وہ دن آ گیا لیکن ۔۔۔۔۔۔
عثمان یاسین وہاڑی
خاموش ویرانے میں چہار سو سناٹا سا پھیلا تھا ، دور دور تک کوئی آدم زاد نظر نہ آتا تھا ہر طرف وحشت ہی وحشت خوف ہی خوف تھا ۔۔۔۔ ایسے میں وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا آ رہا تھا آگے پیچھے دیکھتے ، ذہن میں ڈھیروں واہموں کو جھٹکتے کہ
( اس ویرانے میں کچھ بعید نہیں ) بالآخر وہ اپنی مطلوبہ قبر پہ آ کے رک گیا
اس نے ایک بار پھر اپنے اردگرد نگاہ دوڑائی لیکن دور دور تک کسی بشر کا نام و نشان تک نہ تھا ۔ وہ آہستہ سے اپنی مطلوبہ قبر کے پاس آلتی پالتی مارے بیٹھا اور منہ میں کچھ پڑھتے ہوئے آنکھیں موند لیں ۔ قریب درخت پہ بیٹھے کسی پرندے کے مسلسل چہچہانے سے ماحول میں ہلکا ہلکا ارتعاش پھیل رہا تھا جس نے ویرانے کے سناٹے کو ظاہری طور پہ شکست دے دی تھی اور وہ اسی آواز میں گم ہوتے ہوئے ماضی کے پٹ کھولتا بہت پیچھے چلا گیا ۔
* * *
![]() |
| Unplash |
سیف آج بہت خوش تھا ۔ اس کیلیے آج کا دن کسی عید سے کم نہ تھا ۔ کوئی اسے تہنیتی پیغام دے رہا تھا تو کوئی اسے گفٹس پیش کر رہا تھا ۔ ہر دیکھنے والی آنکھ میں اس کیلیے ڈھیروں پیار و محبت اور رشک تھا۔ اور وہ خوشی سے کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کو " مقدس کتاب " کے یاد کرنے پہ اتنی محبت و پیار ملے گا ۔ اب آگے اس کی زندگی کا نیا دور شروع ہونے والا تھا ( درس نظامی ) سیف کے ماموں جان کہہ رہے تھے کہ میں اپنے بیٹے کو خود اپنی مادر علمی ( جہاں سے انہوں نے درس نظامی کی سند فضیلت حاصل کی تھی ) چھوڑ کر آؤں گا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ عید والے دن ماموں جان سب کو رلاتے ہوئے ، سب کو اکیلا چھوڑ کے چپکے سے اللّٰہ جی کے پاس چلے گئے ۔ وہ دن سیف کیلیے بہت مشکل کا دن تھا ۔ جب بھی وہ اس دن کو یاد کرتا ہے تو ڈھیروں آنسوں اس کی آنکھوں سے نکل پڑتے ہیں اور وہ کتنی ہی دیر چپکے چپکے سے روتا رہتا تھا
* * *
پتا نہیں کتنی ہی دیر وہ اس قبر کے قریب بیٹھا رہا، کتنے لمحے بیتے ، کتنے پل سرکے ، اسے کچھ پتا نہیں چلا اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے محسوس ہوا اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا ہے
ماموں جان! آپ کیوں اتنا جلدی چلے گئے ؟
آپ کو پتا ہے آپ کے بغیر آپ کے شہزادے نے جو طویل سفر طے کیا ہے ، وہ کتنا کٹھن تھا ؟ اس میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مجھےلیکن ماموں جان !
میں نے کبھی ہار نہیں مانی ، میں لگا رہا یہی سوچ کر کہ ایک دن آئے گا یہ طویل و کٹھن سفر اپنے اختتام کو پہنچے گا
اور آپ کو پتا ہے ماموں جان!
آج وہ دن آ گیا ہے ۔ جی ہاں ماموں جان!
آج میری دستار فضیلت ہے
ماموں جان! میں نے آپ کا خواب پورا کر دیا ۔ آج میں دستار فضیلت حاصل کرنے جا رہا ہوں
لیکن ماموں! آپ نہیں ہیں ، آپ کی کمی مجھے بہت رلا رہی ہے ۔
کتنی ہی دیر وہ وہاں بیٹھا روتا رہا اور جب اس کا دل ہلکا ہو گیا تو وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس ظالم ویرانے سے دور ہوتا چلا گیا ۔

0 Comments