آج کی ایک شام میم اسماء یوسف کے نام
مومنہ شکیل سرائے صالح ہری پور
میم اسماء!
نایاب ہیں آپ
میری زندگی کی کتاب کا
اک حسیں باب ہیں آپ
نایاب ہیں آپ
میری پہلی ملاقات ان سے تب ہوئی،جب میں بی ایس اردو کے سمسٹر اول میں تھی۔ ایک دن مس نازیہ خلیل عباسی کی کلاس کے دوران ان کو فون آیا۔ میں نہیں جانتی کہ فون کس نے کیا لیکن مس نازیہ کے جو الفاظ میرے کانوں نے سنے، وہ یہ تھے:
" اچھا ، تو اسماء نام ہے ان کا، ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور وہ ہمارے کالج(گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سرائے صالح ہری پور) میں ٹرانسفر ہوئیں ہیں۔"
پھر تین دن بعد یوں ہوا کہ مس نازیہ نے مجھ سے کہا کہ اردو دفتر کی دو چابیاں آپ کے پاس ہیں، آپ ایک مس اسماء کو دے آئیں۔ اس وقت دفتر کی دو چابیاں میرے پاس اور ایک چابی مس نازیہ کے پاس ہوا کرتی تھیں۔ کیوں کہ اس سے پہلے وہ ایک دفعہ چابی اندر رکھ کر دفتر باہر سے بند کر چکی تھیں۔ جس کے نتیجے میں تالا توڑنا پڑا۔ اس لیے انہوں نے ایک دفتر کی دو چابیاں بقول ان کے مجھ جیسی زمہ دار طالبہ کے حوالے کر دیں۔ خیر مجھے ان کا پورا نام تک نہیں آتا تھا، پھر بھی میں انہیں چابیاں دینے کی غرض سے سٹاف روم کی طرف گئی۔ تو پتا چلا کہ وہ ابھی ہی پرنسپل صاحبہ کے دفتر کی طرف گئیں ہیں۔ میں بھاگی تو دیکھا کہ وہ جا رہیں تھیں۔ میرے بھاگنے کی رفتار تیز تھیں۔ اس لیے میں جلد ہی ان تک پہنچ گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جس کے جواب میں انہوں نے "وعلیکم السلام" کہا۔ ان کی پر رعب آواز اور نفیس شخصیت نے مجھے جہاں ایک طرف ان سے متاثر ہونے پہ مجبور کیا تھا، وہیں دوسری طرف مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ وہ سخت طبیعت کی مالک ہیں۔ لیکن افسوس میرا یہ اندازہ کچھ ہی دنوں میں غلط ثابت ہوا۔ خیر میں نے چابیاں ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے ان سے کہا:
"میم! یہ اردو دفتر کی چابیاں ہیں، مس نازیہ نے آپ کو دینے کے لیے کہا۔"
انہوں نے چابیاں مجھ لیں اور شکریہ کہہ کر آگئے بڑھ گئیں۔ہاں یہی میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ مجھے تاریخ یاد نہیں لیکن یہ ستمبر 2018 کی بات ہے۔ پھر اس کے بعد مس گلشن کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا:
"وہ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور ان کے پاس علم کا خزانہ ہے۔"
مس گلشن کی کی گئی اس بات کا اندازہ مجھے رفتہ رفتہ ہوا کہ جب میں مس اسماء یوسف سے ایک لفظ کے معانی پوچھ لیتی تو وہ بغیر رکے دوگھنٹے کا لیکچر بحوالہ آیت، حدیث، قول یا پھر کسی مستند کتاب سے دے دیتی تھیں۔ اور یقین جانیے کہ میں رفتہ رفتہ ان کی ذات سے منسلک ہونے کے علاؤہ ان کی محبت، خلوص اور اہلیت کی قائل ہوتی چلی گئی۔ یا پھر ان کے بات کرنے کا انداز ہی ایسا تھا کہ میں ان کی محبت کے سحر میں جکڑتی چلی گئی۔ اساتذہ سے محبت تو میری سرشست میں شامل تھا۔ خیر سفر وہاں سے شروع ہوا۔ پھر سمسٹر اول کے وسطی مدتی امتحانات سے قبل یہ پتا چلا کہ مس نازیہ کی ٹرانسفر ہو گئی ہے۔ تو خدا کے حکم سے ہماری کلاس مس اسماء نے سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا اور پھر پورے بی ایس میں کوئی سمسٹر ایسا نہ گزرا تھا، جس میں انہوں نے ہماری کلاس نہ لی ہو یا ہم نے زبردستی انہیں اپنی کلاس لینے پر مجبور نہ کیا ہو۔ میں باقی ہم جماعت بہنوں کی تو بات نہیں کرتی لیکن میری ہر کامیابی کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ ان کا مان ہی تو تھا، جو مجھے کبھی ہارنے نہیں دیتا تھا۔ کبھی کبھی ایک لفظ کی غلطی پر ڈھیروں ڈانٹ پڑتی تو کبھی اتنی بڑی غلطی پہ مسکراہٹ کے بعد پیار ملتا۔ کبھی ان غلطیوں پہ بھی ڈانٹ پڑتی جو میں نے نہیں کی ہوتیں اور جس کا بھی غصہ ہوتا، مجھ ہی پہ اتر جاتا۔ یوں ان ساری باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کو کیا بات پسند ہے اور کس بات کو وہ ناپسند کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی پسند و ناپسند بھی جانتی گئی۔ لیکن انہوں نے مجھے جو مان دیا، وہ میرے لیے ضلعی و صوبائی اور پھر قومی سطح پر بھی کامیابیوں کی کنجی ثابت ہوا۔ اگر کسی مقابلے کے لیے کالج سے باہر جاتے ہوئے ان سے کہہ دوں:
" میم! آپ میرے لیے دعا کیجیے گا۔"
تو وہ کہتیں:
"مومنہ! میرا بچہ مجھے آپ پہ پورا بھروسہ ہے۔ آپ کبھی ہار ہی نہیں سکتیں۔"
بہت شکریہ میم۔ میں ہر بار کوشش کی کہ میں ہار جاؤں اور کسی دوسرے طالب علم کو موقع ملے لیکن ان کے مان نے ہمیشہ جیت سے ہم کنار کیا۔ بارہا میں نے ان سے کہا کہ مس آپ کسی اور بھیج دیں۔ تو وہ کہتیں:
" نہیں! آپ ہی جائیں گی."
تین سال لگاتار وہ شعبہ اردو کی طرف بطور ہیڈ گرل میرا نام نمایاں کرتی رہیں۔ میں کہتی رہی کہ میم کسی اور کا دے دیں۔ ہر بار یہی جواب ہوتا:
"مجھے بالکل گوارا نہیں ہے کہ آپ کا نام نہ ہو۔"
27 نومبر 2021 کو مجھے ایک بچی نے آکر پیغام دیا:
"مومنہ آپی! آپ کو مس اسماء بلا رہی ہیں."
میں جب اردو دفتر پہنچی تو وہ اکیلی اپنی مخصوص نشست پر براجمان تھیں۔ اور مجھ سے کہا:
"میں نے کچھ دنوں سے اندازہ لگایا کہ آپ کچھ پریشان ہیں۔ بتائیں کیا مسئلہ ہے۔"
میں کہتی رہی کہ مس میں ٹھیک ہوں۔ لیکن انہوں نے کہا میں نے جو پوچھا ہے اس کا جواب دیں۔ تو میری زندگی کی ایک وہی شخصیت ایسی ہیں جن پہ میں خود سے بھی زیادہ اعتبار کرتی ہوں۔ میں نے اپنی پریشانی کی وجہ ان کے گوش گزار کر دی۔ تو ہاں مجھے یاد ہیں ان کے کہے گئے الفاظ:
"مومنہ مجھے فخر ہے کہ آپ میری طالبہ ہیں۔ اور آپ میری پسندیدہ طالبات میں صف اول پہ ہیں۔ میرا مان ہیں آپ۔ آپ میں مجھے اپنا میرا عکس دکھتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے آپ جہاں بھی جائیں گی، دل سے کام کریں گی، پھر چاہے وہ سسرال ہو یا کوئی تعلیمی و ترقیاتی ادارہ۔"
مجھے یقین نہیں تھا کہ مس کے یہ الفاظ بہت جلد میری آنکھوں کے سامنے سچ ثابت ہوں گے۔ پورے 28 دن بعد جب قومی سطح پر میں مقابلہ مضمون نویسی میں تیسرے انعام کے لیے قرار پائی تو راولپنڈی آرٹس کونسل میں 25 دسمبر کو میرے اعزاز میں جو تقریب رکھی گئی۔ اس تقریب کے سب انتظامات کرنے کے اعزاز میں 17 کتابوں کے مشہور شاعر جلیل عالی نے یہی الفاظ چائے کی ٹیبل پہ میرے لیے دہرائے۔ مجھے چائے پسند تو نہیں لیکن منتظمین کا کہنا تھا کہ آپ ہماری مہمان ہیں۔ آپ کچھ اور لے لیں۔
خیر جلیل عالی صاحب کے الفاظ کچھ یوں تھے"
جلیل عالی: عطا صاحب اس بچی کی نئی جاب لگی ہے یہاں؟"
میں ان کے اس سوال پر حیران ہوئی کہ میں پوزیشن ہولڈر ہوں اور سٹیج پہ مجھے بلایا گیا۔ سر نے پھر یہ سوال کیوں پوچھا۔ تو دراصل جب مجھے انعام دیا جا رہا تھا تو جلیل عالی صاحب کا موبائل بجا اور وہ فون سننے کے لیے حال سے باہر چلے گئے۔ یہ بات مجھے تب پتا چلی جب میں نے اس تقریب کی دوبارہ ویڈیو دیکھی۔
عطا الرحمان چوہان: "نہیں سر یہ بچی ہری پور سے آئی ہے۔ مقابلہ مضمون نویسی کی پوزیشن ہولڈر ہے۔"
جلیل عالی: "اچھا تو وہ یہ بچی ہے۔ ما شاء اللہ۔"
یہ بات کرنے کے بعد وہ کچھ دیر خاموش ہوگئے۔ اور پھر بولے:
"میری بیگم(جن سے ایک دفعہ پہلے اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ہونے والے ایک مشاعرے میں میری(مومنہ شکیل کی) ملاقات ہو چکی تھی۔ اس لیے میں انہیں جانتی تھی۔ کہ وہ ڈگری کالج کی پرنسپل ہیں۔) ایک ڈگری کالج کی پرنسپل ہیں۔ میں وہاں جاتا رہتا ہوں۔ اور بھی کئی جگہوں پہ بچیوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔تو میری زیست کے اتنے سالوں میں، میں نے اس سے پہلے اتنی بولڈ بچی کبھی نہیں دیکھی۔ جو پہلے تو پوزیشن ہولڈر ہو، پھر ایک دوسرے صوبے سے آ کر انتظامات سنبھالے اور وہ بھی مرد حضرات کی موجودگی میں۔ میں نے واقعی اس سے قبل اتنی بولڈ بچی کبھی نہیں دیکھی۔"
پھر مجھ سے پوچھا:
"بیٹا! آپ کے اساتذہ کون ہیں؟
"مس اسماء یوسف۔"
"سلام پیش کرتا ہوں ان کو جنہوں نے آپ کو ایسا باشعور اور بااخلاق بنایا۔"
میں ظاہری طور پر تو اس ادبی محفل میں بیٹھی تھی لیکن میرے کانوں میں مس اسماء کے وہ الفاظ گونج رہے تھے اور میری آنکھوں میں اشک تیر رہے تھے کہ اتنی جلدی بھی کچھ باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ واقعی ایک کامیاب شخص کے پیچھے اس کے اساتذہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
4 سالوں پہ محیط یہ سفر 16اگست 2022 کو اس آخری ملاقات کے ان آخری الفاظ پہ ختم ہوا کہ جب میری آنکھ سے آنسو نکلے، تو انہوں نے مجھ سے کہا:
"مومنہ میرا بچہ! یہ زندگی کا دستور ہے۔ لوگ ملتے ہیں، بچھڑتے ہیں۔ بچھڑے بغیر زندگی نہیں گزرتی۔ اگر اللہ نے چاہا تو پھر کبھی آپ سے ملاقات ہوگی۔ اور آپ کو کامیاب دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوگی اور اگر پھر بھی آپ کا دل سکون میں نہ ہو تو نظیر اکبر آبادی کی نظم "ہنس نامہ" پڑھ لینا، اس سے آپ کو ملنے اور بچھڑنے کا فلسفہ سمجھ آ جائے گا اور آپ کے دل کو بھی سکون آ جائے گا۔ "
لیکن ہاں اس سارے سفر نے مجھے 6 مصرعوں پر مشتمل یہ چھوٹی سی نظم لکھنے کے قابل ضرور بنایا۔
زندگی کی کسی بھی راہ پر میں لڑکھڑاؤں
کہیں بھی جاؤں، شکست کھاؤں یا جیت جاؤں
کسی بھی محفل میں بیٹھ کر میں غزل سناؤں
مضموں نگاری میں جب بھی رملہ میں فرسٹ آؤں
تخت گاہ پر مس شازیہ سے سند میں لاؤں
میں میم اسماء کی عظمتوں کے ہی گیت گاؤں
اور آج 26 دسمبر ہے۔ ان سے بچھڑے ہوئے مجھے 4 ماہ 10 دن گزر چکے ہیں۔ آنکھوں میں اشکوں کا سیل رواں ہے۔ ہر وہ لفظ جو ان کے منہ سے میرے نکلے۔ عظیم یاد کے طور پر میرے دل میں اور میری کتابوں اور کاپیوں پہ آج بھی موجود ہیں۔ لیکن وہ کھولنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہوتی۔ ان کو دیکھنے کے لیے میری آنکھیں اور ان کی ڈانٹ سننے کے لیے میرے کان ترس گئے ہیں۔
خدا جانے زیست کے اس سفر میں ان سے کبھی ملاقات ہو گی یا نہیں لیکن ان کی یاد کا دیا اس دل سے کبھی بجھنے نہیں پائے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کریم ان کو ایمان و صحت اور عافیت والی زندگی عطا کرے۔ انہیں دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی سے ہم کنار کرے۔ آمین۔

0 Comments