Hifsaalmas

Hisar by veer kaif

 حِصار

ویر کیفؔ،فیصل آباد

Pixabay 


میرے پیشانی پہ بوسہ دیا اور ہاتھ سے بیگ پکڑتے ہوئے بولی

جلدی سے فریش ہوجاؤ میں کھانا لگاتی ہوں

میں نے ٹائی اتارتے ہوئے کہا

" آج سے تمہاری یہ مشقت بھی ختم کردوں گا"

کیسی مشقت۔۔۔۔؟ 

اس نے استفہامیہ لہجے میں کہا

بتاتا ہوں ۔۔۔۔کھانے کی ٹیبل پہ 

کیا پکایا آج؟ 

اس کی چہرے پہ نظر جمائے پوچھا

خوشبو کیا بتا رہی ہے؟

ٹیبل پہ کھانا لگاتے ہوئے بولی

خوشبو تو بس تمہاری ہی محسوس ہوتی ہے۔ہاں مگر کھانا بناؤ تو اس سے بھی مہک آنے لگ جاتی ہے۔

اس کی دو لٹیں جو اس کے رخسار کو بار بار بوسہ دے رہی تھیں، کی شرارت کو دیکھتے ہوئے بولا

اچھا بیٹھو۔۔۔۔لگ گیا ناں سب؟ کچھ رہ تو نہیں گیا؟

اس کے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اسے کرسی پہ بٹھایا 

ابھی کچھ رہتا ہے۔۔۔وہ لے آؤں پھر کھاتے ہیں اور وہ ضروری ہے آج کے کھانے میں ۔۔۔۔۔

وہ اٹھنے لگی تو ہاتھ پکڑتے میں نے کہا

کچھ بھی ضروری نہیں۔۔۔۔جو ضروری ہے وہ پاس ہے، سامنے ہے۔

اس کی آنکھوں میں محبت سے دیکھتے میں نے کہا

"کیف۔۔۔۔!"

اس نے گھبراتے ہوئے کہا

"ہ۔۔م۔۔ممم۔۔۔ میرا مطلب کھانا۔۔۔کھانا سامنے ہے"

ٹیبل کی طرف دیکھتے میں نے کہا

تم نے کچھ کہا تھا۔۔۔۔۔ وہ تم مشقت کی بات کررہے تھے۔کیسی مشقت ختم کرنے لگے ہو؟

پلیٹ میں پلاؤ ڈالتے ہوئے اس نے کہا 

پہلے کھانا کھا لیتے ہیں۔ پھر اس پہ بات کرتے ہیں۔

اس سے پلیٹ پکڑتے میں نے کہا 

شروع کرو کیفؔ۔۔

 اس نے گلاس میں پانی ڈالتے کہا

تم کچھ بھول رہی ہو۔۔۔میں نے چمچ بھرتے ہوئے اس کی جانب بڑھایا۔

میں کچھ نہیں بھول رہی۔

چاول کھاتے اس نے جواباً کہا

مجھے پتا ہے جب تک میں کھانا شروع نہ کروں تم نہیں کھاتے اور تمہاری یہی باتیں مجھے تمہارے لیئے پاگل بنائے رکھتی ہیں۔

کیسی باتیں....؟ اس سے پوچھا

بس کھانا کھاؤ ۔۔۔بتاتی ہوں


(کھانے کے بعد)


یہی باتیں کہ تم نے چپ چاپ چاول کھا لیئے،سلاد بھی نہیں مانگا.

برتن اٹھاتے ہوئے بولی

اچھا۔۔۔۔

حیرت سے اس کی طرف رخ کرتے ہوئے بولا 

تم نے بتایا ہی نہیں سلاد بنا ہوا ہے

تم سن کب رہے تھے۔تمہیں کہا بھی تھا ابھی کچھ ضروری رہتا ہے مگر تم ہو کہ بس۔۔۔۔۔۔۔

کچن کی جانب بڑھتے ہوئے بولی

کیا بس؟

 کچن میں اس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا

کچھ نہیں ۔۔۔۔برتن دھوتے ہوئے بولی

بہت کچھ ہے، بہت زیادہ۔۔۔۔

اس کے خوبصورت چہرے پہ نظر جمائے پلیٹ اٹھاتے میں نے کہا

تمہیں کیا لگتا ہے مجھے کچھ پتا نہیں، میں جانتا تھا سلاد بنا ہے۔میں یہ بھی جانتا تھا تم وہی لینے جانے والی تھی مگر سلاد سے اس کھانے کی توہین ہوتی جو تم نے اپنے کومل ہاتھوں سے بنایا۔اس کے لذیذ ہونے کی یہی دلیل تھی کہ وہ تم نے کچن کی گرمی میں خود کو پگھلا کر بنایا۔اس کے سارے ذائقے تمہارے محبت سے بنانے میں پوشیدہ تھے اور ایسے کھانے کو سلاد کی کیسی ضرورت؟ 

اور ویسے بھی پلاؤ اس قدر لذیذ تھا کہ میں یہ بات بھول چکا تھا کہ اس میں سلاد بھی ڈالا جاتا ہے اور ہاں؛

(پلیٹ دھوتے ہوئے میں نے کہا

اس میں اگر سلاد ڈال دیتا تو شاید ذائقہ ماند پڑ جاتا

پلیٹ اٹھاتے میں نے کہا

حاریہ! یہ میرے حصے کی پلیٹ ہے۔چھوڑ دو۔

پلیٹ اس سے چھینتے میں نے کہا

تم پاگل ہو۔تم مجھے دماغی طور پر ٹھیک نہیں لگتے۔تم مجھے بہت تنگ کرتے ہو

روٹھتے ہوئے دوسری جانب اس نے منہ کرتے کہا

تو۔۔۔؟ 

پلیٹ دھوتے میں نے کہا

کچھ نہیں۔۔۔۔۔

کچن سے باہر نکلتے اس نے کہا

آج میں نے ایک کام والی کا پتا کیا تھا۔

وہ کل سے آجایا کرے گی

اس کے پاس بیٹھتے ہوئے میں نے کہا

مگر اس کی کیا ضرورت تھی۔

صوفے پہ بیٹھے اس نے کہا

تم تھک جاتی ہو ناں۔۔۔وہ تمہارا ہاتھ بٹا دیا کرے گی۔ویسے بھی تمہارا نازک کلی بدن کام کے لیئے نہیں بنا۔ان ریشم، شفاف اور لطیف ہاتھوں سے بس مجھے پیار کیا کرو۔

صوفے سے اترتے ہوئے میرے ساتھ نیچے بیٹھنے لگی تو جھٹ سے میں صوفے پہ بیٹھ گیا۔

نیچے نہیں۔۔وہ جگہ تمہارے لیئے نہیں

مگر کیفؔ کام اتنا نہیں ہوتا،تم ہمیشہ میرے ساتھ غلط کرتے ہو اور ویسے بھی مجھے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیئے کھانا بنانا اچھا لگتا ہے۔میں اسے کام نہیں، محبت سمجھ کر کرتی ہوں۔مجھے کبھی کسی کام سے الجھن نہیں ہوئی،میں جو کرتی ہوں وہ ہم دونوں کے لیئے ہوتا ہے۔تم غلط فیصلے کرتے ہو

ہاں۔۔۔! مجھے غلط فیصلے کرنے اچھے لگتے ہیں(اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے میں نے کہا)۔

حاریہ! کچن میں گرمی ہوتی ہے۔کتنی دیر تمہیں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔میں یہ سوچتے ہوئے کانپ اٹھتا ہوں

ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے اس کی جانب دیکھتے کہا

اگر ایسا ہے تو تم کیوں سارا دن میرے لیئے خود کو کام میں ہلکان کرتے ہو،تم نہیں تھکتے؟ تم بھی تو میرے لیئے سارا دن محنت کرتے ہو اور فقط دن ہی کہاں اب تو رات بھی کام میں الجھے رہتے ہو۔ مجھے سلا کر خود ساری رات جاگتے رہتے ہو۔مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے جب تم خود کو اذیت میں ڈال کر میرے لیئے سکون تلاشتے ہو۔تمہارا یہ سکون دینا مجھے زیادہ بے چین کر دیتا ہے۔تم نے ہمیشہ مجھے پیار دیا مگر خود کا خیال نہیں رکھا

کیا یہ بات میرے لیئے تکلیف دہ نہیں ؟


حاریہ! 

تم نہیں جانتی کہ کچن کی لو مجھے،میری روح کو جلا کر راکھ کرتی ہے اور تم بھلا کیسے فرش پہ جھاڑو دے سکتی ہو.....مجھے اچھا نہیں لگتا

مجھے بھی اچھا نہیں لگتا کہ کسی بھی ایسی چیز کو کوئی دوسرا چھوئے جو تمہارے استعمال میں ہو۔

اور رہی فرش کی بات تو میں اس فرش کو بھی کسی کو صاف نہ کرنے دوں جس پہ تمہارے قدم لگے ہوں۔اس دھول سے لے کر تمہاری روح تک فقط میرا حق ہے۔آج ایسا سوچ لیا ہے،آگے سے ایسے خیال سے بھی احتیاط کرنا

غصے سے اٹھتے ہوئے بولی

حاریہ! پیچھے سے آواز دیتے ہوئے 

آخر تم چاہتی کیا ہو،تم میرے ساتھ بہت غلط کررہی ہو۔

کچھ نہیں چاہتی۔۔۔۔کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی

میرے ساتھ ہی تم نے غلط کرنا ہوتا ہے۔کیوں نہیں سمجھتے ہو۔مجھے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیئے کھانا بنانا اچھا لگتا ہے۔نہیں چھونے دے سکتی اس فرش کو بھی جہاں تمہارے قدم لگتے ہیں۔ان دیواروں میں، ہر جگہ میں تمہیں محسوس کرتی ہوں اور اس احساس میں کسی تیسرے کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتی۔خود رات دن کام کرتا ہے۔میں کچھ کر لوں تو اس کو چبھنے لگ جاتا ہے۔

پتا نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے۔۔۔۔۔ہمیشہ خود کو مجھ سے دور کرنے کے بہانے ڈھونڈھتا ہے

روتے ہوئے خود سے مخاطب تھی

میں خود کو کچھ نہیں سمجھتا۔جو سمجھتا ہوں تمہیں ہی سمجھتا ہوں۔

چہرہ ہاتھوں میں لیئے رخسار پہ بکھرے موتیوں کو ہونٹوں سے چنتے میں نے کہا؛

اور ہاں اگر خود کو کچھ سمجھتا بھی ہوں تو تمہارا دیوانہ سمجھتا ہوں 

اور ہاں۔۔۔۔(ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے) 

میں بھی کسی تیسرے کی مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتا،وہ گرم ہوا جو تمہیں چھوتی ہے۔وہ تھکاوٹ جو تمہیں تھکاتی ہے۔مجھے جلاتی ہے۔

 اس کی آنکھوں پہ اپنے ہونٹوں کا عکس چھوڑتے میں نے کہا؛

اور کون دور ہونا چاہتا ہے

بانہوں میں لینے لگا تو جھٹکتے ہوئے بولی؛

پیچھے ہٹو ۔۔۔۔۔

ہمیشہ قریب آنے کے بہانے ڈھونڈھتے ہو

 اٹھتے ہوئے بولی

"تم بھی تو قریب لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہو"

مدھم لہجے میں اس کی طرف رخ کرتے ہوئے میں نے کہا

ختم شد!

https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

Post a Comment

0 Comments