امید
ازقلم طیبہ تبسم (سیالکوٹ)
![]() |
| pixabay |
یہ بات حقیقت ہے جس سے آپ امید لگاؤ گے وہ شخص تمھیں مایوس ضرور کرے گا کیوں کہ جب ہم کوئی چیز اپناتے ہیں دعوے سے کہتے ہیں یہ میری ہے اور جب وہی ہماری دسترس سے باہر جاتے ہی کسی اور کی طرف جائے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے ہمیں دکھ ہوتا ہے ہم ناراض ہوتے ہیں ہم بہت کچھ کرتے ہیں۔کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کی امانت ہیں جس کی دسترس میں ہیں اس رب کو کیسا محسوس ہوتا ہو گا جب اس کا بندہ اسے چھوڑ کر کسی اور کی طرف جائے اس کو اہمیت دے اس سے محبت کرے اس سے خوشیوں کی امیدیں لگائے۔ تو پھر وہ اس کو توڑتا ہے۔ ایک ایک حرف سے توڑ کر پھر اپنے ہی انداز میں جوڑتا بھی ہے اور انسان پھر انسان ایک ہیرا بن جاتا ہے۔یہی ہے توبہ کیا انعام اگر ٹوٹے پڑے رہیں تو وہ بھی صرف رحم کھا کر زندگی گزارنے کی ہمت دے دیتا ہے مگر پھر اپنے بندے سے ناراض بھی رہتا ہے۔
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

0 Comments