Hifsaalmas

Insaniyat ki Khidmat by Rida Amanat Ali

 

انسانیت کی خدمت 

 رداامانت علی
فیصل آباد



آج میں ایسی شخصیت کے بارے میں لکھنے جا رہی ہوں۔ جس نے اپنی چھوٹی سی عمر میں ہی ایسے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا جو کہ آج کل کے نوجوانوں کے لئے ایک مثال پیدا کرنے میں کسی بھی طرح سے کم نہیں 

ہے۔ ملک توصیف احمد 1 مارچ 2001 میں تلاگنگ میں پیدا ہوئے ۔ ملک توصیف احمد کو ج گھر کا ماحول بہت اچھا ملا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔گھر کا ماحول بچے پر اپنا ایک گہرا اثر رکھتا ہے ، اسی طرح سے ان کے اندر بھی ایسا جذبہ جو کہ ان کے والدین کی تربیت کا ان پر اثر ہے. 16 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے ہمسائے جو کہ امیر ترین آدمی تھے۔ ان کے ہمسائے کو خون کی اشد ضرورت تھی ۔ اتنے امیر ترین ہونے کے باوجود وہ لوگوں سے خون لینے کے لئے کہ کسی طرح سے ان کو خون مل جائے اور کسی انسانی زندگی کی جان ضائع ہونے سے بچ جائے، کہتے ہیں کہ پیسہ آنے جانے کی چیز ہوتی ہے ۔ اصل میں وقت سب کچھ سیکھا دیتا ہے ۔ جیسا کہ کہا بھی گیا ہے ، کہ رشتے دار ، دوست بعد میں کام آتے ہیں ، پہلے ہمسائے ہی ہمسائے کے کام آتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک مثال ملک توصیف احمد کی ہے کہ

انہوں نے 16 سال کی عمر میں اپنے ہمسائے کو خون دینے کا فیصلہ کیا اور ان کا ساتھ ان کے والدین نے بھی دیا۔ ڈاکٹرز نے ان کو چھوٹی سی عمر میں خون کا عطیہ دینے سے منع کیا .کہ وہ خون کا عطیہ نہ دے، پر ان کو یہ بات گوارہ نہ تھی ۔ان کو ایک بات یاد تھی. کہ جس نے ایک انسانی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانیت کی جان بچائی۔ آپ اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہوئے بلکہ ایک انسانی جان کو بچانے کے لئے اپنا خون کا عطیہ خوشی سے دیا۔جو کہ ان کے ہمسائے کے خون سے بلکل ملتا تھا -B ۔ جب آپ نے خون کا عطیہ دیا ان کو ایک ایسا سکون محسوس ہوا کہ جیسا کہ ان کو زندگی میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ امید مل گئی ہو کہ لوگوں کی مدد کی جائے ۔کیونکہ خون دوسروں کے لئے کس قدر اہم ہے ۔یہ ان سے زیادہ اچھے سے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

آپ کو اس بات کی اس قدر اہمیت محسوس ہوئی کہ خون کا عطیہ دینا ایک ایسا عمل ہے۔ جو کہ پیسوں سے نہیں خریدا جا سکتا بلکہ اس کے لئے جذبہ ہمت اور حوصلہ چاہئے ۔ جس سے ان لوگوں کی مدد کی جائے جو کہ در حقیقت اس کے حقدار ہیں . آپ نے اس کام کو اپنی زندگی میں بروئے کار لاتے ہوئے اس پر تفتیش کرنی شروع کی ۔انہوں نے فیس بک یوٹیوب اور دوسری بہت سے ویب سائیٹ سے اس کے بارے میں آگاہی لی کہ کس طرح سے کام کرتے ہیں اسی دوران آپ کو ایک بہت اچھے استاد ملے۔ جنہوں نے آپ کو بتایا کہ کس طرح سے لوگوں کو اس طرف مائل کرنا اور کس طرح سے فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد کرنی۔ آپ میں انسانیت کی خدمت کرنے کا جذبہ دن رات بھرتا گیا اور پھر انہوں نے اپنے والد صاحب کے نام پر مجاہد فاؤنڈیشن کے نام سے ایک فاؤنڈیشن بنائی جس میں انسانیت کی خدمت کی جائے ۔

اس وقت آپ پاکستان بھر سے جو جو کیس بھی ان تک پہنچتا ہے ۔وہ اس کو مکمل کرتے ہیں۔ اس وقت تک آپ سکون سے نہیں بیٹھتے جب تک آپ کے پاس آیا کیس مکمل نہ ہو جائے ۔

آپ نے انسانی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پاکستان کے لئے بھی کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔ آپ نے 2019 میں پاک آرمی کو جوائن کیا۔ پاک آرمی جوائن کرنے کے بعد آپ ایک سال اپنی انسانی خدمت سے دور ہو گے ۔ کیونکہ ان کو ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کا حوصلہ بھی دن رات پروان چڑھ رہا تھا اور وہ اس ایک سال میں انہوں نے اپنی ٹریننگ مکمل کی۔ آپ کے پاک آرمی جوائن کرنے کا خواب آپ کے والدین کا بھی تھا۔ جس کو آپ نے باخوبی سر انجام دینے کے لئے پر عزم ہو کر کیا۔ ایک سال بعد جب آپ پھر سے انسانیت کی خدمت کے لئے پر عزم تھے ۔ جیسا کہ کچھ لوگ اگر آپ کو کامیاب دیکھ کر خوش ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ آپ کی کامیابی پر سوالیہ نشان بھی بناتے ہیں ۔ آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ آپ نے خود کو انسانیت کی خدمت کرنے کے عزم کو کم نہیں ہونے دیا بلکہ آگے سے بھی زیادہ پر جوش ہو کر اپنے کام کوصفر سے شروع کیا۔ آج آپ انسانیت کی خدمت کو بہت باخوبی سے سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ پاکستان کی خدمت کرنے میں بھی پر عزم ہیں ۔ آپ کی مثال آج کے نوجوانوں کے لئے ایک ایسا جذبہ بیدار کرنے کے لئے اہم ہے ۔ جو کہ اپنے ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کو بھی سر انجام دینے کے لئے بہت اہم معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ ملک توصیف احمد اور ان کے والدین کو میری طرف سے اور انسانیت کی خدمت کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں ۔

https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

Post a Comment

0 Comments