عورت کا تقدس
ازقلم سونیا سحرش
آج جس موضوع پر میں قلم بند کرنے جا رہی ہوں وہ ایک بہت گہرا اور وسیع ترین ٹاپک ہے لیکن چونکہ تحریر جامع اور کم الفاظ میں لکھنی ہے تو میں کوشش کروں گی ان شاءاللہ ۔۔
عورت کا تقدس یہ لفظ سنتے ہمارے ذہن میں کئی نقش ابھرتے ہیں عورت یعنی عورت کے کتنے روپ ہیں۔۔؟
کبھی ماں کے روپ میں، کبھی بیٹی کے روپ میں، کبھی بہن کے روپ میں تو کبھی بیوی کے روپ میں عورت کا ہر روپ سہانا ہے وہ ہر روپ میں ایک خوبصورت سیپ کی ماننا ہے۔
دین اسلام میں اگر ہم عورت کے تقدس کو دیکھیں تو پہلے یہ بات واضح کرتی چلوں دین اسلام، دین فطرت اور عظمت والا دین ہے۔ جس کا ہر حکم حکمت سے لبریز ہے الحمد اللہ۔۔ جس کپر عمل کرنے سے خالق حقیقی ہی رضا، خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو کوئی دوسرا مذہیب نہیں دے سکتا اسلام نے عورت کو ذلت ورسوائی سے بچا کر عظمت و رفعت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔اسلام نے عورت کو احترام کی خوبصورت چادر اوڑھا دی۔
جنت ماں کے قدموں تلے یعنی ایک عورت جب ماں کے روپ میں ہو تو جنت اس کے قدموں میں رکھ دی گی۔ اور خاندان کی حفاظت دار مقرر کرکے ادب وشرف کے اعلی منصب ہر بٹھا دیا۔
بیٹی جو دور جہالت میں زندہ دفن کر دی جاتی تھی اسلام نے لڑکیوں یعنی بیٹی کی ولادت اور ان کی تربیت کو بھی باعث مسرت قرار دیا یعنی رحمت بنا دیا۔اس لحاظ سے اسلام ہی وہ پہلا دین ہے جس نے عورت کو حقوق کا نہ صرف تحفظ دیا بلکہ اس کی عزت و تکریم کا بھی خوب اہتمام کیا۔اسلامی تعلیمات،جس میں عورت کے تقدس واحترام کا تحفظ ہے،وہ انھیں غلامی کا طوق نظر آتی ہیں،جنہیں وہ اتار کر پھینکنا چاہتے ہیں۔
اقبال نے سچ کہا تھا۔
تھا جو ناخوب،بہ تدریج وہی خوب ہوا کہ
غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
چلیں ایک حدیث مبارکہ کی روشنی میں عورت کے تقدس کو دیکھتے ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش وتربیت کی حتیٰ کہ وہ بالغ ہوگئیں،قیامت والے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح(قریب قریب)ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں(یعنی ملا کر دکھایا کہ اس طرح ہم دونوں ساتھ ہوں گے)۔(مسلم)جاریتین یعنی دو بیٹیاں۔
![]() |
| عورت کا تقدس |
چونکہ یہ موضوع بہت گہرا ہے سمندر جتنا جس کو جتنا لکھا جائے کم ہے۔ لیکن بہت کم الفاظ میں تحریر کو لکھنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے جس کی میں نے کوشش کی ہے۔۔
عورت ہر روپ میں باوقار ہے اس کا مقام اونچا ہے کیونکہ اسے وہ مقام اس کے رب نے عطا کیا ہے۔

0 Comments