Hifsaalmas

jo chly to jan sy guzar gye by Heer Wafa

جوچلےتوجاں سے گزرگئے

ازقلم: ہیروفا


یہ شہادت کوئی چھوٹا رتبہ نہیں ہے یہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجانے کا نام ہے ،دنیا کے مصائب و آلام سے سکون و راحت کی زندگی میں چلے جانے کا نام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ

(وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٗ،بَلْ اَحْیَاَءٗوَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ)

(اور نہ تم مردہ کہو ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں مارے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور تم شعور نہیں رکھتے)

pixabay


اسی آیت کریمہ سے ہمیں شہادت کے رتبے کا پتہ چلتا ہے تو آج ہم بات کرینگے پاکستان میں ہونےوالے واقعہ کی جب اس امپورٹڈ حکومت کے مظالم حد سے تجاوز کرگئے یہاں تک کہ سچ لکھنے،کہنے والوں کو دھمکیوں بھری کالز ملنے لگیں مقدمات بننے لگیں اور پھر وہ معصوم لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،دبئی جیسے آزاد ملک میں بھی ان کا رہنا دوبھر کردیا گیا وہاں کی انتظامیہ کو بھی کہہ کر ان کو وہاں سے بھی نکلوا دیا گیا اور ان کو اپنی جان بچانے کے لیے کینیا جانا پڑتا ہے اور پھر لندن میں ایک سازش تیار ہوتی ہے جس کی گواہی تسنیم حیدر خود دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے بلوا کر ن لیگی قیادت نے کہا کہ کینیا میں کوئی تعلقات ہے،کوئی ہینڈلر ہے تو اس سے ایک بندے کا قتل کروانا ہے لیکن تسنیم حیدر کے مطابق ان کا کینیا میں کوئی ہینڈلر،شوٹر نہیں تھا سو یہ کام اس طرح سے طے پاتا ہے کہ ایک دن ہمیں صبح اٹھتے ہی یہ خبر ملتی ہے کہ کینیا میں پولیس مقابلے میں ایک صحافی مارا گیا اور جانتے ہیں وہ صحافی کون تھا وہ تھا ارشد شریف جنہیں اکتالیس،بتالیس دن پہلے کینیا میں بے دردی سے قتل کردیا گیا جس کے بچوں کے بارے میں سوچیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنی بوڑھی ماں کا واحد سہارا تھا،جس کی آنکھیں دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن کم ظرف دشمنوں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ گناہ کبیرہ کرنے سے پہلے نہ سوچا کہ ہم صرف اس کے قلم کے ڈر سے اس قیمتی جان کو دنیا سے ہی ختم کررہے ہیں،کیا قصور تھا اس کا یہی کہ وہ سچ کا علمبردار تھا یہی کہ وہ ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم کا پردہ فاش کرنے جارہا تھا یہ ہے ہمارے ہاں کی سیاست،ہماری انسانیت جسے دیکھ کے درندے بھی شرما جائیں ہم اپنی حکومت کے چکر میں کب تک قلموں کو توڑتے رہینگے۔کب تک معصوم بچوں کو یتیم کرتے رہینگے،کب تک بیواؤں کی آہیں لیتے رہینگے،کب تک ماؤں کی کوکھوں کو اجاڑتے رہینگے،کیا قیامت کے دن کا خوف ہمارے دل سے نکل گیا ہے اس دن کی بادشاہت کا خیال نہیں آتا جب زمین ریزہ ریزہ کردی جائے گی جب ماں اپنے دودھ پی رہے بچے کو گود سے اتار پھینکے گی تب ہوگا انصاف کا بول بالا تب قاتل کی گردن میں مقتول کا ہاتھ ہوگا اور وہاں کا انصاف یقیناً بہت سخت ہے۔


Post a Comment

0 Comments