Hifsaalmas

Mout ki yaad by Amna Nazar

 آمنہ نذر

لاہور

موت کی یاد

Unplash 


ہم میں سے بہت سے لوگ ہیں جن کے کانوں میں یہ آواز ایک دن میں بہت بار جاتی ہے کیا کبھی غور کیا ہے کہ وہ آواز کون سی ہے وہ آواز ہے 

"انا للہ وانا الیہ راجعون"

بے شک ہم اللہ تعالی کے لیے ہیں اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں

(القرآن)

اس اعلان کی آواز بھی ہمارے دلوں پر اثر نہیں کرتی کتنے ہی لوگ ہیں جو روزآنہ اس دنیا کو خیرباد کہہ دیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے بھی ہیں جن کو اس جہاں میں خوش آمدید کہا جاتا ہے بلاشبہ یہ اللہ کی طرف سے ہے لیکن کبھی غور کیا ہے کہ یہ لوگ جوق در جوق اگلے کس جہاں کی طرف جا رہے ہیں ؟ نہیں نہ بہت ہی کم لوگ ہوں گے جو اس بارے میں سوچتے ہوں گے ورنہ تو آج کل کے لوگوں نے مال اولاد اور ایسے بہت سے فتنے ہوں گے جن میں خود کو مبتلا کر لیا ہے اور ہر وقت اپنی نفسانی خواہشات میں اتنا محو رہتا ہے کہ وہ اپنی موت تک کو بھلا بیٹھا ہے اس کے باوجود بھی اللہ اپنے بندوں سے قرآن مجید میں بار بار کہتا ہے

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ۟ ثُمَّ اِلَیۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۵۷﴾


 ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ ہر جاندار کو موت آنی ہے اور سب اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس کی طرف لوٹتے ہیں اور سب لوگ مرنے کے بعد کہاں جاتے ہیں؟ ہمارا مسلمانوں کا تو یہ عقیدہ ہے کہ ہم موت کے بعد اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں اپنے نامۂ اعمال کے ساتھ پیش ہوں گے جسے قیامت کہتے ہیں لیکن ان سب کو جاننے کے بعد بھی انسان اپنی موت کو یاد کیوں نہیں کرتا یا تو وہ سمجھتا ہے کہ بس مسلمان ہے تو بخشا جائے گا یا پھر وہ اپنی بخشش چاہتا ہی نہیں

بہت سے لوگ تو اس وجہ سے بھی نہیں ڈرتے کہ انہوں نے رب کہ "الرحیم" اور "الرحمن" کی صفت کو رٹ لیا ہے اور اس کی رحمت اپنی موت کے بعد بھی خود پر واجب سمجھتے ہیں

لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ" الرحیم" اور "الرحمن" کے ساتھ ساتھ" القھار" کی صفت بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے

پھر سب کچھ جاننے کے بعد بھی انسان کس طرح گھاٹے کا سودا کر سکتا ہے اور کیسے وہ اس دنیا کو آخرت کے بدلے میں خرید سکتا ہے اور کیسے اپنی موت کو بھول کر دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب چکا ہے

آج کل کے لوگ تو اپنی جوانی میں خوب سود کھاتے ہیں خوب یتیموں مسکینوں غریبوں اور محتاجوں کا مال کھاتے ہیں اور اپنی جوانی پیسہ اکٹھا کرنے اور شراب جؤے اور دوسری ایسی عیاشیوں میں گزار دیتے ہیں اور بڑھاپے میں داڑھی اور ٹوپی رکھ لیتے ہیں اور نماز روزہ کے زریعے جنت کو خود پر واجب سمجھ لیتے ہیں کیا ان کی موت اتنی آسان ہو گی کیا وہ سچ میں جنت کے حق دار ٹھہراتے ہیں

اس حوالے سے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں

کیا تم ابھی تک اسی گمان میں ہو کہ ایسے ہی جنت میں داخل کر دیے جاؤ گے

(القرآن الکریم)

اے انسان تو پھر کدھر بھاگتا جا رہا ہے کیوں نہیں زندگی میں ایک بار بھی بیٹھ کر تسلی سے نہیں سوچتا کیوں اپنی موت کو نہیں سوچتا کہ کیسے ایک دم سے روح جسم کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے وہ روح جو روز اول سے انسان کے جسم میں ہوتی ہے انسانی اعضاء کیسے زندگی بھر ساتھ دینے کے بعد بھی ایک دن دغا دے جاتے ہیں یہاں تک کہ سارے رشتے ناطے ٹوٹ جاتے ہیں پیچھے رہ جاتے ہیں 

موت کسی کے لیے خوشی کا ساماں ہوتی ہے کسی کے لیے خوشخبری بن کر نازل ہوتی ہے اور کسی کے لیے موت بہت بے رحم ہوتی ہے اور قہر بن کر نازل ہوتی ہے بس یہ انتخاب ہم نے خود کرنا ہوتا ہے کہ ہم اپنی موت کس طرح سے چاہتے ہیں

موت کے بعد انسان اپنے محبوب رشتے ناطے مال اور ساری دنیاوی زندگی دنیا میں ہی چھوڑ دیتا ہے وہ تعلق بھی توڑ دیتا ہے جس کے بغیر وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور یقین مانیں یہ لوگ یہ مال و اولاد یہ سب بھی دنیا تک ہی ہی موت کے وقت بھی ہمارے ان عزیزوں کو قبر تک پہنچانے کی جلدی ہوتی ہے اور باقی لوگوں کو کھانے کی اگر ساتھ کچھ جاتا ہے تو وہ انسان کے اعمال ہوتے ہیں اگر انسان نے اپنے اعمالوں کے ساتھ وفا کی ہو گی تو بخشا جائے گا اگر بے وفائی کی ہو گی تو اس کی سزا جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں

اے ناداں انسان ! ابھی بھی وقت ہے اپنی مصروف زندگی سے تھوڑا وقت نکال کر اپنی موت کو یاد کر لے اپنے اعمال سے نظر دوڑا لے کہیں تو خسارے میں تو نہیں جا رہا اگر ایسا ہے تو فوراً توبہ کر لے فوراً اس کے سامنے جھک جا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے

آپﷺ بھی موت کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے حدیث میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے 

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے ' بذدلی اور بڑھاپے کی ذلیل حدود میں پہنچ جانے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے

(صحیح البخاری ٢٧٢٣)

زیادہ وقت نہیں ہے بہت ہی کم وقت بچا ہے زیادہ سے زیادہ انسان ٧٠ سال تک ذندہ رہتا ہے کیا پتہ اگلے ہی سیکنڈ میں بغیر توبہ کے موت آ جائے اللہ تعالیٰ ہم سب کی موت کو ہمارے لئے آسان کر دے اور موت سے پہلے توبہ کی توفیق اور ہدایت عطا فرمائے

آمین ثم آمین

Post a Comment

0 Comments