میں اور تم
بنت نذیر اور حفصہ الماس
ایپیسوڈ 5
![]() |
| Unplash |
یہ کیا کر دیا میں نے؟ مجھے اس پر بلا وجہ شک نہیں کرنا چاہیے تھا اگر وہ سچ میں یونیورسٹی نہ آیا تو؟۔۔۔"
گھر آکر وہ معمول کے کام نبٹاتے ہوئے اسی کے بارے میں سوچے جا رہی تھی۔
"محبت پہ انسان کا اختیار تھوڑی ہوتا ہے اور اگر بدقسمتی سے اسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے تو وہ سزا کا حق دار کیسے؟۔۔۔۔ وہ میری وجہ سے اپنا مستقبل داؤ پہ لگا دے یہ مجھے کسی بھی صورت قبول نہیں۔"
جوں جوں وقت آگے سرک رہا تھا، فیمیاکے اضطراب میں اضافہ ہو رہا تھا لیکن صحیح معنوں میں پریشانی تو تب ہوئی جب وہ پورا ہفتہ یونیورسٹی سے غائب رہا۔ وہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی خود کو قصور وار ٹھہرا رہی تھی۔
بے شک جو اس نے کیا، وہ مناسب نہیں تھا لیکن فاتین کا یوں اس کے لیے بے اختیار ہو جانا بھی کسی طور ٹھیک نہیں تھا۔
عریش اور آہن شاید سارے قصے سے واقف تھے، اس لیے خاموش رہے لیکن جب آبی نے فاتین کے بارے میں اس سے پوچھ گچھ کی تو وہ اپنی جگہ چور سی بن گئی۔ شاید اس نے ہر کسی سے رابطہ منقطع کیا ہوا تھا۔
وہ نماز پڑھ کر رو کر فاتین کی خیریت کی دعائیں مانگتی، تبھی ایک دن فارہ نے استفسار کیا۔
"خیریت ہے ناں آپی! میں چند دنوں سے دیکھ رہی ہوں آپ کی دعائیں کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی جا رہی ہیں۔"
"ہاں خیریت ہے۔"
اس نے جائے نماز تہ کرتے ہوئے آہستگی سے جواب دیا۔
"لگ تو نہیں رہا۔ کافی مضطرب نظر آرہی ہیں۔"
فارہ نے اسے ٹٹولنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے اپنی پریشانی بتانے سے قاصر تھی۔
"آپ کو پتہ ہے زیب بھائی آرہے ہیں۔"
فارہ نے اچانک تازہ خبر سنائی۔
"تمہیں کیسے پتہ؟"
"بھائی پھپھو سے کال پہ بات کر رہے تھے اور میں نے چپکے سے ساری باتیں سن لی۔"
"یہ عادت تمہاری کب جائے گی؟"
فیمیا نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ کھسیانی ہو کر ہنسنے لگی۔
"میں بتا رہی ہوں مجھے پھپھو جی کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔"
"کیا مطلب؟"
وہ چونکی۔
"وہ دل ہی دل میں آپ کو بہو بنانے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔"
"تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟"
"نہیں تو آپ خود بتائیں؟ اتنے سالوں بعد پھپھو کو ہمارا خیال کیسے آیا؟"
فری نے استہزائیہ انداز میں سوال کیا۔
"تمہارا کہنا بجا ہے۔ اتنے برس بعد یہاں زیب بھائی کا آنا کسی بڑی خبر کا عندیہ دے رہا ہے لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم نے غلط سنا ہو۔"
"میرے کان غلط سن ہی نہیں سکتے۔ دیکھنا کل بھائی آپ کو حکم دیں گے کہ گھر کے پچھلے کمرے کی صفائی کر دو زیب یہاں گھر سمیت دل میں ڈھیرے جمانے آرہا ہے۔"
فارہ نے آخری جملہ عمیر کی طرح کہنے کی کوشش کی تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لبوں پر تبسم بکھر گیا۔
کچھ دیر بعد پھر وہ غیر مرئی نقطے کو گھورتے ہوئے گہری سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئی جبکہ فارہ میز پہ رکھی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگی۔
____________________
فیمیا کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اگلے دن خلافِ توقع وہ یونیورسٹی تو آگیا لیکن اسے دیکھ کر نہ صرف فاتین نے نگاہوں کا زاویہ بدلا بلکہ خود کو موبائل فون میں مصروف ظاہر کر کے دوسری طرف چل پڑا۔
"ارے! کدھر جا رہے ہو؟"
آہن نے اسے روک لیا۔
"کسی کو شاید میری موجودگی یہاں پسند نہیں۔"
اس نے کن انکھیوں سے فیمیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ فیمیا نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا۔ وہ مکمل کالے لباس میں ملبوس، ایک ہاتھ میں موبائل پکڑے اسی کی طرف متوجہ تھا۔
"تو یاروں کا یار ہے بھئی۔ تیری موجودگی کس کو ناپسند ہو گی؟ اگر کوئی ایسا ہے تو سامنے آئے۔"
آہن نے باآواز بلند کہا۔ فیمیا کے علاوہ سبھی کی گردنیں خود بخود نفی میں ہل گئیں۔
"آپ کو فاتین کی موجودگی ناپسند ہے؟"
آہن نے متحیرانہ لہجے میں اس سے پوچھا۔ اس نے فوراً نفی میں گردن ہلائی جبکہ فاتین کے لبوں پر جان دار سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس کی آنکھوں میں تیرتی گزشتہ دنوں کی بے تابی صاف عیاں تھی اور یہی بے تابی اس کے دل و روح کو ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔
اچھی ہوتی نہیں یہ ناراضی ۔۔۔۔۔۔!!
مجھ سے شکوہ ، کوئی شکایت کر
بنتِ نذیر
___________________
"کیسی لڑکی ہو تم؟"
وہ یونیورسٹی کے کشادہ گراؤنڈ میں، گھنے درخت کی چھاؤں تلے بیٹھی ہوئی تھی، جب وہ کہیں سے نمودار ہو کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
"کیا مطلب۔۔۔؟"
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
"ناراض میں ہوں لیکن تم منانے کی بجائے خود منہ لٹکا کر بیٹھ گئی ہو۔"
وہ اس سے کچھ فاصلے پر دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔
"مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے آپ سے سخت الفاظ میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔پلیز! آپ مجھے معاف کر دیں۔"
وہ ندامت سے سر جھکا کر بولی۔
"معافی ایک ہی قیمت پر ملے گی۔"
"کیسی قیمت؟"
"دوستی؟"
فاتین نے اپنا دایاں ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ وہ ہونق بنی ہاتھ اور کبھی اس کی شکل دیکھتی پھر جھجھکتے ہوئے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا۔ فاتین نے ہلکا سا اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑ دیا۔ اس کی اس حرکت پہ اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ وہ خود بھی دھڑکنوں کی اس بغاوت پر حیران تھی۔
"تم کیا جانو فیمیا یہ دن میں نے کتنے کرب اور تکلیف میں گزارے ہیں۔ پل پل تمہاری یاد آتی رہی لیکن تمہیں بھلا کب پرواہ ہے۔"
کچھ توقف بعد اس کے کانوں میں فاتین کی گھمبیر آواز گونجی۔ وہ شاید اس سے شکوے شکایت اور گزشتہ دنوں کی روداد سنانے کے موڈ میں تھا۔
"بہت بے پرواہ ہو لیکن باقی سب سے منفرد بھی ، اسی لیے بہت اچھی لگتی ہو۔"
وہ اپنی کھلم کھلا تعریف پر جھینپ گئی پھر ناراضگی سے منہ بسورتے ہوئے بولی۔
"آپ ایسی باتیں کریں گے تو میں آپ سے دوستی نہیں کروں گی۔"
"تعریف کی ہے بس۔ لڑکیاں تو اپنی تعریف سننے کے لیے دیوانی ہوتی ہیں۔"
"آپ کو بڑی خبر ہے لڑکیوں کی؟"
اس نے آنکھیں سکوڑ کر پوچھا تو فاتین ہنس پڑا۔
"لاجواب بھی خوب کرتی ہو۔"
فیمیا نے شکریہ کے انداز میں ہاتھ ماتھے کے قریب لے جا کر سر کو ہلکا سا خم دیا جبکہ فاتین اس کی اس ادا پہ مسکرا دیا۔
"اب جب تک تم نہ چاہو، دنیا کی کوئی طاقت بھی مجھے تم سے جدا نہیں کر سکتی۔تم صرف میرے لیے بنی ہو فیمیا۔۔"
اس نے مضبوط لہجے میں کہا۔ فیمیا نے ایک ادا سے ایک دو بار آنکھیں جھپکا کر اس کی طرف دیکھا پھر آنکھوں پہ پلکوں کی گھنی جھالر گرا دی۔
نامحرم کی سنگت اور محبت کا لطف ہی ایسا ہوتا ہے کہ پتھر دل لڑکی بھی موم کی طرح پگھلنے لگتی ہے جیسے وہ فاتین کی محبت میں پگھل رہی تھی، موم ہو رہی تھی لیکن رات بستر پہ لیٹتی تو جب تک نیند کی دیوی مہربان ہوتی، اس فعل پہ اسے ضمیر کی لعنت ملامت سہنی پڑتی۔ ضمیر اسے متنبہ کرتا کہ جس سمت کی طرف وہ چل نکلی ہے، وہاں اس کی عزت داغ دار ہونے کا خدشہ ہے۔جس راہ کی منزل نہ ہو، اس راہ پہ خود کو تھکانے سے کیا فائدہ؟
وہ کچھ دیر کے لیے سہم جاتی۔دل ہی دل میں فاتین سے نہ ملنے کا عزم کرتی لیکن اگلے دن وہ گزشتہ رات کی ہر بات اور عزم بھول جاتی۔
فضا میں رچی ہے جو انجانی خوشبو
محبت کا اک پھول شاید کھلا ہے۔۔۔۔۔۔
بنتِ نذیر
محبت کی چھوٹی سی کونپل جو ان دونوں کے دلوں میں اگی تھی ، بڑی ہو کر تناور درخت میں تبدیل ہو گئی تھی۔
________
گھر کی پچھلی بیٹھک کی اچھی طرح تفصیلی صفائی کے بعد وہ اب پانی کی چھینٹے اڑاتی رگڑ رگڑ کر فرش دھونے میں مصروف تھی۔ صبح ہی عمیر نے اسے زیب کے آنے کی اطلاع دی تھی تو خلافِ معمول اس نے یونیورسٹی سے چھٹی کر لی۔
فرش دھو کر اس نے صحن میں بکھرے پتے ایک جگہ اکھٹے کیے، جن کو باہر لے جا کر جلانے کا کام عمیر کا تھا۔ کام سے فراغت کے بعد نجانے اس کے دل میں کیا سمائی کہ صحن میں کھڑے ہو کر آسمان کی طرف چہرہ کر کے گول گول چکر کاٹنے لگی، ساتھ ہاتھوں سے آنچل کو بھی ہوا میں لہرانے لگی۔
دیوار کے عقب سے فارہ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا پھر گلا کھنکارتی ہوئی اس کے رو برو چلی آئی۔
"بہت خوش نظر آرہی ہیں۔ کہیں یہ خوشی زیب بھائی کے یہاں آنے کی وجہ سے تو نہیں؟"
اس نے شریر انداز میں دریافت کیا۔
"خوش ہوں لیکن زیب کے آنے کی وجہ سے نہیں۔"
"تو کیا چھوٹی بہن کو اپنی خوشیوں میں شریک نہیں کریں گی؟"
فارہ نے معصوم سی صورت بنا کر پوچھا۔
"میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں کتنی خوش ہوں۔کتنا لطیف احساس ہے ناں محبت۔ مجھے تو محبت سے "محبت" ہونے لگی ہے۔"
چہرہ دلی احساسات کا بہترین آئینہ دار ہوتا ہے کہ اگر دل خوش ہو تو اس کا عکس چہرے سے عیاں سے ہوتا ہے جیسے فیمیا کے لبوں پہ بات بے بات تبسم بکھر رہا تھا۔
وہ دونوں صحن میں اگی نرم گھاس پر بیٹھ گئیں۔فضا میں گلاب اور موتیا کے پھولوں کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔
"تو کیا آپ بھی اس راہ کی مسافر بن چکی ہیں؟"
فارہ کے سوال پر اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
"بہت یقین اور بھروسے کے ساتھ میں نے اس شخص کا ہاتھ تھاما ہے اور امید ہے وہ کبھی مجھے اس راہ میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔"
فیمیا اپنی محبت کی داستان جزئیات سمیت اس کے گوش گزار کرنے لگی۔ فارہ نے پہلی بار اسے اتنا خوش دیکھا تھا ، اس کا دل اپنی بہن کی دائمی خوشیوں کے لیے دعا گو تھا لیکن یہ خیال بھی اسے دہشت زدہ کر رہا تھا کہ کہیں وہ لڑکا آپی سے وقت گزاری نہ کر رہا ہو۔
"آپ کو اپنی محبت پہ کتنا بھروسہ ہے؟"
کچھ توقف بعد اس نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔
"خود سے بھی زیادہ۔"
فوراً جواب آیا۔
"جتنی دنیا چالباز ہے، آپ اتنی ہی معصوم ہیں۔ کوئی آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بھی کہے گا تو آپ سچ مان لیں گی لیکن میری بات یاد رکھنا محبت خالی خولی باتوں سے نہیں ہوتی ، محبت آزمائش کا نام ہے۔ جو اس آزمائش میں سرخرو ہو گیا اس نے سب کچھ پا لیا اور جو ہمت ہار گیا، اسے ناکامی اور بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہاں مگر سرخرو ہونے کے لیے بھی دل میں "خالص جذبات" کا ہونا ضروری ہے۔"
محبت کے احساس سے نابلد ہو کر بھی محبت کے بارے میں وہ کتنا کچھ جانتی تھی۔ فیمیا اس کی باتوں سے کافی متحیر ہوئی لیکن پھر بھی فاتین کی محبت کے خلاف دل میں شک و شبہ نہ پیدا ہو سکا۔
"ایک بات پوچھوں؟"
فیمیا نے اس سے اجازت مانگی۔
"ایک نہیں سو پوچھیں لیکن محبت کے بارے میں بالکل نہیں کیونکہ بندی ناچیز ابھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں کوئی ارادہ ہے البتہ ناولز پڑھ کے محبت کے بارے میں کافی جان کاری حاصل کر لی ہے میں نے۔"
وہ پھر اپنی جون میں واپس لوٹ آئی تھی۔ فیمیا بے اختیار ہنسنے لگی کیونکہ اس کے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا تھا، جس کو سنے بغیر ہی فارہ نے جواب دے دیا۔
"اچھا آپی! زیب بھائی کا کیا ہوگا؟"
"کیوں؟ اس کا کیا ہونا ہے؟"
"ان کے دماغ کا دہی ہونا ہے اور کیا ہونا ہے؟ ۔۔۔۔ مطلب اگر وہ رشتے کے سلسلے میں یہاں۔۔۔۔۔"
فارہ کی ادھوری بات کا مطلب وہ سمجھ چکی تھی اسی لیے مضطرب سی نظر آنے لگی۔
"اچھا آپ فکر نہ کریں۔ سوچتے ہیں ان کا کیا کرنا ہے؟"
فارہ نے شریر انداز میں آنکھ دبائی تو وہ بھی اس کی شرارت سمجھ کر ہنس پڑی۔
_________________
شام کا وقت تھا۔ وہ کچن میں کھڑی فیمیا کا ہاتھ بٹا رہی تھی جب گھر کے بیرونی گیٹ پر دستک ہوئی۔
"شاید عمیر بھائی آگئے۔ جاؤ گیٹ کھولو۔"
فیمیا نے اسے تحکمانہ لہجے میں کہا تو وہ سنک میں ہاتھ دھو کر گیٹ کی طرف لپکی۔
اس نے بغیر پوچھے ہی گیٹ وا کر دیا لیکن اپنے سامنے کھڑی انجان شخصیت کو دیکھ کر اس کا سانس جہاں تھا، وہیں رہ گیا۔
"کہیں یہ زیب بھائی تو نہیں لیکن میں نے تو ہمیشہ سنا ہے کہ پھوپھی زاد لنگور سے مشابہہ ہوتے ہیں پھر یہ اتنا ہینڈسم۔۔۔"
وہ سر سے پاؤں تک اسے انہماک سے دیکھتے ہوئے سوچے جا رہی تھی۔ زیب نے بھی اس کی پریشانی بھانپ لی اس لیے فوراً اپنے تعارف کرواتے ہوئے بولا۔
"میں آپ کی پھپھو کا اکلوتا سپوت زیب بن احسان۔"
فارہ کے لب سیٹی مارنے کے انداز میں گول ہوئے۔
"آپ فیمیا ہیں؟"
"نہیں! مادام کو فارہ کہتے ہیں۔"
وہ تھوک نگل کر مسکرائی تبھی کچن سے فیمیا کی آواز آئی۔
"باہر کون ہے؟ تم کس سے پٹر پٹر باتیں کر رہی ہو؟"
"آپی! زیب بھائی ہیں۔"
اس نے وہاں کھڑے کھڑے اطلاع پہنچائی، تبھی فیمیا بھی دوپٹے کو سنبھالتی ہوئی وہاں آگئی۔
"اندر آئیے ناں۔ باہر کیوں کھڑے ہیں؟"
اس نے مؤدبانہ انداز میں سلام کر کے خوش اخلاقی سے کہا۔
"۔۔۔۔۔۔اور ہاں اپنا سوٹ کیس بھی اندر لے آئیے۔ اب میں اور آپی ،آپ کے ہوتے ہوئے کیسے اتنا بھاری سوٹ کیس اندر لے کر آئیں گی۔"
فارہ نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے معصومیت سے کہا تو فیمیااسے غصے بھری گھوری سے نوازنے لگی جبکہ زیب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
وہ سوٹ کیس گھسیٹتا ہوا ان دونوں کی پیروی میں گھر کی پچھلی اور بیٹھک کی طرف بڑھا۔
"پھپھو کیسی ہیں؟"
فیمیا نے پوچھا۔
"جی ٹھیک ہیں۔ آپ سب کو بہت یاد کر رہی تھیں۔"
"ان کو بھی ساتھ لے آتے ناں؟ میں بہت چھوٹی سی تھی جب ان کو دیکھا تھا۔ خیر آپ یہ بتائیں، کیا لیں گے ٹھنڈا یا گرم؟"
"اس گرمی میں "ٹھنڈا مشروب" لینا ہی بہتر ہے۔ جلدی سے جائیں اور میرے اور زیب بھائی کے لیے سکنجبیں بنا کر لے آئیں۔"
جواب زیب کی جگہ فارہ کی طرف سے آیا تھا۔ فیمیا پھر اسے آنکھیں نکالنے لگی لیکن وہ آلتی پالتی مار کر صوفے پہ بیٹھ گئی تھی۔
وہ زیب کے سامنے مجبوراً خاموش ہو گئی لیکن جب رات کو فارہ کمرے میں آئی فیمیا نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
"یہ تم کیسی اوچھی حرکتیں کرنے لگی ہو؟۔۔۔۔کیا سوچتا ہو گا وہ ہمارے بارے میں کہ ہم کس قدر بے باک لڑکیاں ہیں۔"
"اس میں بے باک ہونا کہاں سے آگیا ؟ عمیر بھائی کی غیر موجودگی ان کو کسی نے کمپنی تو دینی تھی، سو میں نے دے دی۔"
فارہ کے بے فکری سے کندھے اچکانے پر اس نے گہرے ملول سے اسے دیکھا خیر وہ کبھی بھی سدھر نہیں سکتی تھی بقول فارہ
" اگر میں سدھر گئی تو اس گھر کی رونق ختم ہونے کے خدشات سو فیصد ہیں۔"
____________
کئی دنوں بعد یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں، سایہ دار درخت کے نیچے ان کی محفل جمی تھی۔ سبھی کے چہرے مسرت سے تمتما رہے تھے سوائے اک آبی کے، جس کے لب تو مسکرا رہے تھے لیکن چہرے سے بشاشت مفقود تھی۔
"آج اک خوش خبری سنانی تھی سب کو؟"
آہن نے گفتگو کا آغاز کیا تو سبھی اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔
"اس اتوار کو میری اور عائش کی منگنی ہے۔ آپ سب لوگوں نے لازمی شرکت کرنی ہے۔"
"منگنی۔۔۔۔!!
سب کی نظریں آہن سے ہٹ کر عائش پہ جم گئی تھی جو شرمائی لجائی سی بیٹھی تھی۔
"چپکے چپکے سب طے کر لیا اور یاروں کو خبر تک نہ ہونے دی۔"
عریش کی صدمے سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
"کیوں؟ تم نے مجھے سر پہ اٹھانا تھا کیا ؟"
"اٹھا ہی لیتے سر پہ۔ خیر منگنی کی مٹھائی کدھر ہے؟"
"مٹھائی؟۔۔۔۔۔۔ تم ہمیشہ سستی چیزوں کی فرمائش کرنا۔ ہم سب تو آہن کی جیب خرچ پر کسی اچھے سے ریستوران میں کھانا کھائیں گے۔ کیوں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں میں؟"
ماہی نے تائید طلب نگاہوں سے آہن کی طرف دیکھا اور آہن نے بھی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
"تم کھا کھا کر پھٹ جاؤ گی ماہی۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ ڈائٹنگ شروع کر دو۔"
عریش نے سنجیدہ لہجہ اختیار کر کے مشورہ دیا۔
"تم اپنے مشورے اپنے پاس رکھو سمجھے۔ ہر بات میں اپنی ٹانگ اڑانا لازمی سمجھتے ہو۔"
اس نے تڑخ کر کہا۔
"ارے! تم کیا ہر وقت بچوں کی طرح لڑتے رہتے ہو۔"
عریش تپ کر اسے کرارا جواب دینا چاہتا تھا، جب آہن نے انہیں ٹوکا۔
"لڑائی کا آغاز اس نے کیا تھا۔"
ماہی نے عریش کی طرف اشارہ کیا۔
"جھوٹ بول رہی ہو موٹی۔ بتاؤ پہلے کس نے کہا تھا کہ میں سستی چیزوں کی فرمائش کرتا ہوں۔"
"ہاں کہا تھا۔ کیا کر لو گے میرا؟ تم کیا کر سکتے ہو مریل گدھے۔"
"چپ کر جاؤ۔ تم لوگوں کی لڑائی نے ہماری خوشیوں کا قلع قمع کر دیا ہے۔"
آہن چلایا جبکہ وہ اب بھی ایک دوسرے کو اصیل مرغوں کی طرح گھور رہے تھے، جیسے ابھی ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں گے۔
"تم لوگ باتیں کرو۔ میں جا رہی ہوں۔"
آبی بیزاریت سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
"آبی تم اداس مت ہو۔ ہم تمہارے لیے بھی کوئی اچھا سا۔۔۔۔۔"
عریش شریر انداز سے آبی کی طرف دیکھ کر بولا۔وہ اتنی دیر بھلا ٹانگ اڑائے بغیر کہاں رہ سکتا تھا؟
"شٹ اپ! تم پہلے اپنے بارے میں سوچو پھر میرے لیے ڈھونڈنا۔"
وہ چراغ پا لہجے میں کہتی وہاں سے ہٹ گئی تو سبھی کی ہنسی قہقہوں میں بدل گئی۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی گپیں ہانکنے کے بعد وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے تو فیمیا کو فاتین نے اشارے سے روک لیا۔
"کیا بات ہے؟ خیریت ہے ناں؟"
فیمیانے تشویش سے پوچھا۔
"خیریت ہی تو نہیں ہے۔"
اس نے اداس ہونے کی ایکٹنگ کی۔
"ک۔۔۔۔۔کیا ہوا؟
"میں اب مزید تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔
کچھ کرو یار۔"
اس کے لہجے سے بے تابی جھلک رہی تھی۔
"حد ہے فاتین آپ نے مجھے ڈرا دیا۔ میں سمجھی، پتہ نہیں کیا بات ہو گئی۔"
"اس سے بڑھ کر بھی کوئی بات ہو سکتی ہے کہ تم نے چین لے کر مجھے بے چین کر دیا ہے۔"
وہ گھمبیر لب و لہجے میں گویا ہوا۔
"رومانیت مت جھاڑیں۔"
اس نے منہ بسورا۔
"اچھا بتاؤ۔ آہن کی منگنی اٹینڈ کرو گی ناں۔میں تمہیں اپنے ماما بابا سے بھی ملواؤں گا۔"
"کیا وہ ہم دونوں کے رشتے کے لیے مان جائیں گے؟"
وہ ان کے ردعمل کا سوچ سوچ کر خوف زدہ نظر آنے لگی تھی۔
______
جاری ہے ۔
آپکی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا۔ شکریہ
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

0 Comments