2022ء کی کچھ باتیں
ملائکہ حورین
اسلام علیکم!
میں ملائکہ حورین!!
2021 تک سب مجھے صرف ملائکہ کے نام سے جانتے تھے 2021 میں ایک چھوٹی سی تبدیلی سے ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے سے میں نے ملائکہ سے ملائکہ حورین تک کا سفر طے کیا۔
آج مجھے متعدد لوگ ایک ٹیچر، ناول نگار ، کالم نگار، افسانہ نگار کے طور پر جانتے ہیں۔
ملائکہ حورین کے ساتھ مصنفہ لگانے کا سفر مختصر ضرور تھا لیکن آسان قطعاً نہیں تھا۔
میرا 2022 باقی سالوں کی نسبت بہت الگ رہا۔ پچھلے کچھ سالوں میں میں نے بہت کچھ کھویا ، بہت مشکلات کا سامنا کیا، لیکن 2022 میرے لیے بہت خوشگوار رہا۔
اس سال میں میں نے اللّٰہ کے کرم سے بہت کامیابی سمیٹی۔ بہت سارے نئے لوگوں سے ملی ، بہت ادبی دوست بنے۔
2022 کی میری سب سے بڑی کامیابی میری کتاب تھی۔
میں آپ سب کو بتاتی چلوں کہ ستمبر 2022 میں میری کتاب "بات ابھی باقی ہے" منظر عام پر آ چکی ہے۔
یہ کتاب کوئی ناول، افسانہ ، شاعری، تاریخ یا کوئی سفر نامہ نہیں ہے۔ اس کتاب میں میں نے چار موضوعات پہ بات کی ہے جو کہ صرف ہماری زندگیوں کو ہی نہیں بلکہ اس کائنات کو بھی گھیرے ہوئے ہے۔
میں ایک کتاب لکھنا چاہتی تھی لیکن سب کتابوں سے الگ جو شاید آج تک کسی نے نہ لکھی ہو۔ بہت سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں چار موضوعات پر مبنی ایک کتاب لاؤں گی۔
1 )مرد اور عورت کا اسلام میں مقام ،
2 : انسانیت، 3 : معاشرہ اور سوچ، :4 محبت)
میرا سب سے پسندیدہ موضوع اس میں معاشرہ اور سوچ ہے۔ اس موضوع کو میں نے بہت دل سے لکھا ہے۔
جب یہ کتاب میرے ہاتھ میں آئی تھی تو میری خوشی کی انتہا نہیں تھی لیکن مجھ سے بھی زیادہ کوئی خوش تھا اور وہ میری والدہ محترمہ ہیں۔
میری کتاب کا پارسل میری والدہ نے ہی رسیو کیا تھا یہ ان کے لیے ایک سرپرائز تھا اس سے پہلے انہیں علم نہیں تھا کہ ان کی بیٹی لکھتی بھی ہے۔
جب میں انہیں بتایا تو انہوں نے فورا سے مجھے گلے لگایا میری پیشانی پہ بوسہ کیا اور مجھے ڈھیر ساری دعائیں دی۔ یہ میری زندگی کا سب سے خاص لمحہ تھا۔
خیر میری کتاب کی باتیں تو ختم ہی نہیں ہوں گی کیوں کہ خود اس کا نام "بات ابھی باقی ہے"۔
بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کے لیے 2022 بالکل بھی اچھا نہیں رہا ہو گا ، جیسے میرے لیے 2020 بالکل بھی اچھا نہیں تھا۔ اس سال میں میں نے بہت لمبا سفر طے کیا تھا۔ بہت کچھ کھو دیا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ بس اب سب کچھ ختم ہے۔ میرے لیے میرے جینے کا ہر مقصد ختم ہو چکا تھا۔
لیکن پھر میری زندگی میں میری ایک دوست کا آنا ہوا جس نے مجھے اعتماد دیا کہ میں اپنے قرطاس پر بکھرے لفظوں کی مالا جھپ کر اسے سب کے سامنے لاؤں۔
تب پہلی بار میری زندگی کی پہلی تحریر "زندگی ایک پہیلی ہے " منظر عام پر آئی تھی۔
اس کے بعد میں خود بھی نہیں سمجھ سکی کہ میرا ادبی سفر مجھے کہاں سے کہاں لے گیا۔
2022 نے مجھے میرا 2020 بھولا دیا۔ غرض کہ وقت پر لگا کر اڑ جاتا ہے اتنی تیزی سے کہ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ بس پلک جھپکنے کی دیر ہے ایک نیا منظر آپکی آنکھوں کے سامنے ہو گا۔
کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی، خود کے حوصلے کو پست نہیں ہونے دینا۔ جو بھی کرنا ہے اپنے زور بازو پر کرنا ہے۔ اگر برا وقت آتا بھی ہے تو اپنے پیچھے ایک اچھا وقت چھوڑ کر بھی جاتا ہے۔
اللّٰہ کا شکر ادا کریں اور اللہ پر توکل رکھیں۔
خود اعتمادی کو کبھی بھی کھونے نہیں دینا۔ آپ جو خود اپنے لیے کر سکتے ہو وہ کوئی دوسرا انسان کبھی بھی نہیں کر سکتا۔
برا وقت آنے کی دیر ہے ہر رشتہ منہ موڑ لیتا ہے تب کوئی بھی سامنے نہیں آتا۔ اس وقت میں آپ کو خود ہی اپنے ریزہ ریزہ ہوئے وجود کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اسے پھر سے ایک فریم میں لگانا ہوتا ہے لیکن اصل مزہ تب آتا ہے جب آپ اس فریم کی ہر دڑار کو اپنی ہمت سے ایسے بھر دیں کہ دیکھنے والا کبھی بھی اس بات کا اندازہ نہ لگا سکے کہ کبھی یہ فریم ٹوٹا بھی ہو گا۔
میرے اس سال کو میرے لیے پر مسرت بنانے میں بہت ساروں کا عمل دخل ہے۔
جنہوں نے ہمیشہ میری ہمت بندھائی، میرے حوصلے کو بڑھایا۔ مجھے میری غلطیوں پر بہت اچھے طریقے سے سمجھایا یہاں میں ان لوگوں کا ذکر لازمی کروں گی۔
سب سے پہلے میری والدہ محترمہ جن کی دعاؤں سے میں یہاں تک پہنچ سکی۔ اللہ ان کا سایہ ہمیشہ مجھ پر قائم رکھے۔
میرے استاد محترم (سر ضفیم صاحب، سر سعید صاحب اور سر عدیل صاحب) میری ہر کامیابی پر میرا مزید حوصلہ بڑھایا اور مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔
میرے استاد سر سعید صاحب کا کہنا ہے کہ انہیں مجھ پر فخر ہے۔ انکے یہ الفاظ مجھ میں نئی ہمت اور لگن بھر دیتے ہیں۔
میری زندگی کی سب سے خاص دوست نمرہ۔۔!! اس کے ہونے سے مجھے بہت قوت ملتی ہے۔ یہ میری زندگی کا ایک بہت خاص حصہ ہے، جسے میں کبھی بھی خود سے الگ نہیں کر سکتی۔ شکریہ ہمیشہ میرے ساتھ رہنے کے لیے اور میری اوٹپٹانگ باتوں اور حرکتوں کو برداشت کرنے کے لیے۔۔۔۔۔!!
یہاں میں کچھ ادبی دوستوں کا بھی ذکر کروں گی جنہوں نے میری تحریر کو پڑھ کے میرے کام کو سراہنے کے ساتھ ساتھ میری متعدد غلطیوں اور کمیوں کا مجھے اتنے اچھے طریقے سے بتایا کہ میں مزید خود کو نکھار سکوں۔ ( پنجابی کے اعلی شاعر حیدر علی حیدر اور دوسرے بہت اچھے شاعر محمد احسان ثانی) انہوں نے ہمیشہ میری راہنمائی کی ہے مجھے بہت سہل طریقے سے سمجھایا۔ اور مجھے مجھ سے بھی زیادہ ایک بہترین مصنفہ بنانے کی تگو دو میں ہیں۔ اس کے لیے میں بہت مشکور ہوں۔ ان کے علاؤہ سنبھل ایک بہت ہی معصوم پیاری سی لڑکی جو بہت کم عرصے میں میرے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہو گی۔ اللّٰہ اسے دنیا کے ہر میدان میں کامیاب کرے۔ آمین!!
مختصر یہ کہ 2022 میرے لیے بہت خوشگوار رہا جس میں میں بہت سارے اچھے لوگوں سے ملی۔ بہت کچھ لکھا بہت ساری اسناد حاصل کیں۔
آخر میں یہی کہوں گی کہ اپنے اندر مستقل مزاجی کو پیدا کریں اور کسی بھی حال میں اپنے حوصلے کو ٹوٹنے نہیں دینا کیونکہ یہ دنیا ہنسنے والوں کے ساتھ ہنستی ہے لیکن رونے والوں کے اوپر ہنستی ہے۔
میری اللہ سے دعا ہے کہ سب کے لیے ہر آنے والا نیا دن نیا سال باعث مسرت بنے۔
آمین!!

0 Comments