Hifsaalmas

Digital Muhabbat by Umme-e-Hani

 ڈیجیٹل محبت

ام ہانی بنت ریاض۔۔۔۔۔۔۔میانوالی

Unplash 


نہیں زہرہ تم سمجھ نہیں رہی تم جانتی ہو میں صرف اسے بھائی مانتی ہوں اور کچھ نہیں!

تم بہت نیگیٹو سوچ رہی ہو، ہم بس بہن بھائی ہیں!

معمول کے مطابق ،زہرہ خاموشی سے نور کی داستان سن رہی تھی

نور نے واٹس ایپ پہ، بھائی روحان بنایا اور وہ اس سے رات میں کئی کئی پہر بات کیا کرتی، نور کی زبان پہ بات بہ بات اپنے بھائی کے قصے ہوتے اس لیے زہرہ اسے اس کا ڈیجیٹل بھائی کہتی

 اور اب نور یہ بتا رہی تھی کہ اس کے ڈیجیٹل بھائی نے اسے جیولری گفٹ دی ۔۔۔۔۔

یعنی اس طرح کی سو باتیں سو کہانیاں وہ اپنے ڈیجیٹل بھائی کی سناتے نا تھکتی 

قصوں کے آخیر پہ زہرہ،نور کو اکثر سمجھایا کرتی لیکن سو سمجھانے کے بعد بھی وہ اپنی اسی منطق پر اڑی رہتی تھی، زہرہ نے کبھی اس سے اس طرح کھل کر بات نہیں کی تھی لیکن وہ اس طرح اپنی دوست کو دھوکوں کی دلدل میں جاتا بھی نہیں دیکھ سکتی تھی  

لیکن آج!! آج اس نے بھی ٹھان لی تھی وہ اسے سمجھا کے رہے گی

دیکھو نور!

اس نے سمجھانے والے انداز میں بولنا شروع کیا:

تم تو اللہ کے محبوب لوگوں میں سے ہو ، امت محمد کی ایک شہزادی ہو، اللہ کی حدود بھی جانتی ہو پھر بھی۔۔۔۔پھر بھی یہ سب کیوں کر رہی ہو؟

میں نے کیا کیا ہے؟ 

یہی ۔۔۔۔نامحرم سے بھائی کا تعلق کس نے بنا کے دیا تمہیں؟؟

تمہارا تو اپنا بھائی ہے پھر کیوں باہر رشتے بنا رہی ہو؟ تم تو اسلام کو جانتی ہو پھر بھی۔۔۔۔۔

تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جس میں ایک نابینا صحابی، حضورﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ نے ازواجات محترمات کو یہ فرما کے اندر بھیج دیا تھا کہ آپ تو دیکھ سکتی ہیں ناں، یعنی نامحرم سے اس قدر پردہ !!

اور تمہارے بقول تم ان سے دن بھر کی روٹین شئیر کرتی ہو اور وہ تمہیں بتاتے ہیں، کبھی کبھار تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے،اس سے زیادہ کچھ نہیں، یہی ناں؟؟

خود کو دھوکہ کیوں دے رہی ہو !

اللہ کی بنائی حدود میں چھید کر کے بیچ کا رستہ ڈھونڈو گی تو صرف رسوا ہو گی ،ہفتہ کی مچھلی والا حال نہیں کرو!!! خود کو دھوکہ سے بچاو!!

عبادت کے باوجود بے چین رہتی ہو، تمہیں لگتا ہے اللہ تمہاری سنتے نہیں۔۔۔۔ 

خود کو دیکھو! کیا کر رہی ہو تم

دیکھو جو غلط ہے وہ غلط ہے،اور جو حرام ہے وہ حرام!! 

ہمارے بیچ کے رستے بنا لینے سے کیا ہو گا

حیلے بہانے مت بناؤ!

سمجھاؤ خود کو اور سمجھو خود کو!

نور! اب کی بار نظریں جھکائے سب سن رہی تھی کیونکہ اتنا اندازہ تو اسے بھی تھا کہ وہ غلط ہے ، زیادہ نا سہی لیکن کہیں نا کہیں اندر اسے معلوم ہی تھا!

 جنت کی شہزادی کو یہ زیب دیتا ہے کسی نامحرم کو اپنا حال دل سنائے، انہیں تسلیاں دے؟ اللہ تعالٰی نے کئی انمول رشتے دیے ہیں تو ان سب کو چھوڑ کر کسی غیر کے آگے کیوں جھک رہی ہو؟

لیکن وہ میرا بھائی ہے۔۔۔۔!! ٹوٹی آواز میں اس نے پھر بھی اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا 

اپنی کانپتی آواز ،ٹوٹا لہجہ دیکھو نور

کس کو بہلا رہی ہو؟؟ خود کو؟؟ کب تک کرو گی یہ سب کب تک دھوکہ دو گی خود کو؟؟

اللہ نے حقیقی بھائی دیا ہے تمہیں اس کے نزدیک جانے کی کوشش کی کبھی؟

نہیں تم گئی ہی نہیں کبھی

عادتیں، محبتوں سے زیادہ خوفناک ہوتی ہیں، زیادہ اذیت دیتی ہیں 

میں یہی کہوں گی تم گیپ لو اس سے

لیکن۔۔۔

لیکن کیا؟

لیکن میں زرا سا آف لائن ہوں یا اگنور کروں وہ فورا بھانپ جاتے ہیں

میں انہیں اذیت کیسے دوں؟

تمہیں اللہ چاہیے یا بناوٹی بھائی؟؟ اب کی بار دو ٹوک سوال داغا گیا

اس سوال کے جواب میں وہ کچھ نا بولی کیونکہ سمجھ تو اسے پہلے بھی تھی لیکن بس خود کو دھوکے میں رکھ کے وہ نجانے کیا کرنا چاہتی تھی 

لیکن اب اسے سب صاف ہو گیا تھا، سب سمجھ بھی آ گئی تھی اور خود کو بھی سمجھا چکی تھی 

سب سوچتے ،سمجھتے اس نے نظر بھر ساتھ بیٹھی اس دوست کو دیکھا جو اس کی زندگی میں کسی رہبر، کسی خضر،کسی فرشتے سے کم نا تھی، اس کو خود پہ بھی رشک آیا کہ اس کے پاس اس دوست کی شکل میں نعمت خدا تھی!!

Post a Comment

0 Comments