Hifsaalmas

Nakhawandgi by Bint-e-Haneef

کالم:ناخواندگی

از قلم : بنت حنیف

Unplash


 ناخواندگی مطلب ایک غیر تربیت یافتہ ایک لاشعور انسانوں کا گروہ جو ایک ترقی پزیر معاشرے کے لیے ناسور بن سکتا ہے ۔کیونکہ دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے وہاں ایک بہترین تعلیمی اور ذہنی صلاحیتوں کے بغیر کوئی فرد یا معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ تو دوسری طرف ہمارا ملک ہے جس میں تقریباً تیئیس ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔ اور یہ صرف تعداد نہیں بلکہ بہت بڑا المیہ ہے کہ" یہی تئیس ملین آگے جا کر تئیس غیر تربیت یافتہ غیر منظم و غیر ہنر مند شہری کہلائیں گے "۔اب حکومت بے چاری جو پہلے ہی لولی لنگڑی چل رہی ہے وہ اتنی بڑی ان پڑھ فوج کو کیسے اور کہاں تلک سنبھالے گی تو نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں رونما ہو گا اور یہی سب مسائل کی جڑ ہے سب مسئلے یہاں سے ہی تو شروع ہوتے ہیں۔ ناخواندگی کی ایک بڑی وجہ غربت ہے اب ایک شخص جو پورا دن محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے دے پاتا ہے۔ جہاں دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات کے لیے  زندگی سسکتی ہے وہاں تعلیم تو ایک خواب ایک ثانوی شے بن کر رہ جاتی ہے ۔اوریہ ان پڑھ اور شعور سے عاری افراد اپنے جیسے کئی اور افراد میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں ،اس طرح یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے ۔اور اس سب کے ساتھ نہ ختم ہونے والے مسائل بھی نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔   

قرآن  پاک میں ارشاد ہے (مفہوم)" کہ ایک عالم اور ایک جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے"ایک پڑھا لکھا شخص اپنے حقوق سے آشنا ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کے ملک کا قانون و آئین اس کو کون کون سے حق دیتا ہے اسی وجہ سے کوئی اس کی حق تلفی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا جبکہ اپنے حقوق سے نا بلد شخص ایسے ہی بآثر افراد کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوتا رہتا ہے۔بالکل ویسے ہی جیسے آج کل ہماری عوام ان کرپٹ حکمرانوں کے آگے کٹھ پتلی بنی اپنی بے بسی کا تماشا دیکھ رہی ہے۔کیونکہ ان مخصوص اداروں نے جان کر ایسی پالیسیاں مرتب کیں ہیں کہ ستر سال ہونے کو آئے ہیں اور ابھی تک تعلیمی مسائل سے نہ چھٹکارا پایا جا سکا اور نہ ان پر قابو پایا جا سکا ,کیونکہ ان کو علم تھا کہ ایک پڑھی لکھی باشعور قوم ان کی لوٹ مار کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو سکتی ہے لحاظہ ان کو زندگی کے مسائل میں اس قدر الجھا دو کہ یہ سر ہی نہ اٹھا سکیں ۔اور پھر جب انسان اس قدر مجبور و بے بس ہو جاتا ہے تو اس کا نتیجہ منفی اثرات کا حامل ہو جاتا ہے ہمارے ملک میں دہشت گردی اور ڈکیتی جیسی وارداتوں میں آئے دن اضافہ انہی عوامل کا نتیجہ ہے ۔جب ایک ملک میں اتنے سالوں سے تعلیمی مسائل کا حل نہ ہو سکا ہو تو نتیجتاً ہم سالانہ طلب کے مطابق ہنر مند افراد کا اضافہ نہیں کر پاتے اس طرح عدم استحکام کی فضا جنم لیتی ہے ۔ہمارے ملک کے کرتا دھرتا کو چاہیے کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیں ،سالانہ بجٹ میں حکمرانوں کی فضول عیاشیوں کے بجائے تعلیمی سیکٹر پر خرچ کریں تاکہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ نوجوانوں کی آبادی والے اس ملک کے جوانوں کو ہم اس قابل بنا سکیں کہ وہ آگے بڑھ کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھال سکیں ۔اور اسے اس قابل تو بنا سکیں کہ یہ دوسرے ممالک کے سامنے اس قدر حقیر نہ ہو جس قدر آج یہ پستی کا شکار ہے۔

Post a Comment

0 Comments