Hifsaalmas

Reham-o-karam kijye by Sayeda Najia Shoaib Ahmed

رحم و کرم کیجیے

 تحریر: بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد، کراچی


Unplash


”مجھے تم پر غصہ نہیں بلکہ رحم آتا ہے۔“ 

مولوی صاحب کی یہ بات سن کر عبداللہ حیران رہ گیا۔ ویسے کسی کو گناہ میں ملوث دیکھ کر غصے کے بجائے رحم آنا بڑی عجیب سی بات ہے نا؟

معزز قارئین کرام!

آئیے رحم وکرم کے حوالے سے کچھ جانتے ہیں: 

 *رحم کیا ہے؟* 

رحم انسانی جذبے یا احساس کے اظہار کا نام ہے، کسی انسان کے دُکھ ، درد پر دل میں رقت اور ہمدردی پیدا ہونے کی کیفیت، مہربانی، شفقت، نرم دلی، ترس اور ہمدردی کے جذبات اُمڈ آنے کا نام رحم ہے۔ قرآنِ مجید کی ابتداء بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہوتی ہے، بسم اللہ میں اللہ کے دو صفاتی نام رحمٰن اور رحیم استعمال ہوئے ہیں۔ ان دونوں الفاظ کا ماخذ، اشتقاق ”ر۔ح۔م“ ہے یعنی رحم ، جو کہ مہربانی کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ 

”رحم“ انسان کو سب سے پہلے اپنے خالقِ حقیقی سے جوڑتا ہے، اس کا دامن اُمید کے جگنوؤں سے بھر دیتا ہے، اُمید کا یقین اور آس کے جگنو چھیننے والا شیطان لعین ہے جو اور تو کچھ نہیں کرتا لیکن بندے کی اُمیدوں سے ضرور کھیلتا ہے، وہ بندے کے آس کی ڈور کو توڑ دیتا ہے، شیطان سب سے پہلے بندے سے ”رب ہونے کا یقین“ چھین لیتا ہے، انسان سے جب یہ یقین چھن جائے تو اس کے بعد اس کی ذہنی حالت ”ناامیدی “والی ہو جاتی ہے جس کے باعث اس کا آئندہ کی زندگی پر یقین ختم ہو جاتا ہے۔ 

یاد رکھیں! انسان خطاء کا پُتلا اور مٹی کا ڈھیر ہے، اس دنیا میں ہم میں سے کوئی پارسا نہیں، ہر ایک شخص نجانے کتنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے خالق سے ایک موہوم سی رحم اور کرم کی امید رکھتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ارحم الراحمین ہے۔ گناہوں کے باوجود وہ اپنے بندے کی صدقِ دل سے کی گئی توبہ کو قبول کرنے میں ایک لمحہ بھی دیر نہیں کرتا، پیاری رحیم وکریم ذات قرآن کریم میں اپنے بندوں کو کتنی محبت اور شفقت سے دلاسا دیتے ہوئے فرما رہی ہے : 

" لَاتَقنَطُوا مِن رَّحمَةِ اللّٰہ “ 

(اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہونا)

اب یہ بھی جان لیجیے کہ اصل مہربان اور رحم دل انسان وہ ہے جو سب کے لیے مہربان ہوتا ہے ،اس کا دل سب کے لیے نرم ہوتا ہے، وہ دوسروں کے لیے وہی چاہتا ہے جو اپنے لیے چاہتا ہے، وہ دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے، وہ دوسروں کی مجبوری کو سمجھتا ہے، وہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی کا معاملہ کرتا ہے، جس ثقافت کے اندر، جس گھر کے اندر، جن لوگوں اور جس جماعت کے اندر ایک دوسرے پر رحم کیا جاتا ہو، ایک دوسرے کے لیے خیال اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہو تو وہاں ماحول کتنا خوش گوار ہوگا اور جہاں لوگوں کے دلوں سے رحم چھین لیا جائے تو وہاں زندگی اجیرن بلکہ جہنم بن کر رہ جائے گی، ایسے لوگ آخرت میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم و کرم سے محروم ہوں گے۔ 

ہمیں اس سبق کو اپنی عملی زندگی میں لانے کی اشد ضرورت ہے، ایمانداری سے بتائیں کہ کیا ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و حدیث کے مطابق گزار رہے ہیں؟ کیا ہمارا دل کسی مسلمان بہن، بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھ کر ہمدردی اور رحم سے لبریز ہو کر نرم و گداز ہو جاتا ہے؟ یا ہمارے دل میں اس کے نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں؟ جس کا برملا اظہار کرتے ہوئے ہم اسے شدید لعن طعن کرتے ہیں، ہم بے رحمی کے ساتھ بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت سے محروم کر کے مایوسیوں کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں، یقیناً ہم کتنے بُرے انسان ہیں۔

دیکھیے! ہمارا مذہب کتنا پیارا ہے کہ جس نے ہمیں ہر چیز کو واضح طور پر سمجھا دیا ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“

دعا ہے اللہ پاک ہم سب کے دلوں میں نرمی پیدا کرے ، ایک دوسرے کا خیر خواہ بنائے، رب تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطاء فرمائے کہ ہم گناہگار سے نہیں بلکہ گناہ سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرنے والے بن جائیں، گناہ میں مُبتلا کسی بھی شخص کو دیکھ کر اس پر خوش نہ ہوں بلکہ فکر مند ہوتے ہوئے اس کی ہدایت کے لیے صدقِ دل سے دعا کریں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمارے دلوں کو قساوت و شقاوت سے محفوظ ومامون رکھے۔ 

آمین یارب العالمین

Post a Comment

0 Comments