Hifsaalmas

Main or Tum by Bint e Nazeer and Hifsa Almas _ Episode 4

میں اور تم 

بنت نذیر اور حفصہ الماس

ایپیسوڈ 4
Unplash 


وہ تینوں ریستوران میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے، جب ماہی اور عائش انہیں اپنی طرف آتی ہوئی دکھائی دیں۔ 
"آبنوس نہیں آئی کیا؟" 
فاتین نے استفسار کیا۔ 
"میں نے تو سوچا تھا وہ ہم سے پہلے ہی یہاں موجود ہو گی لیکن۔۔۔۔۔" 
عائش نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ 
"میں نے تو خاص طور پر اسے یہاں بلایا تھا پھر کیوں نہیں وہ آئی؟" 
عریش کے لہجے سے اضطراب جھلک رہا تھا۔ 
"میں کال کر کے پوچھ لیتی ہوں۔" 
عائش سیل فون پر آبی  کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کچھ دور آکر کھڑی ہو گئی۔ 
"ہیلو! کہاں ہو تم؟" 
کال ریسیو ہوتے ہی عائش نے فوراً پوچھا۔ 
 "گھر پہ۔" 
دوسری طرف سے قدرے اطمینان سے جواب دیا گیا۔ 
"گھر پہ؟۔۔۔۔ یہاں سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور تم۔۔۔۔" 
"مجھے پتہ ہے فاتین نے ہم سب کو ریستوران میں کیوں بلایا ہے؟" 
آبی نے اس کی بات یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ 
"کیوں؟" 
"وہ اس لڑکی کے بارے میں بتانا چاہتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس لڑکی سے میں اچھی طرح واقف ہوں۔" 
"کون ہے وہ لڑکی؟" 
عائش متحیر ہوئی۔ 
"فیمیا! وہ لڑکی فیمیا ہے۔" 
شدتِ غم سے اس کی آواز بھرا گئی۔ 
"میں برسوں سے اس شخص کے خواب دیکھ رہی ہوں اور اب اس کی آنکھوں میں فیمیاکے لیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرا دل لہو لہو ہو جاتا ہے۔ میں تو ان آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتی تھی پھر یہ کیسے ہو گیا؟۔۔۔۔۔۔فاتین کیسے کسی اور کا ہو گیا؟۔۔۔۔۔" 
اسپیکر میں سے اس کی ہلکی ہلکی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ 
"تمہارے دل پر جو بیت رہی ہے، وہ میں سمجھ سکتی ہوں۔" 
"تم کبھی نہیں سمجھ سکتی عائش۔ تم نے بھلا کب کسی کو کھونے کا کرب سہا ہے لیکن میں کئی دن سے اس کرب سے دوچار ہوں۔ فاتین مجھ سے دور ہوتا جا رہا ہے اور میں اس قدر بے بس ہوں کہ اسے روک بھی نہیں سکتی۔
وہ باقاعدہ اونچی آواز میں رونے لگی تھی۔ 
"آبی پلیز! تمہارے اس طرح رونے سے میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے۔ میں ابھی تمہارے پاس آ رہی ہوں، تم رونا بند کرو۔" 
عائش اس کے رونے سے حواس باختہ ہو گئی تھی۔ اس نے ہمیشہ عائش کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا اور اب اس کا یوں رونا اسے ہراساں کر رہا تھا۔ 
"نہیں! تم سب فاتین کی خوشی میں شرکت کرو۔ میں اپنے غم اکیلے سہہ لوں گی۔" 
اس نے کہتے ساتھ ہی کھٹ سے رابطہ منقطع کر دیا۔کتنے ہی پل عائش بے حس و حرکت کھڑی اس کی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی، پھر ان سب کی طرف بڑھی جو کب سے اسی کے منتظر تھے۔ 
"وہ نہیں آئے گی۔" 
وہ مدھم لہجے میں کہتے ہوئے کرسی پہ بیٹھ گئی۔ 
"کیوں؟" 
فاتین نے پوچھا۔ 
"اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے۔" 
"ایک کام کرتے ہیں۔ ہم سب اسی کی طرف چلتے ہیں۔" 
عریش نے مشورہ دیا۔ 
"یہ موٹو پتلو کی ساری فوج۔۔۔؟" 
فاتین استہزائیہ لہجے میں کہتے ہوئے عریش کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
"آبی کی ماما کہیں گی کہ یہ ڈریکولا شخص کہاں سے آگیا؟" 
ماہی عریش کی طرف دیکھ کر ہلکی آواز میں بڑبڑائی لیکن پھر بھی اس کے کہے الفاظ عریش نے باخوبی سن لیے تھے۔ 
"سفید ریچھ سے نظر ہٹے گی تو ان کو ڈریکولا نظر آئے گا ناں۔" 
وہ بھلا کب حساب باقی رکھتا تھا، فوراً دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولا۔ 
"نہیں! ہم سب جائیں گے تو اس کی طبیعت مزید بگڑ جائے گی۔ اس کو آرام کی ضرورت ہے، ہماری نہیں۔" 
آہن کی رائے پر سب متفق نظر آنے لگے۔ 
 آبی محفل کی رونق تھی۔اس کے بغیر اداس تو سبھی تھے لیکن آبی کی حالت سے باخبر تانیہ بار بار اضطراری حالت میں پہلو بدل رہی تھی۔ 
"خیریت ہے ناں! تم مجھے کچھ پریشان لگ رہی ہو؟" 
محفل برخاست ہوتے ہی فاتین اپنی گاڑی لے کر گھر کی طرف نکل پڑا جبکہ وہ تینوں کمال کی گاڑی میں سوار تھے تبھی آہن نے پچھلے نشست پر بیٹھی عائش سے سوال کیا۔ 
"آبی کی وجہ سے پریشان ہوں۔" 
"کل تک ٹھیک ہو جائے گی۔ اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔" 
"پریشان ہونے والی ہی بات ہے کیونکہ وہ فاتین میں دلچسپی رکھتی تھی۔" 
عائش نے صاف گوئی سے کہا تو گاڑی میں بیٹھے تینوں نفوس کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ 
"اس نے خود تم سے کہا ہے؟" 
ماہی کے پوچھنے پر عائش نے سر کو ہاں میں جنبش دی۔ 
"قصور تو اس کا اپنا ہے۔ ہمارا دوستی کا حلقہ مکمل تھا، وہی فیمیا کو گھسیٹ کر اس حلقے میں لے آئی۔مجھے تو پہلے ہی وہ لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی، اب اس کی طرف سے مزید دل برا ہو گیا۔" 
ماہی کے الفاظ اور لہجہ آہن کو سخت ناگوار گزرے اور اس نے فوراً اظہار بھی کر دیا۔ 
"اس میں فیمیا کا کیا قصور ہے؟ فاتین کے جذبات تو یک طرفہ ہیں۔" 
"تم اس کی طرف داری مت کرو۔ ایسی مڈل کلاس لڑکیوں کو بہت اچھی طرح جانتی ہو۔ یہ خود کو معصوم ظاہر کر کے امیر لڑکوں کو پھانس لیتی ہیں۔" 
"تمہاری دوٹکے کی ذہنیت کی میں داد دیتا ہوں۔" 
عریش نے طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے تالی بجائی۔ 
"تم اس کے لیے مجھے۔۔۔۔۔۔۔" 
"ہاں تمہیں ایسا کہہ رہا ہوں کیونکہ تم نے ایک پارسا لڑکی پر کیچڑ اچھالا ہے۔ اس نے تو آج تک فاتین کو کوئی ایسا مثبت اشارہ نہیں دیا تو تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ اس نے فاتین کو پھانس لیا ہے؟" 
"مجھے تو تم بھی اس کی محبت میں گرفتار نظر آتے ہو یا زیادہ طرفداری اس لیے کر رہے ہو کیونکہ وہ تمہاری ہی کلاس کی ہے۔" 
ماہی نے ہر لحاظ بلائے طاق رکھتے ہوئے کہا جبکہ عریش تو عریش، عائش اور آہن بھی اس کے سخت لفظوں پر ششدر رہ گئے۔ 
"سیانے کہتے ہیں کہ دوستی اور رشتہ داری ہمیشہ اپنے ہم پلہ لوگوں میں کرنی چاہیے تاکہ انسان کو اپنا آپ کم تر محسوس نہ ہو لیکن میں ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا اور آج احساس ہوا کہ سیانے کتنا سچ کہا کرتے تھے۔" 
اس کی ڈبڈباتی آنکھیں اور غم سے بوجھل لہجہ آہن اور عائش کو آبدیدہ کر گیا مگر ماہی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ 
بہت کم لوگ امیر ہوکر بے حس نہیں ہوتے اکثر تو امیری کے زعم میں یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کی بے حسی کسی پر کیا ظلم ڈھائے گی۔ 
_____________________ 
دن سبک رفتاری سے گزرنے لگے لیکن ہر گزرتا دن فاتین کی محبت میں شدت لے کر آتا تھا۔ فیمیا اس سے جتنا دور جانے کی کوشش کرتی، وہ اتنا ہی قریب آتا آخرکار ایک دن وہ اس سے تنگ آ کر بولی۔ 
"آخر آپ کا مسٔلہ کیا ہے؟" 
"محبت۔۔۔ 
مختصر جواب دیا گیا۔ 
"میں یونیورسٹی کی انتظامیہ سے آپ کی شکایت کر دوں گی کہ آپ مجھے ہراساں کر رہے ہیں۔" 
"جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔" 
"ایسا ہی ہے۔ کئی دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ جہاں میں جاتی ہوں ، آپ وہاں فوراً کہیں سے نمودار ہو جاتے ہیں۔" 
فیمیا کی بات پر اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ 
"میں آپ سے شادی کا خواہش مند ہوں۔" 
"لیکن میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔" 
"کیا تمام عمر کنواری رہیں گی؟" 
فاتین نے حیرت کا اظہار کیا۔ 
"میں نے آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔" 
اس نے "آپ" کو لمبے کرتے ہوئے اسے بہت کچھ باور کروانے کی کوشش کی تھی۔ 
 "کیوں؟ مجھے میں کوئی خامی ہے؟" 
"آپ کا چھچھورا پن ہی آپ کی سب سے بڑی خامی ہے۔" 
جواب دو بدو آیا۔ 
"یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ چھچھورا پن آپ کی وجہ سے اختیار کرنا پڑا ورنہ میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں۔" 
"ہر لڑکا یہی کہتا ہے کہ میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں لیکن حقیقت میں اس سے بڑا کمینہ کوئی نہیں ہوتا۔" 
 ایک بار پھر فضا میں فاتین کا فلک شگاف قہقہہ گونجا۔ فیمیا کی پیشانی پر ناگوار سی شکنیں ابھریں۔ 
"آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ میں بہت معصوم سا بندہ ہوں۔" 
اس نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ 
"وہ تو نظر آ رہا ہے۔" 
"شکل و صورت پر مت جائیے آپ بس۔۔۔۔۔۔" 
"دیکھئے مسٹر! آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔" 
وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔ 
"میں بھی تو یہی چاہتا ہوں کہ مل بیٹھ کر اپنی حدود مقرر کر لیں۔" 
"اف۔۔۔۔" 
وہ زچ ہو کر اس پر ایک نظر ڈالتی گیٹ سے باہر نکل آئی۔ وہاں کچھ لڑکے اور لڑکیاں وین کے انتظار میں کھڑے تھے، وہ بھی چادر سے چہرہ ڈھانپتی ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گئی۔ 
فاتین نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کر کے عریش کی طرف قدم بڑھائے، جو اس کی گاڑی کے پاس کھڑا، اسی کا منتظر نظر آرہا تھا۔فیمیااسے دوسری طرف متوجہ دیکھ کر دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگی لیکن چند ساعتیں ہی گزری تھیں جب گاڑی کے ٹائر اس کے قریب آکر چرچرائے۔ 
"فیمیا آپی! اس گرمی میں یہاں کیوں کھڑی ہیں؟ ہم آپ کو ڈراپ کر دیتے ہیں۔" 
عریش نے گاڑی کے شیشے سے سر نکال کر اسے آفر کی۔ 
"نہیں! بہت شکریہ۔" 
وہ فاتین کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیکھ چکی تھی، اس لیے سہولت سے انکار کر دیا۔ 
"آپ کو یہاں اکیلے دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا اس لیے مناسب یہی ہے کہ آپ میری بات مان لیں پلیز۔" 
عریش کے التجائیہ انداز پر اس نے ایک گہری سانس بھری اور گاڑی کا دروازہ کھول کر پچھلی نشست پر بیٹھ گئی۔ 
"بہت شکریہ۔" 
اس نے عریش کا شکریہ ادا کیا جس نے اسے اس گرمی میں خوار ہونے سے بچا لیا تھا لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ اسے اپنی گاڑی میں بٹھانے کا منصوبہ فاتین کا تیارہ شدہ تھا۔ 
عریش اپنا اسٹاپ آتے ہی گاڑی سے اتر گیا۔ اب گاڑی میں صرف وہی دونوں بچے تھے۔ فاتین گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بیک ویو مرر سے اس پر بھی نظر ڈال دیتا جس کا گھبراہٹ کے مارے برا حال تھا۔ 
"گاڑی روکیں پلیز۔" 
وہ چلائی۔ 
__________
"کیا ہو گیا فیمیا؟ چیخ کیوں رہی ہیں؟" 
اس کے رد عمل پر وہ گھبرا گیا۔ 
"میں نے کہا ناں گاڑی روکیں۔" 
"تھوڑی دور ہی آپ کا اسٹاپ ہے۔ اطمینان رکھیے! آپ کو کہیں بھگا کر نہیں لے جا رہا۔" 
"آپ ایسا کر بھی سکتے ہیں۔" 
"اگر یقین نہیں تھا تو میری گاڑی میں بیٹھی ہی کیوں؟" 
اس کی بے یقینی سے فاتین کو گہرا صدمہ پہنچا۔ 
"مجھے کیا معلوم تھا عریش راستے میں اتر جائے گا۔" 
"افسوس! آپ کو عریش پر تو یقین ہے لیکن مجھ پر نہیں۔" 
"آپ نے یقین کرنے کے قابل چھوڑا ہی کب ہے؟" 
فیمیا نے دو بدو جواب دیا۔ 
"اپنی محبت کا اظہار کر دیا ہے اسی لیے آپ کی نظر میں، میری کوئی اہمیت نہیں رہی۔" 
"مُحَبَّتْ؟ آپ جو کر رہے ہیں یہ محبت نہیں "ہوس" ہے۔ آپ کی اس بے اختیاری کی وجہ سے میرا کردار مشکوک ہو رہا ہے۔" 
اس کے منہ سے نکلے لفظوں کسی سنسنی خیز تیر کی طرح فاتین کے دل میں پیوست ہو گئے۔ 
"آپ کو حق ہے کہ میری محبت کو دھتکاریں لیکن میں اپنی محبت کی تذلیل ہر گز برداشت نہیں کروں گا۔ آپ سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں میری محبت اور قربت کے لیے ترستی ہیں لیکن میرا دل آپ کے نام پہ دھڑکتا ہے۔ میں آپ کو اپنا محرم بنانا چاہتا ہوں۔" 
اس نے حد درجہ سنجیدگی سے کہا۔
"ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔محبت میں محبوب کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا لیکن آپ کو اپنی خوشیاں اور خواہشیں عزیز ہیں۔ آپ میری عزت کے بارے میں کیوں سوچیں گے؟" 
اس کے آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے۔ 
"ٹھیک ہے۔ اگر میری وجہ سے تمہاری عزت پہ حرف آتا ہے، دوسروں کی نظروں میں تمہارا کردار مشکوک ہوتا ہے تو ایسا کرتا ہوں کہ میں یہ یونیورسٹی ہی چھوڑ دیتا ہوں۔" 
وہ انتہائی ضبط سے کہتے فوراً آپ سے تم پر آیا تھا۔ 
"میں نے ایسا بھی نہیں کہا۔" 
"ایک یہی حل ہے کیونکہ تمہیں سامنے دیکھ کر خود کو دل کے آگے بے بس پاتا ہوں۔" 
گاڑی میں اب سناٹا چھا گیا۔ فیمیا پچھلی نشست پر بیٹھی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے رونے کا شغل جاری کیے ہوئے تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے فاتین یونیورسٹی چھوڑ دے جبکہ فاتین کی اپنے لیے حد سے زیادہ لگن اور محبت بھی اسے گوارا نہ تھی۔ 
کچھ توقف بعد گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ اس نے شیشے سے باہر جھانک کر اپنی منزل مقصود کی طرف دیکھا پھر ایک خاموش نظر فاتین پہ ڈالی جو اس کے گاڑی سے اتر جانے کا منتظر تھا۔ 
فیمیا کو اسٹاپ پہ اتار کر وہ بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا۔ 
"کیا ہو جاتا اگر وہ میری محبت پہ نہ سہی، مجھ پہ تھوڑا سا یقین کر لیتی؟۔۔۔ 
کیا میری ذات اتنی بے وقعت ہے اس کے لیے کہ وہ عریش پر تو یقین رکھتی ہے لیکن مجھ پر نہیں یا شاید اسے "اس" کی اہمیت بتلا کر میں نے اپنا آپ اس کے سامنے ہلکا کر دیا ہے۔۔۔۔" 
اس نے کرب سے سوچا۔  
"کاش! تم میری محبت کو سمجھ سکتی فیمیا۔۔۔۔میری پاکیزہ محبت جس میں کوئی ملاوٹ نہیں تھی۔ میرے خالص اور سچے جذبات تھے، جنہیں تم نے پرکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔" 
وہ تصور میں فیمیا سے مخاطب ہوا۔ وہ کب سے یک طرفہ محبت کی آگ میں جل رہا تھا اور آج فیمیااپنے لفظوں سے اس آگ کو مزید ہوا دے گئی تھی۔ 
______________
جاری ہے۔
آپکی رائے کا انتظار رہے گا۔
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

Post a Comment

0 Comments