Hifsaalmas

Ilm by Danial Hassan Chugtai

 علم 


دانیال حسن چغتائی

Unplash 


اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدافرمایا اور اس کو جس بنیاد پر دیگر مخلوق پر فضیلت دی وہ علم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ علم ہی کے ذریعے آج انسان موجودہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس ترقی کی اصل بنیاد اللہ تعالی کا انسان کو عطا کردہ وہ علم ہے جو انبیاء کے ذریعے اپنے بندوں تک پہنچایا ہے ۔ 

علم کی جو سرپرستی اسلام نے کی ہے کوئی دوسرا مذہب اس کا عشر عشیر بھی نہیں پیش کر سکتا، اسلام کا زندہ و جاوید معجزہ قرآن مجید ہے، اور اس کی سب سے پہلی آیت میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، دنیا کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور عروج میں علم کے کیسے کیسے مراکز قائم کیے اور دنیا کو علم سے بھر دیا، اس دور کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ لوگوں نے علم کی روشنی میں ترقی کے منازل طے کیں، انسانوں کے اندر صحیح انسانیت پیدا ہوئی اور علم و اخلاق کا جو گہرا رشتہ تھا اس میں اور استحکام پیدا ہوا، اس کے آفاق میں اور وسعت پیدا ہوئی اور مسلمانوں نے اس میں ایسی ایسی باریکیاں پیدا کیں جن سے نئے نئے گوشے سامنے آئے۔ پھر اسی علم کو جب یورپ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے نام سے آگے بڑھانے کی کوشش کی اور اس میں اس کو بڑی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں تو اس نے علم کے لیے حدود و قیود متعین کر دیں، اور اسلام نے اس کو جو آفاقیت عطا کی تھی اس کے بالکل بر خلاف اس کو خاص رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اعتدال قائم نہیں رہ سکا۔ علم سے جو حقیقی فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا اس سے دنیا محروم ہوگئی، اور علم کا اخلاق سے جو رشتہ تھا وہ کاٹ دیا گیا، اس کے نتیجہ میں دنیا تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی، ایک طرف ٹیکنالوجی کے سہارے بڑے بڑے ہتھیار تیار کر لیے گئے، ایٹم بم ایجاد ہو گئے ، اخلاق و انسانیت کے فقدان کی وجہ سے دنیا تباہی کے کنارہ کھڑی ہوئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم ایسے ہاتھوں میں گیا جن کے پاس اس سلسلہ کی آسمانی تعلیمات نہیں ہیں، سب سے زیادہ جو مذہب علم بیزار رہا ہے، وہ عیسائیت ہے، یورپ پر ایک دور ایسا گزرا ہے کہ علم حاصل کرنا ان کے مذہب میں جرم تھا، اور علم حاصل کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں جس کی ایک تاریخ ہے۔

جب یورپ نے علم حاصل کیا تو اس کو اپنے مذہبی اصولوں سے دستبردار ہونا پڑا۔ علم کے میدان میں تو وہ آگے بڑھتا گیا لیکن اخلاقی اعتبار سے دیوالیہ ہوتا چلا گیا، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے یہ بات اپنی تقریروں میں کئی جگہ فرمائی کہ " دنیا کے لیے وہ دن منحوس ترین تھا جب علم کی قیادت عیسائی یورپ کے ہاتھ میں آئی"

اگر کوئی واحد ہستی ایسی ہے جس کے متعلق وثوق سے کہا جاسکے کہ اس نے حقیقتا تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے، جس نے انسان کو جہالت کے بجائے علم ، فرسودہ روایات کے بجائے تعقل، اور آباء واجداد کے نقش قدم کی پیروی کے بجائے عقل و بصیرت اور تفکر و تدبر سے کام لینے کا عادی بنایا ہے ، تو وہ ذات گرامی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، آپ تاریخ کے اس دوراہے پر نظر آتے ہیں جہاں سے عقل و استدلال اور توہم پرستی کے راستے جدا ہوتے ہیں، آپ کی تعلیمات نے انسان کو عقل کی روشنی عطاء کی، اور اس کی مبصرانہ صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں خالق کائنات نے نوع بشری کو علم عطا کرنے کے احسان کا ذکر کیا ہے، اور اس قلم کو اس کا وسیلہ قرار دیا، جس سے علم کا تاریخی سفر وابستہ ہے، اور جس سے تصنیف و تعلیم کی عالمگیر تحریک جاری ہوئی، اور علم ایک فرد سے دوسرے فرد، ایک قوم سے دوسری قوم، ایک زمانہ ہے دوسرے زمانہ اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا رہا، دنیا میں علم کی اشاعت اور انسانی ضرورت کے مطابق اس کی عمومیت کا فخر اسی کو حاصل ہے، اور اس کی گردش و جنبش سے مدارس و جامعات اور علمی اداروں اور کتب خانوں کی دنیا آباد ہے۔

قرآن علم کے مختلف ذرائع کے تذکرہ کے ساتھ ان اشیاء کی جانب توجہ دلاتا ہے جن کا مطالعہ حصول علم کے لیے کیا جانا چاہیے، اس سلسلہ میں اس نے انفس و آفاق اور گذشتہ اقوام کے احوال (جنھیں قرآن نے ایام اللہ اور سنت اللہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے، اور آج جسے تاریخ کہا جاتا ہے) کی جانب توجہ دلائی ہے تاکہ انسان ان پر غور و خوض کر کے مفید نتائج بر آمد کر سکے، اور بڑے قیمتی اور دور رس ، پر از امکان اور انسانی مستقبل پر گہرائی سے اثر انداز ہونے والے نتائج تک پہنچ سکے۔

علم کے صحیح مقصد کی طرف رہنمائی اور اسے مثبت تعمیری و مفید اور ذریعہ یقین بنانے کے سلسلے میں بعثت محمدی کے کردار کی اس سے زیادہ اہمیت اور قدر و قیمت ہے جو اس نے علمی تحریک کی فعالیت و وسعت کے سلسلے میں ادا کیا ہے۔

مسلمانوں نے صرف عظیم الشان اور وسیع سلطنتوں کی بنیاد نہیں ڈالی، بلکہ ایک زمانہ میں وہ دنیا کی تمام اقوام پر علم و فضل میں بھی فائق تھے۔ مسلمانوں میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو حصول علم کے شوق، اس کی بے لوث خدمت اور مختلف علوم میں بیش بہا تصنیفات کے لیے ممتاز رہے ہیں، قرن اول کے ائمہ، محدثین اور فقہاء و مجتہدین سے قطع نظر (جن کی مثال دنیا کی کسی قوم میں نہیں ملتی ) مسلمانوں نے دینی اور دنیاوی علوم میں ایسے مفکرین اور مصنفین پیدا کیے جن کا مقابلہ دوسری قوموں کے بڑے سے بڑے عالم سے کیا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے تحصیل علم کا دائرہ صرف مذہبی علوم مثلا تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ اور مذاہب کے تقابلی مطالعہ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انھوں نے جغرافیہ، طبیعیات، نباتات، ہندسہ، طب، کیمیا، فلسفہ، تاریخ و مذاہب و تمدن جیسے علوم کی خدمت بھی کی ، ان کے اکثر علماء نے صدیوں تک مختلف علوم وفنون میں دنیا کی رہنمائی کی ہے، اور کبھی نہ مٹنے والے نقوش چھوڑے ہیں۔

علم کا اس کے اصل سے منقطع ہونا واقعتا بہت بڑا فتنہ ہے، انسان نے علم تو حاصل کر لیا لیکن اس کے ذہن نے علم کے خالق کو فراموش کر دیا، آج دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوتی ہے، یورپ اور امریکہ کے سیاست دانوں اور عالموں اور ان تمام لوگوں سے معذرت کے ساتھ جو مغرب کی تہذیب پر نازاں ہیں، میں یہ عرض کروں گا کہ انسان کا اپنے آپ کو خود مختار اور اس دنیا کا حقیقی مالک سمجھ لینا ایک بہت بڑی غلطی تھی، انسان جب اپنی ابتداء کو بھول گیا تو اسے اپنی حیات کا مقصد اور انتہا بھی فراموش ہو گئی، میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انسان اس وقت تک اس دنیا کے حالات کو سدھارنے میں ناکام رہے گا جب تک وہ یہ تسلیم نہ کرے کہ وہ صرف ایک مخلوق ہے جسے اپنے خالق کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی بھی کرنی ہے، اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسے جتنا بھی علم حاصل ہوا ہے وہ اس کے ایک سرے پر کھڑا ہوا ہے اور دوسرے سرے پر علم کا خالق، اس کا آقا اور مالک موجود ہے، اگر یہ رشتہ منقطع ہو گیا تو انسان اپنی تخلیق کا مقصد بھی فراموش کر دے گا، اور ہماری دنیا ایک میدان جنگ اور انسانیت کے ایک ایسے فریج میں تبدیل ہوجائے گی جہاں غلامی کی ہے شمار اقسام، بے انصافیوں اور انسانیت کی تذلیل کا دور دورہ ہو گا۔

Post a Comment

0 Comments