رداامانت علی
فیصل آباد
ڈیجیٹل تدبیر
![]() |
| Unplash |
انسان جس قدر بھی اپنی صلاحیت سے چاند تک پہنچ جائے ، جتنا چاہے موسم پر قابو پالے ۔ ایک سال ایسا اس ملک میں آیا کہ جتنی بھی ترقی کی انہوں نے طوفان سیلاب سے اس طرح متاثر ہوا کہ ہمسائے ملک نے بھی اپنے ڈیم کا بہاؤ اس ملک کی طرف اس وقت کیا جب اس ملک پر سائنسی آلات پر جس قدر بھی قابو پالیا گیا تھا پر جب الله کا نظام چلتا ہے تو ہر سائنس دنگ رہ جاتی ہے اور الله نے اس ملک پر اتنی بارش برسائی کہ ملک کے موسم کی صورتحال پہ الله کے علاوہ کوئی قابو نہیں پا سکتا.
احمد ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتا تھا جو کہ غریبی اور مفلسی کا شکار تھا۔ مگر احمد کے پاس بہت سی ایسی تدابیر ہوتی تھی جس کو وہ دوسروں کو بتانا چاہتا۔ ان کی تدابیر ایسی تھی کہ جن پر عمل کیا جا سکے۔ اسی کشمکش میں وہ دن رات ایک کرتا کہ کسی طرح سے اس کی سوچ پر عمل کیا جائے۔ پر وہ ایک غریب ملک میں رہائش پذیر تھا جہاں پر اس کی سوچ کو عملی جامہ پہنانا بے حد مشکل تھا۔ احمد نے سوچا کہ وہ دوسرے ملک ہجرت کر جائے جہاں پر اس کی سوچ پر عمل کر کہ لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے۔
احمد ایک ترقی پذیر ملک میں پہنچ گیا ۔ احمد اس ملک میں جا کر کام کی تلاش میں لگا کہ اس کا گزر بسر ہو سکے۔ اسی دوران احمد کی ایک مزمل نامی شخص سے ملاقات ہوئی جو کہ احمد کے ہمسائے گاؤں کا لڑکا تھا۔ احمد اور مزمل کی دوستی ہو گئی اور مزمل نے احمد کی بہت مدد کی۔ ایک دن احمد اور مزمل ایک چائے والے ڈھابے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
مزمل نے کہا یار بارشیں نہیں ہو رہی اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
احمد نے مزمل کی بات سن کر ساتھ ہی اسے کہا کہ میرے پاس ایک تدبیر ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو موسم پر قابو پا سکتے ہیں ۔ مزمل احمد کی بات کو ایک ہنسی مزاق میں لے گیا کہ تم کوئی سائنس دان ہو جو یہ سوچ رہے ہو کہ اس ملک کے سائنس دان تمہاری بات کو زیر غور رکھتے ہوئے اس پر عمل کریں گے۔ احمد کو غصہ تو بہت آیا کہ اس کی سوچ کا مزاق بنایا گیا پر اس نے مزمل کو کہا کہ ایک بار میری بات کسی ایسے انسان سے کروا دو جو حکومت میں شامل ہو اور اس کی بات حکومت کے نمائندے سنتے بھی ہوں۔مزمل کو محض احمد کی بات کا جنون سا لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی بات پر عمل کیا جائے گا۔ احمد اور مزمل نے چائے پی اور اپنے ہاسٹل کی طرف روانہ ہوئے ۔ احمد کو ساری رات نیند نہ آئی کہ وہ کسی طرح سے اپنی تدبیر پر عمل کروا کہ اپنا نام ان شخصیات میں دیکھ سکے جو کچھ منفرد کرتے ہوں۔
اگلے دن احمد نے پھر سے مزمل کو یاد دہانی کروائی ۔ مزمل نے احمد کو کہہ دیا کہ صحیح ہے پر اندر سے وہ احمد کی بات پر ہنس رہا تھا ۔کچھ دن گزرنے کے بعد مزمل کی ملاقات ایک ایسے انسان سے ہوئی جو حکومت کے معاملات کو دیکھتا اور اس کی بہتری کے لئے نئے نت اقدمات کرتا۔ ایسے ہی مزمل اور اس انسان کی گفتگو خوردنوش کی اشیاء سے شروع ہوتے ہوتے موسم کی صورتحال کی طرف چلے گئی۔ مزمل کے ذہن میں احمد کی بات آگئی اور اس نے اس انسان کو احمد کی بات بتائی کہ میرا دوست احمد کے پاس ایسی تدبیر ہے اگر اس پر عمل کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ موسم پر قابو پایا جا سکے۔ اس انسان نے مزمل سے کہا کہ تمہیں اسکی بات یاد ہے کہ کیا تدبیر ہے اس کو اگر ہم خود استعمال میں لے کر آجائیں تو ہمارا نام ہو گا۔ مزمل کے دل میں بھی آ گیا کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو احمد کی جگہ میرا نام ہو گا اور اس نے احمد سے بہانے بہانے سے اس کی تدبیر کے بارے پوچھنا تھا کہ اس پر عمل کیا جا سکے۔ احمد اس کو کچھ کچھ بتاتا رہا اس لئے کہ وہ اسے اپنا دوست سمجھتا تھا۔ مزمل نے احمد کو علم نہ ہونے دیا کہ وہ کیوں اتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ مزمل احمد کو کبھی چائے کے بہانے سے کبھی نئے کپڑے خرید کے دینے تا کہ اس کو شک نہ ہو۔ احمد کے دماغ میں آیا کہ مزمل اتنا مہربان کیوں اس پر ہو رہا ہے۔ چونکہ احمد نے مزمل کو اپنی تدبیر بتائی ہوئی تھی پر یہ نہیں بتایا کہ کس طرح سے اس پر عمل کر کے اس کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ جب احمد پر مزمل کی حقیقت عیاں ہوئی کہ کس طرح سے وہ اس کی تدبیر کو اپنے نام کروانے میں ہے ۔ احمد جو کہ اپنی
تدبیر بغیر کسی عوض کے حکومت کو دینا چاہتا تھا پر اب اس نے اپنی تدبیر بتانے کی قیمت وصول کی اور اس کی تدبیر پر عمل کر کہ موسم پر قابو پا لیا گیا پر اس ملک نے یہ بات واضح نہیں کی کہ احمد کی تدبیر پر عمل پیرا ہو کر موسم پر قابو پا لیا گیا اور اس ملک میں بارشیں بھی بہت ہوتی ہیں . بارشیں جب ہوں گی 10 دن پہلے بتایا جائے گا کہ اس دن اس وقت بارش اتنی مقدار میں ہو گی،دھند ،آندھی ،طوفان اور سورج طلوع و غروب ہونے کا وقت بھی بتایا جائے گا۔ موسم پر اس قدر قابو پا لیا گیا۔ وہ حکومت زراعت یافتہ ملک تھا اور ترقی کی راہوں پر گامزن تھا ۔ اس ملک نے کسی دوسرے ملک کو یہ بات واضح نہ ہونے دی کہ انہوں نے موسم پر کس قدر قابو پا لیا جس جگہ بارش کی ضرورت ہوتی اس جگہ پر اتنی مقدار میں بارش برساتے۔حکومت نے موسم کی صورتحال دیکھ کر ندی نالے ڈیم سب کچھ بنائے اور کبھی ادھر بجلی گرنے یا کسی بھی قسم کی ناگہانی آفت کا اس ملک میں نام و نشان ہی نہ تھا۔

0 Comments