Hifsaalmas

Digital Muhabbat by Neha Ali

 عنوان :" ڈیجیٹل محبت"

 افسانہ نگار : نیہا علی بنت غلام یاسین ( ڈی جی خان )  

Unplash 


خوبصورت صبح چہار جانب اپنے پر پھیلا رہی تھی ۔ ہر سو صبح کی ترو تازگی چھائی ہوئی تھی۔ پھولوں اور پودوں پہ پڑی شبنم بہت دلفریب اور دلکش نظارہ پیش کر رہی تھی ۔ پرندوں کی خوبصورت چہچہاہٹ ماحول کو مزید پر رونق بنا رہی تھی ۔ ایسے میں زینب حسب معمول اس پارک میں چلتی آ رہی تھی جہاں وہ ہر روز واک کیلیے آیا کرتی تھی ۔ ابھی وہ ایک بینچ پہ بیٹھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اسے پیچھے سے لڑکے کے پکارنے کی آواز سنائی دی 

ایکسکیوز می ، کیا میں آپ سے بات کر سکتا ہوں ؟ 

جی آپ کون ؟ زینب نے سوالیہ نظروں سے اس کیطرف دیکھا 

جی میرا نام حسن ہے اور میں ادھر قریب والے محلے میں رہتا ہوں اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا ۔ 

دراصل بات یہ ہے کہ میں آپ کو ہر روز واک پہ آتے ہوئے دیکھتا ہوں ۔۔۔۔ کبھی آپ اکیلے آتی ہیں تو کبھی اپنے والد صاحب کے ساتھ ، آج آپ کو اکیلا پایا تو سوچا بات کر ہی لوں ۔ حسن نے لمبی چوڑی تمہید باندھی 

جی کیا بات کرنی ہے آپ نے ؟ زینب نے عجلت میں ایک اور سوال کیا 

جی ۔۔۔ وہ ۔۔۔ میں دیکھیں زینب ! میں آپ کو پسند کرتا ہوں ، کافی دنوں سے کوشش کر رہا ہوں بات کرنے کی لیکن نہیں ہو پائی ۔۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں 

یہ کیا بکواس ہے ؟ میں آپ کو جانتی تک نہیں اور آپ چلے ہیں دعویٰ محبت کرنے ۔ زینب نے غصہ سے پھنکارتے ہوئے کہا ۔ 

دیکھو مسٹر ! دوبارہ اگر میرا پیچھا کرنے ، یا مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی تو اپنے بھائی سے کہہ کر ہڈیاں تڑوا دوں گی ۔ زینب دو ٹوک انداز میں کہتی وہاں سے چلی آئی 


           * * *


ایک دن شام کو زینب کی ملاقات انعم سے کوئی اور جلد ہی یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہو گئی اور ایسے میں ان دونوں نے اپنا نمبر بھی ایک دوسرے کو دے دیا ۔ اور پھر جیسے ہی حسن کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ انعم کی دوستی زینب سے ہو گئی ہے تو اس نے فوراً چپکے سے انعم کے موبائل سے زینب کا نمبر نکال لیا اور اسے میسج کر دیا ۔ 

ہیلو ! نمبر ملتے ہی حسن نے فوراً میسج کیا 

جی کون ؟ زینب جو موبائل پہ اپنے کام میں مگن تھی ، نئے نمبر سے آتے میسج کو دیکھ کر جواب دیا ۔ 

اتنا جلدی بھول گئیں آپ؟ ویسے بھلا کوئی کسی کو اتنا جلدی کیسے بھول سکتا ہے ؟ 

آپ ہیں کون ؟ زینب نے غصے سے ٹائپ کر کے بھیجا 

میں حسن ہوں ، اور پلیز مجھ سے بات کر لیں ناں ، پلیز ایسا نہ کریں ،میں آپ کو بہت پسند کرتا ہوں ۔ حسن نے التجائی انداز میں میسج لکھ کے بھیجا ۔ 

زینب نے جواب دینے کے بجائے اسے بلاک کیا اور پھر سے اپنے کام میں مگن ہو گئی ۔ 


            * ۔ *۔ *۔     



اس دن حسن پریشان کھڑا اس بارے سوچ و بچار کر رہا تھا کہ کیسے زینب سے بات کروں ( اس نے تو ہر جگہ سے مجھے بلاک کر دیا ہے ) کہ اچانک اس کے شیطانی ذہن نے ایک جال بنا اور اس نے اپنے ایک دوست کے نمبر سے اسے میسج کر دیا ۔ 

زینب ! حسن نے لکھا اور بھیج دیا 

دوسری طرف زینب ہاتھ میں موبائل تھامے ہکا بکا اسے دیکھے جا رہی تھی کہ کون ہے جو مجھے میرے نام سے بھی جانتا ہے 

جی ۔۔۔۔ زینب نے ٹائپ کیا اور بھیج دیا 

کیسی ہو ؟ حسن نے جواب کے ملنے پہ خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے پھر میسج کیا 

ٹھیک ، آپ کون ؟ زینب نے ناسمجھتے ہوئے پوچھا 

نام میں کیا رکھا ہے مادام ؟ نام بھی جان لیجیے گا 

کیا آپ مجھے اپنا تھوڑا سا وقت عنایت فرما سکتی ہیں ؟ اور پھر اس طرح کرتے کرتے ان میں ہر روز باتیں ہونی لگیں ، اور وہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے آہستہ آہستہ حسن نے زینب کی تصاویر منگوانا شروع کر دیں ، جنہیں ہو اپنے موبائل میں سنبھلاتا جا رہا تھا ۔ 


          * ۔ *۔ *۔   

            

اس شام سورج اپنی اداسی ماحول میں بکھیرتے اپنے جائے غروب کی طرف رواں دواں تھا ، پرندے بھی اپنے گھروں کی راہ لے رہے تھے ۔ ایسے میں انعم اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے پڑے اپنے بھائی کے موبائل پہ نگاہ پڑ گی ۔ اسنے مسکرا کے موبائل اٹھایا اور لاک کھول کے اپنے کزن کی شادی کی تصاویر دیکھنے لگی کہ اچانک اس کی نظر ایک تصویر پہ ٹھہر گئی ۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔ یہ ۔۔۔۔۔۔یہ تو زینب ہے اس نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا ۔ زینب کی تصویر بھائی کے موبائل میں؟ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ 

بھائی یہ کیا ہے ؟ حسن جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو انعم نے غصے سے پوچھا۔

کیا مطلب کیا ہے ؟ یہ زینب کی تصویریں ہیں۔

وہ تو مجھے بھی پتا ہے کہ زینب کی تصویریں ہیں لیکن یہ آپ کے موبائل میں کیا کر رہی ہیں ؟ 

دیکھو انعم بات یہ ہے کہ میں نے کچھ دن پہلے زینب سے اظہارِ محبت کیا تھا اور اس نے No میں جواب دیا اور میری باتوں ، پیار و محبت کو اس نے اگنور کیا تو اب میں نے کسی اور نمبر سے رابطہ کر کے دوستی اور پیار و محبت کی آڑ میں اس سے تصاویر نکلوائی ہیں اور اب میں اسے بتاؤں گا ۔  

بھائی شرم آنی چاہیے آپ کو ۔۔۔۔ آپ کو پتا ہے بھائی ! میں آپ کو دوسرے لڑکوں سے ہمیشہ مختلف سمجھتی تھی ، جبکہ آپ بھی اوروں کی طرح نکلے ۔ مجھے آپ پہ بہت مان تھا لیکن آپ نے میرا مان توڑ دیا۔ 

مجھے ایک بات بتائیں ۔۔۔۔ اگر یہی سب کچھ کوئی میرے ساتھ کرے تو آپ کیا کریں گے؟ 

میں اسکی جان لے لوں گا ۔ حسن نے غصیلی نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا ۔

اور اگر زینب کا بھائی آپ کی جان لے لے تو ؟ 

اور وہ سر جھکائے مجرموں کی طرح خاموش کھڑا تھا ۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔

سوری آپی ! مجھ سے غلطی ہو گئی ۔ میں آئیندہ ایسا نہیں کروں گا اور یہ ۔۔۔۔ یہ تصاویر میں ابھی ڈلیٹ کر دیتا ہوں۔ 


اور ایسے وہ دونوں انعم کی سمجھداری کی وجہ سے اس دجالی فتنے سے بچ کر اپنی اپنی زندگیوں میں خوش رہنے لگ گئے ۔

ہمیں بھی اپنے اردگرد نگاہ دوڑانی چاہیے اور اس بارے کھوجنا چاہیے کہ کوئی اور بھی حسن اور زینب کی طرح اس فتنے میں مبتلا تو نہیں اگر ہیں تو انہیں اس سے نکالنا چاہیے۔ 

"اس دجالی فتنے نے ہماری نوجوان نسل کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔ ہماری نوجوان نسل سے اب کوئی محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی ، شیر شاہ سوری جیسے ہیروز جنم کیوں نہیں لیتے ؟ 

اس کی بڑی وجہ یہ دجالی فتنہ بھی ہے ۔" 

Post a Comment

0 Comments