موضوع: دوست کبھی بہن نہیں ہو سکتی
تحریر: نیہا علی بنت غلام یسین
![]() |
| Unplash |
صبح کی کرن چاروں طرح پھیل رہی تھی۔چڑیوں کی چہچاہٹ ایسے محسوس ہورہی تھی جیسے اللہ کی حمد و ثناء بیاں کرنے میں مشغول ہیں ۔ ثمن آج جلدی اٹھی تھی،کیوں کہ آج اس کا کالج میں پہلا دن تھا۔
وہ سوچ رہی تھی کہ آج نئے نئے کلاس فلیوز ہوں گے اور اس کا دل ڈر ہوا تھا
اس نے جلدی سے کالج کی تیاری کی اور نیچے آگئی ۔۔۔
ناشتہ کیا اور اس کا بھائی اسے ڈرا رہا تھا، آج سے تمہارے برے دن شروع
امی بھائی مجھے ڈرا رہے ہیں
پہلے سے میں نروس ہوں ، تو صحیح تو کہہ رہا ہے جب پڑھو گی نہیں تو ایسا کہے گا نہ ،امی آپ بھی نہ آپ ہمیشہ بھائی کا ساتھ دیتی ہیں
*
* *
ثمن کالج کے دروازے سے داخل ہوئی ، اسے بہت سے چہرے دیکھنے کو ملے ۔
اس کی ملاقات وہاں ایک لڑکی سے ہوئی جس کا نام کلثوم تھا۔ وہ دنوں ایک دوسرے کی سہیلیاں بن گئیں
جب کہ ثمن بہت معصوم تھی ، ہر کسی پر اندھا یقین کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کلثوم کو اپنی بہنوں کی طرح پیار کرتی تھی ۔ اس کی کوئی بہن نہیں تھی تو وہ کلثوم کو اپنی بہن کہتی تھی۔ ہر وقت وہ اپنی امی سے کلثوم کی باتیں کرتی رہتی ۔۔۔۔
جوں جوں دن گزرتے گئے، کلثوم نے کہا اب تم پری کلاس میں آ گئی ہو اب تم گھر سے موبائل مانگو
ثمن نے کلثوم کے کہنے پر گھر میں موبائل کا کہا مگر اس کے بھائی نےمنع کر دیا۔۔۔۔
ایک دن ثمن اپنے بھائی کا انتظار کر رہی تھی ۔کافی وقت کے بعد کلثوم نےثمن کو کہا تم میرے گھر چلو ساتھ ہی میرا گھر ہے ۔۔۔۔اسکی بات مان کر اس کے ساتھ چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اس کا بھائی اسے لینے آیا تو وہ کالج میں نہیں تھی۔ اس نے پورےکالج میں ڈھونڈا مگر اس کا کہیں کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا ۔۔۔
عامر نے اپنی امی کو فون کیا ان سے پوچھا کہ ضمن آئی ہے گھر اس کی امی نے کہا نہیں کیوں کیا ہوا ؟؟؟
عامر نے کال کاٹ دی
پریشانی کے عالم میں اس کا شدید گرمی کے موسم اپنی بہن کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر برا حال ہو رہا تھا
یہاں کلثوم کے گھر اس کے بھائی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔۔ تو وہ بھی پرشان ہونے لگی اس نے کلثوم سے کہا اپنا موبائل لے آؤ میں بھائی کو فون کرتی ہوں وہ پریشان ہو رہے ہوں گے ،کچھ نہیں ہوتا پریشان نہ ہو
کر لینا کچھ نہیں ہوتا
اچھا میں تمہارے لئے پانی لے کے آتی ہوں ۔ نہیں نہیں مجھے نہیں پینا وہ پانی لینے چلی گئی ۔۔۔ کمرے میں وہ اکیلی بیٹھی تھی۔۔ اس کا بھائی اس کے کمرے میں آگیا بات کرنے لگا ثمن نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا تو وہ کمرے سے باہر نکلنے کےلئے اٹھی ،تو وہ ثمن کا ہاتھ پکڑنے لگا کسی طرح وہ ہاتھ چھڑوا کر بھاگنے لگی ۔۔۔ سامنے اس کے کلثوم آگئی اس نے کہا کیا ہوا وہ آپ کا بھائی۔۔۔۔
کیا میرا بھائی؟
بات ہی تو کر رہا ہے کون سا کچھ غلط کر رہا ہے۔۔ تم بھی سیدھے طریقے سے جواب دے دیتی بسسس کلثوم تم یہ کیا کہے رہی ہوں ؟
ثمن جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی کسی طرح وہ بھاگ بھاگ کر سڑک کی پر پہنچ گئی تو وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ کہ اچانک اس کے بھائی نے اس کے پیچھے موٹرسائیکل آکے روکی بھائی شکر ہے آپ آگئے تم کہاں تھی پچھلے تین گھنٹوں سے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہوں؟؟؟
اس کو جب گھر لے کے آیا عامر کو اس نے سب بتایا ۔۔ اس وجہ سے کہتا تھا؟ کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ بڑی بہن بنائی ہوئی تھی ۔۔۔اور تم اس کی ساتھ گھر چلی گئی
میں آجاتا تمہیں بھول تو نہیں گیا تھا اگر اللہ نہ کریں ایسا ویسا کچھ ہو جاتا تو ہم کس کس کو جواب دیتے بتاؤ؟
ثمن ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا اور اگر دوست بہنیں بنتیں تو ہر کوئی ان کو بہن کہتا اپنی بہنیں کوئی نہ مانگتا۔۔۔۔ میں سمجھ گئی بھائی آئندہ کبھی بھی آپ سب کو شرمندہ نہیں کروں گی۔
امی , بھائی ! آج سے وعدہ کرتی ہوں۔۔ کبھی بھی کسی پر بھروسہ نہیں کروں گی اور نہ ہی دوست بناؤں گی۔۔۔۔
ثمن کچھ دنوں بعد کالج آئی تھی۔۔ اس نے کلثوم سے بات نہیں کی، اور اس سے اپنی دوستی بھی ختم کر دی ۔ کلثوم نے اس دن کےلئے اپنی غلطی کی معافی مانگی تو ثمن نے اسے معاف تو کردیا۔۔ مگر ثمن کےلئے ایک سبق تھا۔

0 Comments