پیاری دوست
زونیرا شرافت (لاہور)
![]() |
| pixabay |
دوست کے معنی وفا ,سچائی, اعتبار کے ہیں .ہر کسی سے دوستی نہیں کی جا سکتی کیونکہ ہر کسی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور پھر جن سے دوستی کی جاتی ہے اس پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کر لیا جاتا ہے . اس سے اپنے ہر دکھ , درد شیئر کر لیے جاتے ہیں اور وفادار دوست وہی ہے جو آپ کے ہر دکھ ,درد میں آپ کا ساتھ دے اور آپ کا ہمسفر بن کے رہے. اچھا دوست وہی ہے جو آپ کو غلط کاموں سے روکتا ہے اور صحیح راستے پر چلاتا ہے .
انٹر کی تعلیم کے حصول کے لیے میں نے جس کالج میں ایڈمیشن لیا تو وہاں میری دوستی ایک ایسی لڑکی کے ساتھ ہوئی جو میری ہم عمر اور ہم سوچ تھی . جب میں کلاس میں اکیلی داخل ہوئی تو جہاں سیٹ ملی وہیں بیٹھ گئی اور خود کو تنہا محسوس کرنے لگی . میرے ساتھ بیٹھی لڑکی نے میری تنہائی کو دور کرنے کے لیے مجھ سے باتیں کرنا شروع کر دیں. ہماری باتوں کی شروعات ایک دوسرے کا نام پوچھنے سے ہوئی .اس کا نام ماریہ تھا. باتوں ہی باتوں میں ہم نے ایک دوسرے کے بارے میں جان لیا اور دوست بن گئے. اب روزانہ کالج میں صبح سے لے کر چھٹی تک ایک دوسرےکے ساتھ رہتے تھے اور جو پہلے صبح جلدی پہنچ جاتا وہ اپنے ساتھ والی کرسی پر اپنا بیگ رکھ دیتا تاکہ دونوں ساتھ بیٹھ سکیں. ایسے ہماری دوستی میں مزید اضافہ ہوتا گیا .
ماریہ فیصل آباد کی رہائشی ہیں جب وہ ابھی آٹھویں کلاس میں تھی اس کے والد صاحب کی وفات ہو گئی اور یہ وقت اس کے لیے بہت ہی مشکل تھا میٹرک کے بعد وہ اپنی فیملی کے ساتھ لاہور آ گئی . یہ چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں جب کہ ماریہ دوسرے نمبر پر آتی ہے بھائی تین بہنوں سے چھوٹا ہے .والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ کے لیے اپنے بچوں کی اچھی نشوونما کرنا اور انھیں تعلیم دلوانا ان کے لیے نہایت مشکل تھا یہ سب صورتحال دیکھتے ہوئے اس کی آپی نے اپنی پڑھائی کے ساتھ کال سنٹر میں جاب شروع کر دی .انٹر کی تعلیم ہم دونوں نے ایک ساتھ حاصل کی اور پھر ایک دوسرے کے گھر بھی آنا جانا شروع ہو گیا .انٹر کے بعد ماریہ کو جاب کی وجہ سے دو سال ضائع کرنے پڑے کیونکہ والد کی وفات کے بعد وہ اپنی والدہ پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی تو اس نے سوچا کہ میں جاب کر کے خود اپنی تعلیم کے اخراجات اٹھاؤں گی اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا بھی سہارا بنوں گی تاکہ ان کی کوئی دلی خواہشات ادھوری نہ رہ جائے . یہ سب کچھ سوچتے ہوئے ماریہ نے جاب شروع کر دی اور اپنی فیس جمع کر کے دو سال بعد دوبارہ ایڈمیشن لے لیا .صبح کو کالج جانا اور رات کو جاب پر۔ اس طرح دن رات محنت کرنا اس کے لیے بہت ہی مشکل تھا لیکن وہ سخت محنت کرتی رہی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا .اس کی اس سخت محنت کی ہی بنیاد پر آج اس کے بہن بھائی اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کی کوئی بھی خواہشات ادھوری نہیں رہی. مجھے فخر ہے اپنی اس دوستی پر .
"وفادار دوست زیادہ تر غریب ہی ہوتے ہیں"
خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اپنے گھر کے کچھ مسائل کی وجہ سے میرے بھی انٹر کے بعد دو سال ضائع ہو گئے اور یوں ہم دونوں نے پھر سے ایک ساتھ اور ایک ہی تعلیمی ادارے میں ایڈمیشن لے لیا اور دونوں پھر سے ایک ہو گئیں . سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری دوستی میں ایسے چار چاند لگ جائیں گے اور ہم آج بھی الحمدللہ سے ایک دوسرے کے ہم دم ہیں اور بغیر کچھ سوچے اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کر لیتے ہیں اور ایک دوسرے پر دل سے یقین کرتے ہیں اور ہماری دوستی ایسی ہے کہ ہر کوئی دیکھ کر یہی پوچھتا ہے کہ "کیا آپ دونوں بہنیں ہیں؟" خدا کرے ہماری یہ دوستی ایسے ہی صدا قائم رہے .آمین
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

5 Comments