پیاسی نگاہیں
حمیرا نگاہ
![]() |
| Pixabay |
شنید ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ آہستہ بولو لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا ۔ سامنے کھڑی دیوار کو بہت عقیدت اور محبت سے دیکھا جا رہا تھا ، غور کیا تو دیوار پر کچھ لکھا نظر آیا شاید کسی عامل بابا کا اشتہار یا کسی جلسے جلوس کی آمد سے متعلق اعلان۔۔۔۔۔۔
پسِ دیوار دھیان دیا تو سفیدے اور پاپولر کے بڑے بڑے درختوں کے بیچ کہیں کہیں کیکر کے پتے اور پیلے پھول بھی سر جھکائے کھڑے تھے۔۔تازہ تازہ سفیدی سے رنگی سفید دیوار جس کی سفیدی ابھی نامکمل تھی۔۔۔میں نے ساتھ کھڑے وجود پر غور کیا جو اب دیوار سے ہٹ کردیوار سے ملحق مرکزی دیوار پر یوں نظروں کا گھات لگائے بیٹھا تھا گویا کچھ چرانے کا ارادہ ہو ۔۔۔ اس کی مسلسل گھورتی آنکھوں سے نہ جانے مجھے کیوں الجھن سی ہونے لگی تھی۔۔۔۔ان گھورتی آنکھوں میں اس لمحے نہ تو رشک تھا اور نہ ہی حسد ، مجھے وہاں بے چینی کے علاوہ بھی کچھ نظر آ رہا تھا۔۔کیا،
شاید محرومی یا بے چارگی۔۔۔۔
ان آنکھوں کی بصارت بھوک سے لبا لب بھری تھی لیکن اس دیوار کے پار نہ تو کھانا تھا اور نہ ہی کھانا ملنے کی کوئی امید۔۔۔۔
وہ نگاہیں پیاسی تھیں لیکن پانی کی پیاس ان کی طلب نہیں تھی، وہ یتیم نظریں دید کی پیاسی تھیں اور پسِ دیوار باپ کی قبر تھی۔

4 Comments