Hifsaalmas

Digital Muhabbat By Malaika Mehmood

ڈیجیٹل محبت

از قلم:ملائکہ محمود

Unplash

ہر کوئی جانتا ہے کہ اس دور میں ہر طرح کی چیزیں ایجاد ہو چکی ہے جن سے انسان فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور نقصان بھی مگر فیصلہ انسان کا اپنا ہے۔ 

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں موبائل، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کا استعمال انسانی زندگی کا حصہ بن گیا ہے انسان کے دنیا میں آنے سے لے کر مرتے دم تک کی خبر ایک دوسرے تک پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔

لیکن دور جدید میں سب سے بڑا وار موبائل کے غلط استعمال کا نوجوانوں پر ہو چکا ہے۔۔۔۔ دین سیکھنے والی لڑکیوں کے لئے اس موبائل کے ذریعے نہ صرف غلط پیغامات بلکہ ان پہ کیچڑ اچھالنا لوگوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔۔۔ اسی طرح ملک کو نقصان پہنچانا بھی روز بروز حتی الامکان آسان ہوتا جا رہا ہے۔۔۔

                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کال پہ بات کرتے کرتے ردا اپنے کمرے سے باہر آجاتی ہے۔

کیا ہے اس وقت کال کیوں کر رہے ہو؟؟؟؟

یہ سنتے ہی دوسری طرف سے آواز آتی ہے کیا میں اس وقت کال نہیں کر سکتا؟؟؟؟ 

میرا مطلب تمہیں پتا بھی ہے کہ اس وقت میں اپنی ماما کے پاس ہوں پھر بھی۔۔۔۔۔۔ بات کاٹتے ہوئے ردا نے پوچھا بولو کیا کام ہے ؟؟؟؟؟

کیا ہو گیا ہے ردا میں نے کال کیا کر لی تمہیں برا لگ رہا ہے؟؟؟ اوکے مجھے نہیں بولنا کچھ بھی اب۔۔۔۔ پتہ بھی ہے کہ کام کر کر کے تھک جاتا ہوں مگر پھر یہ رویہ تمہارا۔

اچھا جب میں کال کر رہی تھی تب بھی تو کال کاٹ رہے تھے(ردا کا یہ سوال سن کر احسن کو بہت برا لگتا ہے) آپی آپ کو امی بلا رہی ہیں (پیچھے سے آواز دیتی سارہ اپنے کمرے میں چلی گئی)

اچھا۔۔۔۔۔ احسن میں بعد میں کال کرتی ہوں۔

        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ردا اور احسن یونیورسٹی کے ایک فیسٹیول میں ایک دوسرے سے ملے تھے اور اس فیسٹیول کے بعد احسن روزانہ یونیورسٹی کے باہر ردا سے ملنے کی غرض سے آجاتا مگر ردا کو وہاں نہ پاتا کیونکہ ردا یونیورسٹی ہر روز نہیں آتی تھی۔ ردا اپنی امی اور بہن کے ساتھ بہت خوش تھی۔ مگر احسن کا اس طرح اسے روزانہ باہر آنا اچھا نہیں لگتا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ سب اللّٰه کا حکم نہیں ہے مگر کہتے ہیں ناں محبت اگر بار بار دستک دے تو دروازہ کھل ہی جاتا ہے اسی طرح احسن نے بھی کسی نہ کسی طرح موبائل کے ذریعے ردا کا ایڈریس اور نمبر نکلوا ہی لیا۔۔۔ پہلے تو بہت بار ردا انکار کرتی رہی مگر احسن کا شادی کا دعویٰ کرنا اور ہر بات پہ پریشانی کا اظہار کرنا ردا کو اپنی جانب متوجہ ہونے پہ مجبور کر ہی گیا۔

احسن اور ردا کے اظہارِ محبت کو ایک سال بھی نہ ہو پایا تھا کہ احسن کو دبئی کام کی غرض سے جانا پڑ گیا جس کے بعد ردا کو بہت برا لگتا ہے اور وہ ہر وقت احسن کے میسج اور کال کا انتظار کرتی ہے مگر جب تین مہینے گزر جاتے ہیں تو اسے احساس ہوتا ہے کہ شاید احسن نے اسے دھوکہ دیا ہے مگر پھر بھی دل میں امید لئے وہ دعائیں کرتی ہے۔۔ ان تین مہینوں میں ردا نے بہت سارے رشتوں سے انکار کیا تھا اور اب اسکی امی کو بھی شک تھا کہ ردا کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہے مگر وہ بتاتی نہیں۔۔۔ اسی دوران ایک روز احسن کی کال آتی ہے جس پہ ردا کو بہت غصہ آتا ہے اور وہ بے رکھے انداز میں اس سے بات کرتی ہے۔۔۔ احسن نے بہت سمجھایا کہ اسکی مصروفیات بہت تھی جس بناء پہ وہ موبائل کا استعمال نہیں کر پا رہا تھا اور ردا نرم پڑ گئی۔ اب احسن ردا کو دن میں ایک بار کال ضرور کر لیتا ردا بھی اب اپنی امی کو بتا چکی تھی کہ وہ شادی اپنی پسند کے لڑکے سے کرے گی اور اسکی امی اس لڑکے سے ملنا چاہتی تھی یہ بات احسن کو بھی معلوم تھی کہ ردا کی امی اس سے ملنا چاہتی ہیں اور احسن نے اپنے گھر میں ردا کے متعلق بہت کچھ مختلف بتایا یعنی اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ردا کی امی کو دو بار ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے تبھی وہ ردا سے شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے سہارا دے سکے احسن کے گھر والے اس لیے ہزار بار منانے پہ مان ہی جاتے ہیں مگر ردا کو یہ بات گنوارا نہ تھی کہ احسن جھوٹ بول کر اس رشتے کی بنیاد رکھے مگر اب ان دونوں کے گھر والوں کے درمیان بات ہو چکی تھی اور شادی کی تیاریاں بھی چل رہی تھی ۔۔۔۔ عین وقت پر ردا کو ایک نمبر سے کال آئی جس میں اسے احسن سے شادی نہ کرنے کی دھمکی دی گئی ورنہ احسن کی جان جا سکتی تھی اور ردا کو احسن اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔۔۔ احسن کو بنا بتائے ردا نے سوچا کہ وہ شادی سے انکار کر دے گی مگر پھر خیال آیا کہ اس کی امی جو اتنے خواب سجائے بیٹھی ہیں انکا کیا ہو گا۔۔۔ وہ احسن کو بہت مشکل سے ساری بات بتا دیتی ہے جس پر احسن کو بہت عجیب لگتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر ردا شادی نہیں کرنا چاہتی تو صاف صاف بتا دو اس طرح کی باتوں سے کیوں بہلا پھسلا رہی ہو مجھے۔۔۔ ردا شادی کے دن قریب آتے دیکھ کر احسن کو کہتی ہے کہ اس بات کا ذکر وہ کسی سے بھی مت کرے اور وہ اپنی سم توڑ دیتی ہے۔۔۔ احسن بہت خوش تھا کہ ردا شادی سے انکار نہیں کر رہی مگر وہ اس بات سےانجان تھا کہ ردا کو دھمکیاں دینے والی اسکی پہلی بیوی ہی تھی جسے وہ دبئی میں چھوڑ آیا تھا اور اسکی بیوی ردا کو اس دلدل میں نہیں پھنسانا چاہتی تھی وہ جانتی تھی کہ احسن ردا سے شادی کیوں کر رہا ہے؟؟؟ اور وہ پاکستان آ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ احسن نے اسکے تمام راستے بند کر دیے تھے پاکستان آنے کے اور خود وہ ردا کو وہاں لے جا کر اسی طرح قیدی بنانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

رمزہ احسن یہ جانتی تھی کہ اگر نکاح ہو گیا ردا کا تو وہ کہیں کی بھی نہیں رہے گی اور اسی بنا پہ وہ لاکھ کوششیں کرتی ہے تا کہ ردا انکار کر دے وہ ردا کو یقین بھی دلواتی ہے اس شادی کا انجام بہت غلط ہو گا مگر ردا کو یہ بات بہت دیر سے سمجھ آتی ہے جب احسن اسے بھی دبئی بے یار ومددگار چھوڑ کر خود پاکستان آ جاتا ہے اور نئی شادی کے خواب دیکھنے شروع کر دیتا ہے

Post a Comment

0 Comments