Hifsaalmas

Bodhay waldaen by zunaira Sharafat

بوڑھے والدین

ازقلم: زونیرا شرافت ( لاہور)


pixabay 

 والدین اپنے بچوں کی پرورش میں دن رات ایک کر دیتے ہیں ان کی ہر خواہشات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوششوں میں لگے رہتے ہیں.  ماں دن تو کیا ساری ساری رات بھی اپنے بچوں کے لیے جاگتی رہتی ہے جب کہ باپ گرمی میں سارا دن تپتی دھوپ میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرتا ہے . اور جب شام کو گھر واپس لوٹتا ہے تو خالی ہاتھوں کی بجائے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ کھانے کو لاتا ہے. 

لیکن جب یہی والدین بڑھاپے کو پہنچتے ہیں تو پھر اولاد کا فرض ہوتا ہے بلکہ یہ بچوں کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی کس طرح دیکھ بھال کرتے ہیں . ان کی خدمت میں اپنا کتنا وقت لگاتے ہیں جبکہ والدین اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں اپنی پوری زندگی لگا دیتے ہیں ۔

موجودہ دور میں بہت کم لوگ اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں انہیں تو اپنے والدین ہی بوجھ لگنے لگتے ہیں ان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے والدین کو سنبھال سکیں.ان کا کہنا ہوتا کہ ہم والدین کو سنبھالے یا کام کریں .تو وہ اپنے والدین کو کسی سنٹر میں چھوڑ آتے ہیں یا پھر انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم آج جس مقام پر ہیں وہ آخر کس کی بدولت سے ہیں. انہیں تو یہی لگتا ہے کہ جیسے ہم خود ہی جوان ہو گئے ہیں .آج کے دور میں بہت سے والدین کو سڑکوں میں روتے ہوئے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے دیکھتے ہیں جن کا کہنا ہوتا کہ ان کی اولاد نے انہیں دھکے مار کے گھر سے نکال دیا .بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جو ماں باپ اپنی پوری زندگی لگا کے اپنے اولاد کے لیے چھت بناتے ہیں آج انہیں کے سر سے ہی چھت چھین لی جاتی ہے۔ یہ کیسا ماڈرن دور آگیا ہے جس نے اولاد کو اپنے والدین سے ہی دور کر دیا . وہ والدین جو اپنے بچوں کی آنکھیں نم ہوتے نہیں دیکھ سکتے . پھر وہی اولاد اپنے بوڑھے والدین کو یوں در در کے دھکے کھانے کے لیے کیسے چھوڑ دیتی ہیں.  

ایک صحابی کرام نے نبی صہ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا :

"تمہارے ماں باپ زندہ ہیں"؟اس نے عرض کیا : جی ہاں زندہ ہیں .آپ نے فرمایا:

"ان کی خدمت کرنے میں خوب محنت کر یہی تیرا جہاد ہے"

والدین کی دعائیں تو تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتی ہیں جو اولاد کے حق میں ہر پل تسبیح کے دانوں کی طرح گرتی رہتی ہیں .

والدین تو باعث رحمت ہوتے ہیں جس سے گھر میں رحمت برستی ہے .

اللہ کا ارشاد ہے:

"اور ہمارا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان نا کرنا. اور اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف بھی نہ کہنا ,نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا"

والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جا کر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں. وہ خدمت کے محتاج ہو جاتے ہیں.

 https://hifsaalmas.blogspot.com/ پرمزید آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ تحریر پڑھنے کے لیے لنک پہ کلک کیجیے۔

https://hifsaalmas.blogspot.com/2022/09/blog-post_13.html

Post a Comment

4 Comments

Anonymous said…
Right
Anonymous said…
Best of luck 😍
Anonymous said…
💞😘😘😘😘
Anonymous said…
💞😍😍😍😍