عنوان :نبی الرحمت صلی اللہ علیہ وسلم بحثیت محسن انسانیت
راقم :محمد زبیر زائر, گگو منڈی
![]() |
| iStockphoto |
تاریخ شاہد ہے کہ انسانیت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی. جب رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو تباہی کےگڑھے سے بچانے کی کوشش کی تو آپ کو اس احسان کا بدلہ ظلم وستم اور گالم گلوچ کی صورت میں ملا. مگر رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بدلہ بھی احسان کی صورت میں دیا.
بقول ماہر القادری
رحمت کی گھٹائیں لہرائیں, دنیا کی امیدیں بر آئیں
اکرام وعطا کی بارش کی, اخلاق کے موتی برسائے
ہر چیز کو رعنائ دے کر , دنیا کو حیات نو بخشی
صبحوں کےبھی چہروں کودھویا,راتوں کےبھی گیسوسلجھائے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار احسانات میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ آج ہم عذاب الہی سے محفوظ ہیں.اس کے باوجود کہ وہ تمام برائیاں جن کی وجہ سے پہلی اقوام کو تباہ وبرباد کردیا گیا,آج ہم میں موجود ہیں.اس پر احادیث مبارکہ(مثلا مسلم :6613 ,کنزالعمال:11758,شمائل ترمذی:302وغیرہ)شاہد ہیں. قرآن بھی کہتا ہے :
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ۞
( سورۃ الأنفال: 33)
ترجمہ:اور (اے پیغمبر) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو، اور اللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔
انسانیت کو استغفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی سکھایا. ورنہ آپ سے پہلے تو ہرطرف ظلمت کا راج تھا. غلام کی حیثیت سےانسان کی تذلیل کی جاتی تھی. یہ عالمگیر مسئلہ تھا. آپ نے غلاموں کو عزت وشرف دیا .فرمایا:
" أطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون، وما فسد عليكم. فبيعوه، ولا تعذبوا خلق الله "
(کنزالعمال: 25672,بیھقی:15781)
![]() |
| iStockphoto |
ترجمہ: جو کھانا تم کھاؤ وہ اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ اور جیسے کپڑے تم پہنو ویسے انھیں بھی پہناؤ اور جو غلام تمہارے لیے باعث فساد وہو اسے بیچ ڈالو اللہ تبارک وتعالیٰ کی مخلوق کو عذاب میں مت ڈالو۔
غلاموں کو آزاد کروانے پر بشارت عطا فرمائ :
"منْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنْ النَّارِ"
(مسند احمد :9195)
ترجمہ:جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے.
اس طرح کی احادیث کثرت سے موجود ہیں. آپ کے اس احسان کا نتیجہ بھی سب کےسامنے ہے.
ان کی اک نظرسےقبل,ان کی اک نظرکےبعد
ہر طرف اندھیرا تھا , ہرطرف اجالا ہے
میدان محشر میں جب ساری انسانیت گرمی کے عذاب میں گرفتار ہوگی. اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی انسانیت پر احسان فرمائیں گے.جیساکہ صحیح بخاری: 4718میں مذکور ہے :
إِنَّ النَّاسَ يَصِيرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا كُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَّهَا، يَقُولُونَ: يَا فُلَانُ، اشْفَعْ يَا فُلَانُ، اشْفَعْ حَتَّى تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ.
ترجمہ: قیامت کے دن امتیں گروہ در گروہ چلیں گی۔ ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہوگی اور (انبیاء سے) کہے گی کہ اے فلاں! ہماری شفاعت کرو (مگر وہ سب ہی انکار کردیں گے) آخر شفاعت کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔
یہی بات بخاری شریف :4476میں تفصیل سے بیان کی گئ ہے. شاعرنے خوب کہا
مرے سرکار آئے درد عصیاں کی دوا بن کر
سکون قلب مضطر, غم زدوں کا آسرا بن کر
تہذیب وتمدن سے آشنائ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کی مرہون منت ہے. ورنہ آپ سے پہلے تو بدتہذیبی کی لپیٹ میں انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسےبن چکے تھے. معمولی بات پر مدتوں جنگ کرتے رہتےتھے. آپ نے ان کو باہم شیر وشکر بنادیا.
ہو لاکھوں سلام اس آقا پر دل لاکھوں جس نے جوڑ دیے
دنیا کو دیا پیغام سکوں , انسانوں کے رخ موڑ دیے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانیت پر ایک احسان یہ بھی ہے کہ آپ نے معاشرتی جرائم کے سدباب کےلیے سخت قوانین عطا فرمائے.سود,رشوت,ظلم اور چوری جیسی لعنتوں سے معاشرے کو پاک کیا. عدل وانصاف اور مساوات کا یہ حال تھا. کہ فرمایا :
"اللہ کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا. "
(صحیح بخاری :3475)
شاعر آپ کے بارے میں سچ ہی کہتا ہے :
جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک
وہیں وہیں سحر ہوئ, جہاں جہاں گزر گئے
عورت جسے دنیا بھر میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا. عرب معاشرے میں تو بیٹی کو زندہ درگور کردیتے تھے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(بیٹی,بہن ,ماں اور بیوی )ہر روپ میں معزز کردیا. بیٹی کی پرورش پر جنت کی نوید سنائ. (مسند احمد :8071)ماں کے قدموں میں جنت بتلائ.(نسائ :3108)بیوی کےساتھ حسن سلوک کی خود سفارش فرمائ.(معارف الحدیث:1425بحوالہ بخاری ومسلم )الغرض آپ نے عورت کو خاک سے افلاک پر پہنچا دیا .بقول شاعر
عورت کو حیا کی چادر دی ,غیرت کا غازہ بھی بخشا
شیشوں میں نزاکت پیدا کی, کردار کے جوہر چمکائے
![]() |
| iStockphoto |
قصہ مختصر, رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بحثیت محسن انسانیت ایک قد آور ہستی ہیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا سلسلہ لامحدود ہے. آپ نے علم وعرفان کےجام پلائے. صراط مستقیم پر چلنا سکھایا. خدا سے ہمارا رشتہ جوڑا. توحید بھی دی. قرآن بھی دیا. دنیا میں رہنے کے سلیقہ سکھایا . آخرت میں کامیاب ہونے کا طریقہ بتایا.مظلوموں کی فریاد سنی. زخموں پر مرہم رکھے. ہرکام کا عملی نمونہ پیش کیا. الغرض
چار سو روشنی آپ کے دم سے ہے
فرش پر زندگی آپ کے دم سے ہے
https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔



2 Comments