" دنیا کی محبت "
نیہا علی
![]() |
| Unplash |
دنیا کی محبت اتنی معمولی چیز نہیں ہے کہ ہم سمجھتے ہیں دنیا کی محبت کو بھی عروج پہ رکھیں اور رب کی محبت بھی پا لیں۔
دنیا کی محبت رب کی یاد سے غفلت کی طرف موڑنے والی ہے۔ دنیا کی لذتیں ایمان کی لذتوں سے آشنا نہیں ہونے دیتیں
دنیا کی ہوس قرآن کے حکموں پہ عمل نہیں ہونے دیتی۔ مؤمنین کے لیے یہ دنیا کبھی محبوب نہیں ہوتی۔ ان کے سامنے سونے کے ڈھیر بھی لگا دیے جائیں۔ آسائشوں اور دنیا و مافیہا کے خزانے بھی قدموں میں رکھ دیے جائیں
وہ ان کا ذرہ بھی لینا پسند نہیں کریں گے۔ نہ اسے محبوب جانیں گے۔ کیونکہ ان کے لیے ایمان ان سب چیزوں سے مہنگا ہوتا ہے۔ جس کی قیمت دنیاوی کوئی شے نہیں لگا سکتی
دنیا کی محبت سے اللّٰه کی محبت نہیں مل سکتی۔ اللّٰه کی محبت والوں کے لیے یہ دنیا صرف ضرورت ہوتی ہے۔ وہ نہ کچھ جمع کرتے ہیں۔ نہ کسی دنیاوی شے کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں
بلکہ ان کی جمع پونجی ایمان ہوتا ہے۔ وہ اسے ہی بڑھانے میں وقت لگاتے رہتے ہیں۔ جسمانی طور پہ اپنی تمام ضروریات کا خیال ضرور رکھتے ہیں
لیکن ان جسمانی تمام تر ضروریات سے محبت نہیں کرتے۔ کیونکہ انہیں یہ ادراک ہوتا کہ جسم مٹ جانے والا ہے اور روح کا سامان باقی بچ جانے والا ہے
دنیا فانی ہے جسم فانی ہے۔ اس لیے وہ اس مٹی کے جسم سے محبت نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ دھوکوں میں نہیں جیتے، وہ طاقتوں والے رب کے بتائے ہوئے حقیقت کے آئینوں میں تنگ ہو کر ہی سہی مگر جینے کی سعی کرتے رہتے ہیں
ارشادِ ربانی ہے دنیا کی زندگی کی مثال تو بالکل بارش جیسی ہے جسے ہم آسمان سے برساتے ہیں ،پھر اسی سے زمین کا سبزہ اور روئیدگی مل جل کر وہ چیزیں اگتی ہیں
جو انسان بھی کھاتے ہیں اور چوپائے بھی یہاں تک کہ جب زمین سرسبز ہو گئی آراستہ ہو گئی اور وہاں کے رہنے والوں نے اندازہ لگا لیا کہ اب ہم نفع پانے پر قادر ہو گئے کہ ناگہاں ہمارا حکم اس پر رات کو یادن کو آپہنچا ہم نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ،
اس طرح سے کہ گویا کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے ہم اسی طرح سے اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان فرما دیتے ہیں
اللّٰه تعالیٰ سلامتی کے گھرکی طرف بلانا چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست پر لاکھڑا کرد یتا ہے ۔( سورۂ یونس)
جب بارش ہوتی ہے تو انسان بڑا خوش ہوتا ہے کہ اس کی بوند بوند برس کر فصلوں کو ہرا بھرا کر دے گی۔ بہت سا اناج اگائے گی۔ اور اسے بہت سا مال ملے گا۔ آرام سے وہ کھائے پیے گا عیش کرے گا
لیکن وہ دوسری صورت بھول جاتا ہے۔ کہ جس رب نے بارش سے یہ سب پیدا کیا ہے۔ وہ آسمان سے تیز ہوا بھیج کر سب کچھ خاک بھی بنا سکتا ہے۔ وہ پل میں اسے ملیامیٹ کر کے صفا ہستی سے مٹا سکتا ہے
لیکن یہ سوچے بغیر انسان اس دنیا کے مال و زر سے بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کی طرف کھنچتا ہے اور خود کو ہلکان کرتا ہے
یہ مثالیں اللّٰه نے ایسے ہی نہیں دیں۔ بلکہ دنیا کی بجائے آخرت کی ترغیب کے لیے دی ہیں۔ اس بارش کی طرح ہی روح جسم میں اترتی ہے
اس کی حرکت و توانائی بن جاتی ہے۔ اور انسان اس توانائی پہ ناز کرتا ہوا اس جسم کو دنیا میں پالتا رہتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا وہ رب ایک پل میں اس جسم سے روح واپس کھینچ سکتا ہے
بالکل اسی طرح جیسے وہ آندھی و ناگہانی آفات سے مکمل فصل کو تباہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح اچانک جسم کی حرکت و طاقت کو بھی تباہی کی طرف لا سکتا ہے
جس کی ہوس انسان کو دنیا میں اندھا کر دیتی ہے۔اور یہ سب اچانک ہونا ممکن ہے۔ یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے جو ان مثالوں کو اپنی ذات پہ لاگو کرے گا وہ دنیا کی حقیقت سمجھ کر اس کی محبت سے بچ جائے گا
دنیا اتنی سی ہے کہ ہاتھ پہ خاک رکھ کر اڑا دی جائے۔ یہ مہنگے کپڑے، یہ مہنگے جوتے یہ نت نئے ملبوسات کی تیاری، یہ بڑے بڑے گھر، یہ بڑے بنگلے ، یہ گاڑیاں یہ اپنی اگلی نسلوں تک کے لیے کی جانے والی کمائی،
یہ گناہوں کی رغبت ، نیکیوں کی کمی، یہ سب دنیا سے محبت ہے۔ جو چیز فائدے پہ معمور نہیں ہے اسے بھلا کون اکھٹا کرتا ہے؟
جب آپ کو دنیا کی خوبصورت چیزیں یہ چمکتے دمکتے دنیاوی آئینے متاثر کریں۔اور ان کی طلب آپ میں بڑھنے لگے۔ یہ ضرورت سے آگے حسرت و خواہش بن جائے۔
تب تب خود کو یاد دلائیں کہ یہ عارضی ہے،یہ ختم ہونے والی چیزیں ہیں۔ اپنے آپ کو قرآن کے حکموں سے عبرت پکڑنے کی طرف لائیں۔ قبروں کا رخ کریں۔ کئی ہی شاہ زادوں کو زیر زمیں سب چھوڑ کر دفن ہوا دیکھیں
خود سے پوچھیں آمنہ
کیا یہ دنیا عارضی نہیں؟
کیا اس کی خواہشات و آسائشیں مٹنے والی نہیں؟ میں کیوں یہ اکھٹا کر رہی ہوں سب، میں دھوکے میں کیوں جی رہی ہوں؟
کیا بچ جانے والی چیز ایمان ہے؟
ہاں بالکل ایمان ہے۔
تو پھر میں اسے اکھٹا کیوں نہیں کرتی؟
میں نیکیوں میں دوڑ کیوں نہیں لگاتی؟
کیا کسی کا مال و دولت اسے آخرت میں فائدہ دے گا؟ کیا کسی کے پاس ڈھیروں ملبوسات اسے ہمیشہ پہننا نصیب ہوئے؟ کیا کسی نے جو کمایا وہ سب انجوائے کیا؟
کیا موت لوگوں کو اچانک نہیں جکڑ لیتی؟
کیا میں نے اپنے بہت سے پیارے اچانک نہیں کھوئے جو کبھی لوٹ کر ہی نہیں آئے؟
کیا رب نے نہیں بتایا کہ تمھاری دنیا تمھارے کچھ کام نہ آئے گی؟
تمھارے رشتے تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے؟
ڈھیروں فدیہ دے کر بھی تم اپنے انجام سے بچ نہیں سکتے؟
یقیناً یہ سب حقیقتیں دل قبول کرتا ہے۔ لیکن نفس کے غلبے کے باعث دھوکے سے نہیں نکلنا چاہتا۔
اور دنیا میں دی گئی دھوکہ دہی آخرت میں نظریں اور دل کے قفل کھول دے گی
لیکن تب دنیا و آخرت دونوں ہاتھوں سے نکل چکی ہو گی۔دنیا کی محبت انسان کو رب کی نافرمانی کی طرف لے جاتی ہے۔ غلط و صحیح کی پہچان چھن جاتی ہے۔
ایک اندھا سفر جس میں انسان بڑھتا ہی چلا جاتاہے۔ دھوکہ ، جھوٹ ، نفس پرستی کئی گناہ دنیا کی محبت میں جنم لیتے ہیں۔
یوں سمجھ لیں کہ ہر گناہ کی جڑ دنیا کی محبت میں مبتلا ہونا ہے
اور جتنی دنیا کی محبت اور طلب میں ترقی ہوتی ہے۔ اتنی رب کی محبت میں کمی آتی ہے۔ اس دنیا کو حصول کبھی نہ بنائیں۔ اس کے لیے تگ و دو مت کریں۔ حصول جنت کو بنائیں ، تگ ودو بھی جنت کی ہی رکھیں
٫٫چنانچہ دنیا کی حقیقت کو سورۂ کہف میں اس طرح بیان کیا گیا
ترجمہ! ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجئے کہ وہ پانی کی طرح ہے۔ جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کو روئیدگی ملتی ہے، پھر آخر کار وہ چورا (چورا) ہو جاتی ہے
جسے ہوائیں لیے اڑتی پھرتی ہیں۔اللّٰه ہر چیز پر قادر ہے۔ مال و اولاد تو دنیا ہی کی زندگی کی زینت ہیں۔ ہاں البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ازروئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت ہی عمدہ ہیں
یاد رکھیں
موت کی آندھی کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ اور ہماری جمع پونجی خاک کی طرح ذروں میں بٹ کر بکھر جائے گی۔
یہ مثالیں ارگرد دیکھیں کہ ایک تیز ہوا کا جھونکا کیسے تیار فصل کو اڑا کر لے جاتا ہے۔
یونہی یہ دنیا بھی رب کے حکم سے اچانک مٹ جائے گی
ہم کئی خواہشیں ، کئی حسرتیں لیے ہوں گے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں ہو گا ہم کئی خواب سجائے ہوں گے
کئی کچھ آنے والے سالوں میں جینے کے منصوبے بنائے ہوں گے۔ بہت سے دنیاوی ہدف ہمارے ذہن میں کوشش میں ہوں گے
لیکن انہی لمحوں ہمیں موت آ لے گی۔ سب خواب ، حسرتیں ، کمایا ہوا سب لٹ جائے گا۔ اور ایک نیا جہاں شروع ہو جائے گا
ہم مرنا نہیں چاہیں گے پھر بھی مر جائیں گے۔ ہم زندگی چاہیں گے پھر بھی نہ دی جائے گی۔ اور سب کچھ دنیاداری کا مٹ جائے گا۔
لیکن وہ خواہشیں وہ خواب وہ مقاصد جو دین کی خاطر زندگی کے کئی سالوں پہ انجام دینے کو ذہن میں ترتیب دیے ہوں گے۔ ان خوابوں کو جینے سے پہلے مر بھی گئے تو صرف نیت کا رب کے ہاں اجر پائیں گے
جب کہ دنیاداری کے پلین کوئی بھلائی نہ پہنچائیں گے۔ خداراہ دنیا کو ضرورت تک لے آئیں۔ آخرت کو حسرت و خواہش ، محبت و رغبت ، چاہت و کوشش تک لے آئیں۔
خود کو سب کچھ جان کر دھوکہ میں مت رکھیں۔ کیونکہ رب اگر ہمیں دھوکہ میں رکھنا چاہتا تو مثالیں نہ دیتا۔ ہمیں عقل والے بننا ہے۔ ارگرد کی دنیا میں اس جہاں کے فانی ہونے کے سبق ہیں۔ ان سے جو سبق سیکھے گا وہ دنیا کی رغبت سے نکل آئے گا۔ اِن شاءاللّٰه
رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا،
پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟
کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟
وہ کہے گا کہ اللّٰه کی قسم
اے میرے رب کبھی نہیں
اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟
کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟
وہ کہے گا کہ اللّٰه کی قسم مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت و سختی نہیں دیکھی (صحیح مسلم 2807)
حالانکہ مومن کو دنیا میں زیادہ تکالیف آتی ہیں۔ اس کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوتی ہے
لیکن سبحان اللّٰه جنت کی راحتیں اس قدر وسیع ہوں گی۔ کہ ان راحتوں کو پا کر وہ دنیا کی تمام آزمائشیں تمام سختیاں بھول جائے گا
اسے یہ ذرا ذرا سی تکالیف اس راحت کے مقابلے میں بہت حقیر لگے گی۔ اور دنیا سے محبت رکھنے والے کا معاملہ اس کے برعکس ہو گا
ساری عمر کمائی بھی دنیا ، محبت بھی دنیا سے رکھی، لیکن اس کی حرص اتنی تیز تھی کہ وہ جہنم میں پہنچ کر بھی دنیا پہ اکتفا کا اقرار نہ کر سکا۔
دنیا میں آسانی کا اقرار اسے آسانی پا کر بھی نصیب نہ ہوا۔ کیونکہ وہ بہت لالچی اور حریص انسان تھا۔ جس کا پیٹ دنیا کی محبت سے موت کے بعد بھی نہ بھرا، اور خوشحال ہو کر بھی وہ خوشحالی کا اقرار نہ کر سکا۔ اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہو گی
اسی طرح سورۂ آل عمران میں واضح کیا گیا:
ترجمہ
لوگوں کے لئے نفسانی خواہشات کی چیزوں کو مزین کیاگیاہے عورتوں اوربیٹوں سے اور جمع کئے ہوئے خزانوں سے سونے اور چاندی سے اور نشان زدہ گھوڑوں سے اور جانوروں اور کھیتی سے
یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانہ تو اللّٰه ہی کے پاس ہے
آپ ﷺ کہہ دیجئے کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز نہ بتائوں تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں
جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور اللّٰه کی رضامندی ہے اور سب بندے. اللّٰه کی نگاہ میں ہیں
یہ سمجھ لیں کہ دنیا کی سب چیزوں میں اٹریکشن رکھ کر انسان کے انتخاب کی آزمائش کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے کوئی اولاد کی خاطر جیتا ہے
کوئی مال کی خاطر کوئی نفس کی خاطر تو کوئی چمک دمک سے بھری زندگی کو منبع و مرکز بنا کر سانسیں بھرتا ہے
اصل میں ایسا انسان اس اٹریکشن کو قبول کرتا ہے۔ وہ کبھی یہ تصور نہیں کرتا کہ میرے رب نے اسے میرے لیے آزمائش بنایا ہے
اور مجھے ان کی محبت میں مبتلا ہونے سے بچنے کا کہا ہے۔ رب نے آخرت کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ یہ کشش دنیا ہی تو آزمائش ہے۔ اسی سے تو اپنا دامن کھینچتے رہنا ہے
اس کشش کے دل میں اترنے سے پہلے خود کو میسج دینا ہے۔ کہ یہ عارضی ہے۔ اور یہ کشش دھوکہ ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کی جاہ اور نعمتوں پہ مبنی پرامن گھر ہے
جیسی انویسٹمنٹ کر لیں گے ویسا صلہ آخر کو مل جائے گا۔ مال کمائیں مگر دین کی راہوں میں لگا دیں۔ صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں
خود کو تھکائیں، لیکن دنیا کی خاطر نہیں آخرت کی خاطر خود کو تکلیف دیں۔ خود کو شعوری طور پہ آخرت میں بسائیں
خود کو رب کی معرفت کے حصول میں مصروف رکھیں۔ قرآن کے علم و عمل میں اپنی زندگی کی بہاریں پیش کریں
اس امت کو لوگوں کو دین کی طرف بلانے کے لیے نکالا گیا ہے۔ اس زمہ داری کو اپنی حثیت کے مطابق نبھائیں
دنیا داری کی محبت چھوڑ کر اسے ضرورت بنا کر بھی فارغ تو نہیں رہنا،بلکہ بہت سا وقت بچا کر راہ الٰہی میں خرچ کرنا ہے
سروَرِکائناتﷺ کا فرمان عالی شان ہے
جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت کی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا۔ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے ۔(مسند احمد)
خود چیک کریں کہ میں اس حقیر دنیا کو چن کر آخرت کو کتنا نقصان دے رہی ہوں۔ خود کو خود کٹہرے میں کھڑا کریں۔
اپنے ضمیر کی سچی آواز کو قبول کریں۔ مومنین دنیا سے بے رغبت ہوتے ہیں۔ ان کی حرص دین ہوتا ہے۔ ان کا لالچ جنت و رب کی رضا ہوتی ہے
وہ بہت کچھ پا بھی لیں تو رب کی راہوں میں لٹا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دنیا کوئی لوٹ کر بھی لے جائے۔ وہ اس کے عارضی ہونے کی حقیقت کی وجہ سے صبر کر جاتے ہیں
روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺبازار میں تشریف لے جا رہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم بھی ہمراہ تھے
آپ ﷺ کا گزر بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس سے ہوا جس کے چھوٹے چھوٹے کان تھے۔ آپ ﷺنے اس کے کان کو پکڑ کر فرمایا
اس مرے ہوئے بکری کے بچے کو ایک درہم میں لینا کون پسند کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم کسی حالت میں بھی اسے لینا پسند نہیں کرتے اسے لے کر ہم کیا کریں گے
آپﷺ نے فرمایا: اچھا پھر مفت ہی لے لو۔ لوگوں نے کہا، اگریہ زندہ ہوتا ،تب بھی عیب دار تھا، اس کے چھوٹے چھوٹے کان ہیں ،اب اس مردہ بچے کو لے کر ہم کیا کریں گے
سرورعالم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ یہ دنیا اللّٰه تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ لاش سے بھی زیادہ ذلیل و خوار ہے۔(صحیح مسلم)
دنیا جتنی بھی چاہ لیں جتنا بھی اس کو اکھٹا کر لیں۔ بہت سی خواہشیں پھر بھی ادھوری رہ جائیں گی۔
بہت سے خواب بہت سی دنیا کی بھوک پھر بھی باقی بچ جائے گی۔ کیونکہ یہ بجا ہے دنیا کی محبت دل میں ایک دفعہ جنم دے لے تو یہ بڑھتی ہے کم نہیں ہوتی
تو کیا فائدہ نہ یہ ایک سڑے ہوئے ڈھیر کی اوقات والی دنیا ملی نہ آخرت کی بھلائی نصیب ہوئی۔ دونوں کو کھویا ، ہاتھ تو کچھ نہیں آیا
تو اتنا خسارا کیوں ؟
خود پہ اتنا ظلم کیوں؟
خود کی بھلائی کی فکر کیوں نہیں ؟
ابھی وقت ہے سوچ لیں، رخ موڑ لیں، خود کو سمجھا لیں۔ کہ دھوکوں والی زندگی نہیں جینی، حقیقت پہ جینا ہے۔ ایمان ، قرآن کا نور ، سنت کی روشنی ان سب کی حرص رکھنی ہے
انہی کے لیے تھکانا،انہی کے لیے کوشش کرنی ہے
کیونکہ یہ دنیا کی بھی سب سے بہتریں نعمتیں ہیں اور آخرت میں بھی کامیابی کا زینہ یہی ہیں۔۔۔

0 Comments