Hifsaalmas

Allama Muhammad Iqbal written by Rida Amanat Ali


علامہ محمد اقبال
 رداامانت علی
فیصل آباد

Pixabay 


علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے۔علامہ محمد اقبال برصغیر کے وہ واحد شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ایک نئی سوچ نیا مستقبل کے لئے لوگوں کے دلوں میں ایک نظریہ پیش کیا۔ علامہ محمد اقبال کا اصلی نام :محمد اقبال

پیدائش :09 نومبر 1877  سیالکوٹ, پنجاب

تخلص :'اقبال'

رشتہ داروں :داغؔ دہلوی (استاد)

ان کے آباواجداد کشمیری برہمن تھے لیکن اسلام قبول کر کے سیالکوٹ میں رہائش پذیر تھے۔ علامہ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ لیکن دیندار تھے اورعلماء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔علامہ محمد اقبال کی ابتدائی تعلیم مکتب میں ہوئ۔ پرائمری، مڈل اور میٹرک کے امتحانوں میں امتیازی نمبروں سے پاس ہو کر وظیفہ لیا۔ ایف-اے اسکول سیالکوٹ سے پاس کرکے  بی -اے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔اقبال نے 1899ء میں  فلسفہ میں ایم -اے کی ڈگری حاصل کی اور اسی کالج میں  فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔  1905ء میں وہ  مزید تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ علامہ محمد اقبال نے کیمبرج اور میونخ یونیورسٹیوں سے فلسفہ میں اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کیں۔

علامہ محمد اقبال نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ انکا ایک شعر

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔علامہ محمد اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔

پی ایچ ڈی کے لئے ان کے مقالہ کا موضوع: ’’ایران میں ما بعد الطبیعات کا ارتقاء‘‘ تھا۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کے حصول کے بعد انھوں نے لندن سے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر کئے گئے اور ساتھ وکالت بھی کرتے رہے جس کی کالج نے انھیں خصوصی اجازت دے دی تھی۔ بعد میں انھوں نے کالج کی ملازمت چھوڑ دی اور وکالت کو ہی اپنا پیشہ بنا لیا۔

1890ء کے ایک  طرحی مشاعرہ میں علامہ محمد اقبال نے ’’موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے،  قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے‘‘ پڑھ کے محض 17 سال کی عمر میں اسوقت کے شعراء کو حیران کن کر دیا۔ اسکے بعد علامہ محمد اقبال انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگے۔ کچھ عرصہ تک ان کی شاعری خاموش رہی لیکن پھر ان کی قومی و ملّی نظموں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو ان کی شہرت دوام کا باعث بنا۔ ان میں ’’شکوہ‘‘، ’’شمع و شاعر‘‘، ’’خضر راہ‘‘ اور ’’طلوع اسلام‘‘ انجمن کے جلسوں میں پڑھی گئیں۔

1900ء میں انجمن کے ایک جلسے میں انھوں نے اپنی مشہور نظم  ’’نالۂ یتیم‘‘ پڑھی جو بہت ہی مقبول ہوئی کہ اجلاس میں یتیموں کی امداد کے لئے روپیوں کی بارش ہونے لگی اور آنسوؤں کے دریا بہہ گئے اور نظم کی ایک ایک مطبوعہ کاپی چار روپے میں فروخت ہوئی۔ علامہ محمد اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ وہ اپنے کلام سے اقوام مشرق پر چھائی کاہلی اور جمود کو توڑنا چاہتے تھے اور اس کے لئے وہ عشق، عقل، مذہب، زندگی اور فن کو ایک مخصوص زاویہ سے دیکھتے تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا کلام محض فلسفیانہ اور حکیمانہ ہے اور اس میں شعریت کی کوئی کمی ہے۔ ان کے مفکرانہ کلام میں بھی سوز اور جذبہ کا گہرا گداز شامل ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں اردو کے کلاسکی سرمایہ سے استفادہ کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اردو شاعری کو نئی نئی اصطلاحات، تشبیہوں اور رموز و علائم کا اک خوبصورت ذخیرہ بھی عطا کیا۔

علامہ محمد اقبال نے 1930ء  میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنا نظریہ پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ محمد اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ محمد اقبال کی پہلی شادی طالب علمی کے زمانے میں ایک معزز خاندان کی بیٹی سے ہو گئی تھی جس میں سے ان کا ایک بیٹا آفتاب اقبال ہے۔ معروف

 خاتون عطیہ فیضی سے بھی علامہ محمد اقبال کی دوستی رہی جو خود بھی تعلیم کی غرض سے لندن میں مقیم تھیں اور جنھوں نے دانشورانہ ادبی و علمی مذاق رکھنے والی اک ماڈرن ہندوستانی خاتون کی حیثیت سے اعلیٰ سماجی حلقوں میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ مزاجوں میں مطابقت کی وجہ سے دونوں میں قربت پیدا ہوئی۔ لندن سے واپسی کے بعد بھی دونوں میں خط و کتابت جاری رہی۔ اردو شاعری پر بہرحال عطیہ کا یہ احسان ہے کہ انھوں نے علامہ محمد اقبال کو ریاست حیدرآباد کی ملازمت سے شدّومد کے ساتھ روکا کیونکہ انکا خیال تھا کہ دربار داری علامہ محمد اقبال کی بے پناہ خلاقانہ صلاحیتوں کے لئے سم قاتل ثابت ہو گی۔ علامہ محمد اقبال کی شاعری بنیادی طور پر حرکت و عمل اور مسلسل جدوجہد کا مطابہ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے یہاں بعض اوقات یہ جد وجہد حصول مقصد کے وسیلہ کی بجائے خود مقصد بنتی نظر آتی ہے۔

انھوں نے زبان کو حسب ضرورت برتا، کہیں روایت کا اتباع کیا تو کہیں اس سے انحراف۔ بقول رشید احمد صدیقی اقبال کی نظموں کا شباب ان کی غزلوں کی شراب میں ڈوبا ہوا ہے۔ اقبال نے اردو شاعری سے حزن و قنوطیت  کے عناصر ختم کر کے اس میں رجائیت، جوش اور نشاط آفرینی پیدا کی۔ اقبال کے یہاں فکر اور جذبہ کی ایسی آمیزش ہے کہ ان کے فلسفیانہ افکار ان کی داخلی کیفیات و واردات کا آئینہ بن گئے ہیں۔ اسی لئے ان کے فلسفہ میں  کشش اور جاذبیت ہے۔ اقبال نے اپنے عہد اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کو ایسی زبان دی جو ہر طرح کے جذبات اور خیالات کو خوبصورتی کے ساتھ ادا کر سکے۔ ان کے بعد شروع ہونے والی ادبی تحریکیں کسی نہ کسی عنوان سے ان کے سحر میں گرفتار رہی ہیں۔ اردو کے تین عظیم شاعروں میں میرؔ کی شاعری اپنے قاری کو ان کا معتقد بناتی ہے، غالبؔ کی شاعری مرعوب و مسحور کرتی ہے اور اقبالؔ کی شاعری قاری کو ان کا گرویدہ اور شیدائی بناتی ہے۔علامہ محمد اقبال کی روایت میں ایسی قوّت ہے جس کی تازگی میں امکانات کی اک دنیا آباد ہے۔

1935ء میں عید کے دن سویّاں کھانے کے بعد ان کا گلا بیٹھ گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے حلق میں رسولی پیدا ہوگئی تھی۔ بجلی کے علاج سے کچھ افاقہ ہوا لیکن آواز پوری طرح بحال نہیں ہوئی۔ وکالت کا کام بند ہو گیا ایسے میں ریاست بھوپال نے داد رسی کی اور 500 روپے ماہوار ان کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ ان کی دوسری بیگم کا انتقال 1935 میں ہو گیا تھا، جو دو کمسن بچّے چھوڑ گئی تھیں۔ ان کی تربیت کی پریشانی نے اقبال کی صحت اور زیادہ بگاڑ دی۔ ان کو دمہ کے دورے پڑنے لگے۔ کھانستے کھانستے بیہوش ہو جاتے تھے۔ دسمبر 1937ء میں مرض نے شدّت اختیار کر لی اور 21 اپریل 1938ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔

https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

Post a Comment

0 Comments