکلیف یاصدمےکی پہلی چوٹ پہ۔
استاد:ماشاءاللہ نمرانےہمیں بتایاصبروہ ہوتاہے جوصدمےکی پہلی چوٹ پرکیاجائے،مطلب ایسے نہیں کرنا چاہیے کہ صدمے یا پریشانی ملنے پر شکوے شکایات کےانبارلگادوں،بعد میں توہر کسی کوصبرآہی جاتا ہے۔
استاد:کوئی بچہ یہ بتائے گاکہ جب ہمیں کوئی پریشانی یاتکلیف پہنچےتوہمیں کیاکہناچاہیے؟
ولید:سرہمیں کہناچاہیے"الحمدللہ علی کل حال"
"ان للہ وانا علیہ راجعوں"
استاد:جی توپیارےپیارےبچوں!یہ دودعائیں جو ہمیں ولیدنےبتائیں ان کواچھےسےیادکرلوں،جب بھی آپ کوکوئی تکلیف یاپریشانی کاسامناہوں تو آپ نےیہ دونوں دعائیں پڑھنی ہیں اوراپنی زبان پہ کوئی شکوہ نہیں لانا۔
استاد:پیارےبچوں!آپ میں سےکسی کوپتاہےکہ "صبرجمیل"کیاہوتاہے؟
ناصر:سر"صبرجمیل"خوبصورت صبرکوکہتے ہیں۔
استاد:صبرکیسےخوبصورت ہوسکتاہے؟کوئی بچہ بتائے گا۔
علی:سرخوبصورت صبروہ ہوتاہےجس میں شکوہ نہ ہو،کوئی شکایت نہ ہو،جس میں ہرفیصلےکو اللہ کاحکم سمجھ کر قبول کر لیا جاۓ۔
استاد:ماشاءاللہ علی نےبہت اچھی بات کی۔
استاد:کوئی بچہ مجھےکوئی سےبھی دونبیوں کے صبرکرنےکےواقعات بتائےگا؟
ارم:سرحضرت یعقوبؓ نےصبرکیاتھااپنےبیٹےکی جدائی پراورحضرت ایوبؓ نےاپنینبیماری پرصبر کیاتھا۔
استاد:ماشاءاللہ ارم اللہ آپ کےعلم میں اضافہ کرۓ۔
استاد:اب مجھےکوئی بچہ یہ بتاۓگاکہ اللہ کیوں چاہتاہےکہ ہم صبرکریں؟
زینب:سرکیوں کہ اللہ تعالی کھرےاورکھوٹےکو الگ کرناچاہتاہے،اللہ تعالی دیکھناچاہتاہےکہ کون کون میری رضامیں راضی ہے،کون کون میرےلیے اپنی پسندکوقربان کرسکتاہےاوراس چیزکواپنی پسندبنالیتاہےجومیں نےاس کےلیےپسندکی ہے۔
استاد:جی زینب نےبالکل ٹھیک کہا۔
استاد:اچھاپیارےبچوں کوئی یہ بتائے گاکہ صبر کرنااتنامشکل کیوں ہوتاہے؟
فائزہ:سرکیوں کہ انسان فطرتاًجلدبازہےہرچیز بہت جلدحاصل کرناچاہتاہے۔
استاد:بالکل فائزہ آپ نےٹھیک بتایا۔
استاد:اچھااگرہمارےصبرکرنامشکل ہورہاہوں تو ہمیں کیاکرناچاہیے؟
نادیہ:سرہمیں نبیوں،رسولوں کی زندگیوں میں آنےوالی مشکلات کویادکرناچاہیےتوان کی مشکلات کےسامنےہمیں اپنی مشکلات بہت چھوٹی لگیں گی،اورہمیں تمام لذتوں کومٹانے والی موت کوکثرت سےیادکرناچاہیے۔
استاد:جی پیارےبچوں آج ہم نےصبرکےبارےمیں بہت کچھ سیکھا،سب بچےوعدہ کریں جوکچھ آپ نےسیکھااُس پرآپ عمل کریں گے۔
(سب بچوں نےیک زبان ہوکرسرسےعمل کرنےکا وعدہ کیا)
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔
https://hifsaalmas.blogspot.com/2022/08/blog-post_49.html

0 Comments