Hifsaalmas

Kya yahi piyar ha by Rakhshinda Baig

 عنوان :کیا یہی پیار ہے !!

لکھاری :رخشندہ بیگ
 

Unplash 


حدید: " میری جان بہت انتظار کرواتی ہو کب سے تمہیں کال کر رہا ہوں اور تم ہو کہ اگنور کر رہی ہو ۔"


عرش: "آج کل مہمانوں کی آمد ورفت زیادہ ہے میں نے کہا بھی تھا ،ان دنوں کال مت کرنا اور پھر اور بھی کام ہوتے ہیں میں ہر وقت تمہاری کال ریسیو نہیں کر سکتی" .


حدید: " جان تمہاری یاد ہر لمحہ میرے دل میں کسی بچے کی طرح ہمکتی رہتی ہے اور تمہاری آواز سننے کی تڑپ بار بار مجبور کرتی ہے ،کہ تمہاری سریلی اور رس بھری آواز سے اپنے دل کو سکون دوں ،تمہاری میٹھی میٹھی شرارتی باتیں میری ساری تھکن اتار دیتی ہیں ۔"


عرش:" اچھا اور بتاؤ نا مجھے کتنا یاد کرتے ہو ؟کیسے میرے لئے تڑپتے ہو ؟ 


حدید:" اجازت دو تو میں تمہارے انگ انگ کی تعریف میں صفحے کے صفحے کالے کر دوں, تمہاری مدح سرائی کے لیے تو میرے پاس الفاظ بھی کم پڑ جائیں گے جاناں ۔"


عرش: "حدید جب تم میری تعریف کرتے ہو تو , لگتا ہے میں بہت خاص ہوں ۔ سب سے انوکھی ، سب سے خوبصورت ۔تمہاری باتیں مجھے ایسے آسمانی جھولے پر بٹھا دیتی ہیں جس پر بیٹھ کر میں آسمانوں پر دور تک اڑتی چلی جاتی ہوں, تم لفظوں کے جادوگر ہو یا کیا ہو تم، میں تو تمہاری اسیر ہو چلی ہوں !!!!۔"


حدید: " تم وہ ساز ہو جس کے سروں سے مردے میں بھی جان پڑ جائے, سوکھے دریا رواں ہو جائیں ،بنجر صحرا باغ و بہار ہو جائے ، کسی مرتے ہوئے کو آرام آ جائے, کسی مسافر کو کھوئی ہوئی منزل مل جائے کسی پیاسے کو جام مل جائے۔ بس کیا کہوں جان جاناں کہ تم میرے لیے کیا ہو۔ میری ہیر ہو یا لیلی ہو سوہنی ہو یا سسی ہو محبت کے ہر لازوال کردار سے بڑھ کے تم ہو میری جان, صرف تم ہو۔"


عرش: "بس بس رک جاؤ میری تو سانسیں بھی بے قابو ہو گئی ہیں۔۔۔۔۔ میرے ہونٹ تھرانے لگے ہیں اور میرے رخسار تپ کے سرخ ہو چکے ہیں۔ آنکھوں میں خمار سا بھر گیا ہے تم تو جادوگر ہو ۔ دیوانہ بنانے کا گُر ہوش اڑانے کا ہنر تمہارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے, پر کیا یہ جذبات یہ الفاظ صرف میرے ہی حسن کے محتاج ہیں میرے ہی مرہون منت ہیں یا یہ کرم ہر کس و ناکس پہ عام ہے؟ "


حدید : " تم میرے جذبوں کی توہین کر رہی ہو یا میرے کردار پر شک!! ایک تم ہی میری زندگی کی وہ پہلی محبت ہو جو کسی نوخیز کلی کی طرح میرے دل کی زمیں پر نمو پا کے لہرا رہی ہے اور میرے تن من کو اپنے حسن کی رعنائیوں اور خوشبو سے معطر کر رہی ہے ۔"


عرش:" پر میں تمہاری اس بات پر کیسے یقین کر لوں کہ یہ سب الفاظ اور جذبات صرف میرے لئے ہیں اور تمہارے ہونٹوں سے محبت کے گیت سچ کی بانسری پہ گائے گئے ہیں۔جھوٹ کا زہر ایک رتی بی اس میں شامل نہیں ، لفظوں کے یہ موتی صرف میرے لیے ہیں؟"


حدید :"عرش تم میرے جذبات کی توہین کر رہی ہو اگر ایسی ہی بات ہے تو تم بھی تو ثبوت دو اپنی محبت کا مجھے یقین ہو کہ تم میری ہو اور میری ہی رہنا چاہتی ہو۔"


عرش: "اس سے بڑھ کے اپنی محبت کا ثبوت کیا پیش کروں کہ بھائی اور باپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر رات کی تنہائی میں تمہارے ساتھ اپنے جذبات بانٹ رہی ہوں ۔"



حدید:" تمہیں اچھی طرح پتا ہے مجھے کچھ اور چاہیے۔۔۔۔۔ جسے تم اتنے دنوں سے ٹال رہی ہو ، اب تو میری خواہش پوری کر دو۔ میری جان اور کتنا تڑپاؤ گی اپنے دیوانے کو ۔



عرش:" نہیں نہیں میں تمہاری یہ بات یہ خواہش پوری نہیں کر سکتی ۔"تمہاری خواہشات تو روزبہ روز بڑھتی ہی جا رہی ہیں ۔"


حدید: " سنو میری جان رات ہے ،تنہائی ہے ،میں ہوں اور تم ہو اور ہمارے جذبات ،تم گھر سے نکل آؤ چند گھنٹوں ہی کی تو بات ہے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ "


عرش:" نہیں میرا اللہ تو ہے جو ہر دم مجھے دیکھ رہا ہے ۔ میں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے اتنا بھی کیا غلط کیا, آج مجھے اس بات کا احساس ہو رہا ہے۔ "


حدید :”ارے میری جان اب تو تم میری ہو اور میں تمہارا 

پھریہ گناہ اور ثواب درمیان میں کہاں سے آ گیا ۔“



عرش:”تم پھر اپنے گھر والوں کو بھیجو میرے گھر میرا ہاتھ مانگنے ۔“

حدید :”میری جان یہ سب بعد کی باتیں ہیں شادی بھی ہوتی رہے گی میری مجبوری کوسمجھو “


عرش :”کیا مطلب !!تم نے مجھے ایک سال سے آسرا دیا ہوا ہے اور میں تمہاری باتوں پر وعدوں پر اعتبار کرکے اپنے قیمتی جذبات تم پر لٹا رہی ہوں ۔اپنے اللہ اور ماں باپ کے اعتبار کو توڑ کے ۔۔۔۔ تم اورتمہارے وعدے؟؟“


حدید:" بس بند کرو اپنا یہ وعظ پہلے عشق لڑانے کا شوق اٹھتا ہے اور بعد میں شرافت کا لبادہ اوڑھ کر اللہ یاد آ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔تم جیسی لڑکیوں کو میں اچھے سے سمجھتا ہوں قیمت بڑھانے کے کھیل ہیں یہ سارے ۔"


عرش: "حدید۔۔۔.یہ تم کیا کہہ رہے ہو, مجھے یقین نہیں آ رہا کیا یہی تمہاری محبت ہے؟ یہی تھی وہ محبت جس کی قسمیں کھائیں تھیں اور یہی تھی وہ محبت جو جان سے پیارے رکھنے والے ماں باپ کو دھوکہ دے کر تم سے نبھا رہی تھی" !!


حدید : " سچ کہہ رہا ہوں, تم جیسی لڑکیاں خود کو سمجھتی کیا ہیں, ارے تم جیسی ہزاروں میرے اک اشارے پر اپنا آپ تھالی میں سجائے پیش کر دیتی ہیں"


عرش : " حدید, میں اپنے رب کی بہت شکر گزار ہوں جس نے بر وقت مجھے سنبھال لیا ۔میرا رب جو مجھ سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔شکر ہے اس نے تم جیسے درندے کا نوالہ بننے سے محفوظ رکھا ،میں بھٹک ضرور گئی تھی پر اب بھی معافی کا در کھلا ہے، ابھی لاج کے پردے میں وہ سوراخ نہیں ہوا جو مجھے اور میرے ماں باپ کو رسوائیوں کے اندھیرے میں دھکیل دے۔۔۔۔۔ میں فون بند کر رہی ہوں آئندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا" ۔

Post a Comment

0 Comments