اقتباسات
ہیروفاکے قلم سے
![]() |
| pixabay |
1۔
میری مسکراہٹ کا راز پتہ ہے کیا ہے؟ مسکراہٹ سے دوستی اور پتہ ہے یہ کب ہوتا ہے جب آپ اپنے آپ سے یہ عزم کر لیتے ہیں کہ بس جو بھی ہو جائے اب ہونٹوں سے مسکراہٹ کو جدا نہیں کرنا اور انسان کو اپنے آپ سے اتنی تو محبت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی زات میں مسکراہٹ کا شاہکار بن کے جیے۔
ہیروفاکے قلم سے
2۔
اس دل کی دھڑکنیں تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ سے چلتی ہیں۔ تصور کرو تمھاری آنکھوں سے گر ایک آنسو بھی نکلا تو اس دل کی دھڑکنوں میں انتشار برپا ہو جائے گا
ہیروفاکے قلم سے
3۔
سنو!
تم ہیر کی محبت تھے ہو اور رہوگے۔ تم بھلے مجھے اس جہان میں نہیں مل سکے لیکن ہیر کی وفا یہ کہتی ہے کہ میرا مالک میرا اللّٰہ روز قیامت مجھے تمھارے ساتھ کی نعمت سے نوازے گا اور وہاں ہم دونوں اس کی بارگاہ میں شکرانے کا سجدہ ادا کریں گے!
ہیروفاکے قلم سے
4۔
کبھی خوشی کی تلاش ہو یا سکون کی تلاش ہو تو ایک کام کرنا۔
کسی تنہا بینچ پر بیٹھے بوڑھے شخص کے لرزتے کانپتے ہاتھوں کو تھام لینا اور اس سے دل بھر کر باتیں کرنا کچھ اس کی سننا اس کے ساتھ گول گپوں کی ایک پلیٹ بانٹ لینا تمھیں سکون کی ایسی نعمت ملے گی جو شاید ہی کبھی ملی ہو!!
ہیروفاکے قلم سے
5۔
سنیں!
مسکرا دیجیے
دیکھا کتنا دلکش ہے تمھارا حسن کیوں اسے تھوڑی سی بات پر نظرانداز کرتی ہو؟ یوں مسکراتی رہا کرو تاکہ بہار کی آمد کے امکان بڑھتے رہیں۔
ہیروفاکے قلم سے
6۔
سنو!
تم کیسے بھول جاتے ہو وہ سکون جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بے سکونی کے بعد عطا کیا تمھیں ، تم کیسے وہ خوشی فراموش کر دیتے ہو جو کئی دہائیوں کے غموں کے بعد نوازی گئی۔ کچھ کر سکو یا نہ اس کی بارگاہ میں ایک شکرانے کا سجدہ لازمی کیا کرو کیا خبر اس کے بدلے تمھارا سکون تمھاری خوشی ہمیشہ کے لیے تمھارے مقدر میں لکھ دی جائیں۔
ہیروفا کے قلم سے
7۔
میرے گھر کے پیچھے لگا وہ تنہا بوڑھا پیڑ مجھے ہر روز یہ کہتا ہے "میری تنہائی کون بانٹے گا؟ میری خاموشیاں کون توڑے گا؟ میری مسکراہٹ کون دیکھے گا؟" میری دھڑکنیں مجھے ہر روز اس بوڑھے تنہا درخت کی طرف کان لگانے پر مجبور کرتی ہیں مجھے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے کہیں اس بوڑھے درخت کی تنہائی، خاموشی، نہ نظر آنے والے آنسو میرا دل چیر کر نہ رکھ دیں۔واللہ میں نے ہر تنہا شخص ،ذی روح کے ساتھ کوئی نہ کوئی دیکھا ہے لیکن اس بوڑھے تنہا درخت کے ساتھ تو کوئی بھی نہیں۔ میرا مغرب کے وقت اس کو دیکھنا یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجھے اپنے دن بھر بلکہ کئی صدیوں کی تھکاوٹ کا بتا رہا ہو اور پھر میری آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں پر کہہ رہا ہو" مت رو کہ تو ہی تو ہے جو مجھے سنتی ہے ، دیکھتی ہے محسوس کرتی ہے چلو اب مسکرا دو کہ میری تنہائی بانٹنے کو تو میسر ہے مجھے"۔ سو اب یہ بوڑھا تنہا درخت تنہا نہیں رہا۔ اسے بھی ساتھ مل گیا ہے۔
ہیروفاکے قلم سے
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

0 Comments