Hifsaalmas

Irshad ahmed kay Naam by Rida Amanat Ali


ارشاد احمد کے نام 

 رداامانت علی

فیصل آباد 


دن رات کے پیچ وخم میں خم کھاتی یہ زندگی خوبصورتی سے بھر پور بچپن جیسی حسین وادی سے جوانی جیسی الہڑ وادی پر پہنچ چکی ہے۔ روز مرہ کی طرح آج بھی شام ہو چکی ہے ۔ اندھیرے کا آنچل گاؤں کی ساری کائنات کامنہ ڈھانکنے کےلیے بیتاب ہے۔ حسب معمول میں اپنی لائبریری میں موجود ہوں ، ضعف کی گھاٹی میں اترنے سے پہلے ایک بے باک لڑکا  ایسی شخصیت کے بارے میں  قلمبند کر  رہی ہوں ۔ جس کے متعلق لکھتے ہوۓ میری آنکھوں میں ایک روشنی اور سوچ میں ایک تازگی ہے  ۔جن کی پر وقار شخصیت بے شک میری تعریف کی محتاج نہیں بلکہ وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔جسکے ساتھ میں ہر لمحہ رہی دکھ سکھ میں حزن و ملال ہو یاخیال۔ ارشاد احمد   12 دسمبر  کو فیصل آباد کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوا۔

جنم دن مبارک



لکھنے بیٹھوں جو تعریف تیری 

دن رات تمہارے لئے ناکافی لگیں

قلم و کاغذ یہ سارے جہاں کے 

ایسے لگیں جیسے ناکافی ہوں 

تم اس سے زیادہ تعریفوں کے لائق ہو

آفریں ہو جس اس دن پر 

جس دن تم اس دنیا میں آئے

تمہارے آنے سے چاند کی چاندنی کم پڑ گئی

ستاروں سے زیادہ تمہاری چمک پڑنے لگی 

سنو میری دعا ہے کہ

سردیوں سے لپٹا یہ حسین دن جو

تکلیفوں اور اداسیوں کا سینا چیرتے ہوئے 

تمہاری طرف آنے والی ہر خوشی کا استقبال کرتے ہوئے آرہا 

دسمبر کی رات کو سرد ہواؤں کے جھونکوں سے سجاتا یہ دن

تمہاری زندگی کو خوشبوؤں سے مہکاتا 

یہ دن بار بار آئے 

سنو ارشاد

دنیا کے غموں سے کبھی دل برداشتہ نا ہونا

سنو اپنے اس معصوم چہرے پر کبھی غم کے آسار نمایاں نا ہونے دینا 

اس پھول سے چہرے کو ہمیشہ ایسے ہنستے مسکراتے کھلکھلاتے  رکھنا کیونکہ پھول مرجھائے ہوئے اچھے نہیں لگتے

خدا آپ کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے 

غم کبھی آپ کے آس پاس نا بھٹکیں

آئے نہ تیرے پاس کوئی غم

ایسی دعا رب سے کی ہے

جنم دن کی لاکھوں شبھ

 کامنائیں مبارک ہوں

جنم دن مبارک ہو

جیو ہزاروں سال


ارشاد احمد کو جس روپ میں بھی دیکھیں ہر روپ میں وہ کمال ہے۔ اگر بیٹے کے روپ میں دیکھا جائے تو احمد ایک فرماں بردار بیٹا ہے جو کہ اپنے والدین کی ہر بات پر سر جھکا کہ تعمیل کرتا ہے۔

دسمبر کی سرد ہوائیں

ٹھٹھرتے موسم

بڑھتی ہوئی 

دور نظر آتی دھند 

اور سفید نظارے

ہر اداسی کا سینہ چیرتے

تمہاری طرف بڑھنے والی

ہر خوشی کا استقبال

تمہارے جنم دن کی 

خوشی میں

چمکتی روشنیوں

خوشبوؤں سے مہکتی زندگی

ہماری دوستی کے ہمیشہ 

رہنے کی دعاؤں سے کرتے ہیں 

ایک خوبصورت مستقبل 

کے خواب دیکھتے

جہاں ہم ہوں 

بہاریں ہوں

اور دائمی خوشیاں ہوں


احمد کو اگر بھائی کے روپ میں دیکھا جائے تو وہ ایک ہمدرد، ملنسار اور خوش مزاج بھائی ہے۔ جو کہ اپنے بھائیوں کو اپنے والد کی جگہ رکھتا ہے اور بہنوں کے ساتھ اتنا اچھا رویہ ہے کہ ہر کوئی خواہش کرے کہ بھائی ہو تو احمد جیسا


بھائی صرف بھائی نہیں ہوتا 

بہنوں کا مان ان کا بھرم رکھنے والا دوست ہوتا ہے 

وہ باپ کی طرح ناز اٹھاتا ہے 

 مسکراہٹ لانے کے لئے سو جتن کرتاہے 

وہ بھائی کبھی باپ کی طرح  ناز اٹھاتا ہے تو کبھی 

ماں کی طرح لاڈ کرنا

 بھائی بہنوں کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے


احمد کو اگر شوہر کے روپ میں دیکھا جائے تو ایک سچا ہمسفر ہے۔


میری نظر میں بہترین ہم سفر  وہ ہوتا ہے

جو ہر قدم پر ساتھ دینے والا ہو

جب ہر کوئی آپکے خلاف ہو 

تب آپکا ہم سفر ہاتھ تھام کر کہے میں ہوں تمہارے ساتھ فکر مت کرو 

یہ وقت بھی گزر جائے گا اللہ پر یقین رکھو

احمد کو اگر باپ کے روپ میں دیکھا جائے تو اسکی مثال آج کی دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔



باپ وہ سایہ ہے

جس نے  کڑکتی دھوپ میں،

  بچوں پر اپنا سایہ کیا 

باپ وہ عظیم ہستی ہے

جس نے لوگوں کی بری نظر سے بچایا ہے

باپ ہر بوجھ اٹھائے

اپنے کندھوں پر 

چہرے پر مسکراہٹ سجائے

اپنے بچوں کی ہر خوشی

کے لئے خود کو سمجھایا ہے


 جس جس بات سے احمد خود محروم رہا وہ اپنے بیٹے کو ہر وہ بات جو کہ ایک بیٹے کو باپ کے علاوہ کوئی پوری نہیں کر سکتا ۔احمد محمد عرشمان کو ہر وہ خوشی دینا چاہتا ہے۔

محمد عرشمان

ترے چہرے کی تازگی

لبوں کی چاشنی

زلفوں کی گھٹا

آنکھوں کی ادا 

سب ملا کر حسین و جمیل،نازنین لگتی ہیں


 جس خوشی کے لئے احمد کسی کو بتا نہیں سکتا تھا۔


تنہا راہوں میں 

واحد سہارا ہے میرا باپ

میری زندگی کا

کل اثاثہ ہے میرا باپ

میری محبت، میرا جذبہ، میرا احساس ہے میرا پاب

مجھے فخر ہے تو بس اسی بات کا

ساتھ چاہے نا بھی ملے کسی کا

میرے ساتھ ہے میرا باپ

سارا جہاں لوٹا دوں

تیری اک مسکراہٹ کے لئیے

فقط میرا باپ ہی کافی ہے میری چاہت کے لیے


احمد کو اگر دوست کے روپ میں دیکھا جائے تو وہ  ایک اچھا سچا دوست ہے۔ 



میں نہیں جانتی 

آسمان اور زمین کی جدائی 

پر

 اتنا ضرور جانتی ہوں

دوستی میں کوئی جدائی نہیں ہوتی



وہ اپنے دوست کو بار بار سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اور ایک بات جو اچھی نہیں لگتی۔ وہ یہ کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے کبھی بہت پیچھے ہٹ جاتا ہے پر دوست کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

کتنے حسین ہو نہ تم

کوئی خواب رنگین ہو نہ تم

تمہارا ہونا مجھے زندگی کا

حسین اور خوشگوار لمحہ لگتا ہے

نہیں ہیں الفاظ کہ میں لکھ پاؤں

تمہارے لیے کچھ حرف تعریف


تمہارے جنم دن پر

کونسا تحفہ تمہیں بھیجوں

چاند بھیجوں سورج بھیجوں

یا کوئی ستارہ بھیجوں

ہاں گر تم سمجھو تو

کسی ویران شجر کا استعارہ بھیجوں

ہمارے وقت کے لیے تمہارا وقت کہاں

اس لیے سوچتی ہوں کہ تمہیں

کسی گھڑی کا اشارہ بھیجوں

جس میں ہوں قید لمحوں کی یادیں

میری دعا ہے کہ صرف آج کا دن  ہی نہیں بلکہ آپ کی زندگی میں آنے والا ہر نیا دن ایسے آئے کہ آپ کہ لب سے نکلی دعا نوعید بن کر دن کے آغاز سے پہلے مکمل ہو  ہر گھڑی بنے قبولیت کی گھڑی آپ کے گرد اندھیرے نہ ہوں بس خوشیوں کے سویرے ہوں ۔کبھی نہ ملے آپکو کوئی غم ایسی دعا رب سے کی ہے۔

Post a Comment

0 Comments