گاؤں کی شام
ارم اکرم
![]() |
| Unplash |
گاؤں کی ڈھلتی شام کا منظر بہت خوبصورت، دلکش اور حسین ہوتا ہے۔ پر سکون ماحول ہوتا ہے۔ نہ کسی قسم کی آلودگی، نہ ٹریفک کا شور پر سکون ماحول ہوتا ہے جو دل و دماغ کو اطمینان بخشتا ہے۔ گاؤں کے لوگ بہت سادہ ہوتے ہیں۔ وہ سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کا رہن سہن، خوراک اور لباس سب کچھ بہت سادہ ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے اور ان کے کام کا وقت بھی بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شہروں میں لوگ رات 2 1 بجے تک سوتے ہیں لیکن گاؤں کے لوگوں کے کام کا وقت بہت اچھا ہے وہ سب صبح ہوتے ہی اٹھتے ہیں اور فجر کی نماز ادا کرتے ہیں اور سورج نکلنے سے پہلے ہی اپنے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں۔ وہ سارا دن کام کرتے ہیں ۔گاؤں کے لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی ہوتا ہے وہ اپنی فصل کی بہت حفاظت کرتے ہیں جیسے اولاد کی پرورش کی جاتی ہے اسی طرح فصل کی بھی پرورش و نشوونما کی جاتی ہے۔ وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنی فصل کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ راتوں کو بھی دیر تک کام کرتے ہیں اور فصل کو کھاد دینا، اس کو پانی لگانا یہ سب کام کرتے ہیں۔ گاؤں والوں کے کچھ لوگ تو مغرب کی اذان ہوتے ہی گھر لوٹ آتے ہیں ہر انسان، پرندے، جانور اور مسافر سب کا ٹھکانہ ان کا اپنا گھر ہوتا ہے پرندے بھی مغرب کی اذان سنتے ہی اپنے گھونسلوں میں آ جاتے ہیں اور مسافر بھی۔ سب لوگ وقت پر شام ہونے سے پہلے اپنے اپنے گھر کو لوٹ آتے ہیں اور پھر صبح ہوتے ہی اللّٰہ کو یاد کرتے ہوئے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں۔
گاؤں کے لوگوں میں اتفاق بہت ہوتا ہے ان کی آپس میں بہت محبت ہوتی ہے۔ وہ لوگ ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں ایک ساتھ اتنا سارا وقت گزارتے ہیں۔ لوگ پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتے ہیں اور وہ اپنے اس حسین وقت کا مزہ لیتے ہیں۔ ان لوگوں میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا بلکہ پیار اور محبت ہوتی ہے ۔
گاؤں کی ڈھلتی شام کا منظر بہت خوبصورت ہوتا ہے وہ دل کو سکون دیتا ہے اور اس وقت دل کو سب سے زیادہ سکون دینے والی آواز آذان کی ہوتی ہے۔ دریا کے پاس بیٹھ کر پرندوں کی چہچہاہٹ سننا، سورج کو ڈھلتے دیکھنا اور اس خاموشی کے عالم میں اپنے رب سے باتیں کرنا وہ لمحہ بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ اگر انسان گاؤں میں ڈھلتی شام کو دیکھ لے تو وہ اپنی سب پریشانیوں کو بھول جاتا ہے اور اس ڈھلتے سورج کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جیسے ہی سورج ڈوبتا ہے وہ ہمارے دکھ اور پریشانیاں بھی ساتھ لے ڈوبتا ہے ۔
![]() |
| Unplash |
انسان جتنا مرضی دکھی ہو، پریشان ہو اور غمگین ہو اس ڈھلتے سورج کو دیکھ کر وہ سب بھول جاتا ہے۔ مجھے گاؤں کی فضا اور ڈھلتی شام دیکھنے کا بہت مزہ آتا ہے۔ میں تو اس وقت سے بہت لطف اندوز ہوتی ہوں مجھے وہ منظر دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے اس وقت گاؤں میں خاموشی کا عالم ہوتا ہے بس سمندر کی لہروں کی دھیمی سی آواز، پرندوں کا چہچہانا اور ڈھلتے سورج کو دیکھنا بہت پر سکون ماحول ہوتا ہے گاؤں کی ڈھلتی شام مجھے بہت سکون دیتی ہے۔
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔


0 Comments