خواہشوں کے بھنور
جیا راجپوت
تبصرہ نگار: حفصہ الماس
جیا راجپوت کا ساتھ تو کئی سالوں سے ہے لیکن زندگی کی بھاگ دوڑ میں کئی لکھاریوں کی تحاریر رابطہ ہونے کے باوجود نہیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ ان کو بھی بہت کم پڑھا لیکن ایک بہترین دوست کے طور پہ ان کا ساتھ بہت اچھا رہا اور اندازہ ہوا کہ یہ لڑکی لفظوں کا جادو بکھیرنا خوب جانتی ہے۔
ان کی پہلی کتاب شائع ہوئی اور جیسے ہی میرے پاس پہنچی تو ناول کو چند گھنٹوں میں پڑھ ڈالا۔ وہ دن یاد آگئے جب دن میں کئی کئی ناولز پڑھ لیتے تھے خیر انوکھی اور منفرد سی کہانی پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آخر مائرہ انوار راجپوت کی شاگردہ ہیں کچھ تو خاص بات ہونی تھی نا۔
پہلے صفحے پر لکھی لائن نے ہی دل چھولیا۔
"الجھنوں کی بھیڑ میں لاپتہ ہے زندگی"
واہ واہ۔۔
یہ کہانی ہے اسپین کے شہر بارسلونا شہر میں پڑھنے والی ایک لڑکی کی جو یونیورسٹی آف بارسلونا میں پڑھنے کی خواہش رکھتی ہے ، یہ کہانی ہے
سیرت خان اور آمنہ کی دوستی کی ، دونیا اور ارمان کی دشمنی کی، شیری کی محبت کی ،جارج کی ضد کی ، سیرت کی خواہشات کے پیچھے دوڑ کی اور اس دوڑ میں جنونیت کی جنگ کی جو آخر میں اس کو موت کے منہ لے گئی۔
زبان و بیان کے لحاظ سے یہ ایک بہترین کاوش ہے۔ پختگی اور روانی کی مجھے کچھ کمی محسوس ہوئی۔ ابھی ناول کو مزید چلنا چاہیے تھا؛ بہت سے سوالات چھوڑ دئیے، بہت سی وضاحتیں ابھی مقصود تھیں، ابھی کہانی کچھ اور چاہتی تھی لیکن بہت کچھ بیچ راہ میں چھوٹ گیا۔
انجام جیسا بھی ہوا بحر حال پہلے ناول کے لحاظ سے یہ بہت اچھا ناول تھا۔
جیا راجپوت کے لیے بہت سی داد اور آئندہ کے لیے نیک خواہشات

0 Comments