Hifsaalmas

Makafat-e-Amal by Rehana Rana (Reviewer-Hifsa Almas)

 مکافات عمل 
ریحانہ رانا

تبصرہ نگار: حفصہ الماس 

Novel


مکافات عمل ایک بہترین ناول ہے جس کے ایک لمحے کو بھی بور نہیں کیا۔ کہانی اتنی روانی سے لکھی ہوئی ہے کہ ایک ہی نشست میں پڑھی جا جاسکتی ہے۔ 

 کہانی کو پڑھ کر ایسا لگا کہ یہ تو عام سی کہانی ہے۔ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی زبان میں لکھی تحریر کو پڑھنے کا الگ ہی مزہ تھا۔ ایسے لگا جیسے کوئی بات کررہا ہو اور ہم جوابات دے رہے ہوں۔ چارلس کی ماں کی زبان پہ تھوڑا اعتراض تھا لیکن خیر وہ موقع مناسب کے لحاظ سے ٹھیک تھا ۔ یہ ناول اپنی زبان و بیان کے لحاظ سے بھی پڑھنے کے لیے بہترین تھا۔ باقی کہانی کو دیکھیں تو بہت سے لوگ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں اور فیسبک سے ملنے والا دھوکا بہت سے کھاتے ہیں لیکن پھرکئی چہروں کے ساتھ پھرتے لوگوں کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے یہ اندازہ تحریر پڑھ کر ہوا۔ موضوع کی مناسبت سے بہترین ناول تھا۔ ایک عام سی کہانی کو بہترین انداز بیاں میں تحریر کرنا یقینا بہترین لکھاری کی نشانی ہے اورصاف گو ریحانہ رانا منجھی ہوئی لکھاری ہیں۔

ناول واقعی دلچسپ تھا اور وجہ اس میں چارلس کی موجودگی تھی جس میں کوئی چیز بھی چارلس جیسی نہیں تھی سوائے نام کے۔ 

مجھے ناول کا ہیرو پسند آیا۔ چپ چاپ سے عشق کی حد تک محبت کرنے والا شخص۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ آخر میں اس سے شادی ہوجائے گی۔ 

پیسوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو آپ کی طرف سے تحفہ ملا تھا باقی وقت کا ضیاع نہیں تھا کیونکہ اس میں کئی اسباق پوشیدہ تھے جن میں سے ایک مکافات عمل تھا جس سے لوگ آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ یوں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ پوچھنا ہی نہیں، گناہ پہ پکڑ ہونی ہی نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کسی سے غافل نہیں ہیں۔ باقی خوابوں کی دنیا میں بسنے والوں کی آنکھیں دیر سے کھلتی ہیں لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور مکافات عمل کا پہیہ گھوم چکا ہوتا ہے ۔

 ان شاءاللہ اگر موقع ملا تو آپ کی نئی کتب ضرور پڑھنا چاہیں گے۔ 

میری زاتی رائے ہے کہ یہ ناول سب کو پڑھنا چاہیے خصوصا نوجوان نسل کو کیونکہ یہ کہانی ہی ان لوگوں کے لیے جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے اپنا وقت ایسے کاموں میں گزارتے ہیں اور پھر برے انجام سے گزرتے ہیں۔

بہترین ناول لکھنے کے لیے ریحانہ رانا کے لیے بہت سی داد اور آئیندہ آنے والے ناولز کے لیے نیک خواہشات



Post a Comment

0 Comments