Hifsaalmas

قائد اعظم کا تصور قومی زبان ازمومنہ شکیل سرائے صالح ہری پور


 قائد اعظم کا تصور قومی زبان

مومنہ شکیل  سرائے صالح ہری پور


 "ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا"

        انسان کا سب سے بڑا تخلیقی کارنامہ زبان ہے. اس نے ہوا کی لہروں پر رقص کرنے والی آوازوں  کو با معنی بنایا  اور کلمات کو خیالات اور اشیاء  کی علامات کے طور پر استعمال کیا. لہٰذا اپنے اس حیرت انگیز کرشمے پر انسان جتنا فخر کرے،کم ہے . زبان اظہارِ خیال کا ذریعہ ہے. خیالات کی ترسیل اشاروں سے بھی ممکن ہے مگر جیسی صحیح معنوں میں ترجمانی زبان کے ذریعے ممکن ہے ، اشاروں سے ممکن تو ہے ، مگر محال ہے اور بیان کرنے والے کا کمال بھی اور ہر شخص باکمال نہیں ہوتا. جب کہ ہر شخص زبان بول سکتا ہے. اور اپنے خیالات کی ترجمانی کی ہر شخص کو ضرورت پیش آتی ہے. 

         اردو پاکستان کی قومی زبان ہے. پاکستان کے تمام علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے. اسی نقطہ نظر سے مختلف صوبوں ، علاقوں اور خطوں کے درمیان رابطے کی زبان بھی ہے. برصغیر میں بالعموم اور ارضِ وطنِ پاکستان میں بالخصوص کوئی گلی کوچہ ایسا نہیں ، جہاں اردو بولی یا سمجھی نہ جاتی ہو. گویا یہ بین العلاقائی زبان ہے. اور ہم اسے اپنی قومی زبان کہتے ہیں. قومی زبان کسی بھی ملک و قوم کی عزت و توقیر اور فخر و ناز کا باعث بنتی ہے. شاعر کے بقول:

زندہ وطن میں روحِ ثقافت اسی سے ہے

آزادیٔ  وطن  کی علامت اسی سے ہے

اردو  زبان  ہے   باعث  توقیر  ارض  پاک

        آئین پاکستان 1973ء میں درج ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے. اس حوالے سے اردو دنیا بھر میں پاکستانیوں کی زبان قرار پاتی ہے. چنانچہ غیر ممالک کے افراد ، وفور ، تاجر ، سائنسدان اور کھلاڑی وغیرہ جب پاکستانی عوام سے  بات چیت کرتے ہیں تو وہ اردو کا سہارا لیتے ہیں. اس کے علاوہ پاکستان میں قریباََ 40  زبانیں بولی جاتی ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں بولی جاتی ہیں. جب ان علاقوں کے لوگ دوسرے علاقوں میں جاتے ہیں تو وہ رابطے کے لیے اردو زبان ہی بولتے ہیں .  اردو زبان جہاں پاکستانیوں  کے لیے ضروری ہے ، وہیں یہ زبان غیر ملکیوں کے لیے بھی خاصی اہمیت کی حامل ہے. 

اردو  ہے  جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح قومی زبان اردو کے حوالے سے کیا موقف رکھتے تھے ؟

       برصغیر کے مسلمانوں نے جب آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا ، تب سے آل انڈیا مسلم لیگ نے ہندوستان کے تمام صوبوں میں آباد مسلمانوں کے درمیان " رابطے کی زبان" کی حیثیت سے اردو زبان کی حمایت میں قرار دادیں منظور کیں. بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی قومی زبان اردو قرار دی. آپ نے 10 اپریل 1946ء  کو آل انڈیا مسلم لیگ دہلی میں فرمایا: 

    "میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو

      ہوگی."

Google 


       اس کے علاوہ ایک اور مقام پر قائد اعظم نے 21 مارچ 1948ء کو ڈهاکہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

             "میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں ، کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو ، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں ہو گی. دیگر اقوام تاریخ اس امر پر گواہ ہیں کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اور کام کر سکتی ہے. پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری

زبان کا تعلق ہے ، وہ صرف اور صرف اردو ہی ہوگی." 

      اردو زبان ہندوستان میں مسلمانوں کے ماضی کی آئینہ دار بھی ہے اور پاکستان میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کا اظہار بھی ہے. قائد اعظم محمد علی جناح نے مختلف اوقات میں اور مختلف مقامات پر اردو زبان کی اہمیت ، افادیت اور اس کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے ارشادات فرمائے ہیں کہ اردو ہی پاکستان کی قومی و سرکاری زبان ہوگی. قیامِ پاکستان کے بعد بھی جب کچھ عناصر نے اردو کی بجائے بنگالی کو قومی زبان  کے طور پر رائج کرنے کا نعرہ لگایا تو قائد اعظم نے نہایت سختی سے اس کی مخالفت کی اور یہ بات واضح کر دی کہ پاکستان کی قومی ، سرکاری اور دفتری زبان صرف اردو ہوگی. کیونکہ اردو زبان ہی پاکستانی عوام کی ثقافت اور تہذیب کی آئینہ دار ہے. 24 مارچ 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے دوبارہ سے پاکستان کی قومی زبان اردو ہی کو قرار دیا:

  " اگر پاکستان کے  مختلف  حصوں  کو  باہم  متحد  ہو  کر    ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے ، تو ان کی سرکاری   زبان ایک ہی ہو سکتی ہے. اور وہ میری رائے  میں  اردو     اور صرف اردو ہے۔ " 

        قائد اعظم محمد علی جناح کے مشاہدات کے پس منظر میں اردو زبان کا وہ کردار تھا ، جو اس زبان نے مسلم قوم کو تشکیل دینے والے لوگوں کو باہم مربوط کیا .  قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران بھی بارہا یہ اعلان کیا کہ پاکستان میں کاروباری مملکت کی زبان اردو  ہوگی . اگرچہ یہ اعلان حقیقت  نہ بن سکا ، لیکن اردو نے اپنی ادبی ، ثقافتی ، تجارتی اور کاروباری حیثیت منوا لی ہے. 

       اردو کے متعلق قائد اعظم محمد علی جناح نے مختلف بیانات دئیے اور اقدامات بھی کیے مگر آج حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے. پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر انگریزی زبان کو جس تیزی کے ساتھ اپنایا جا رہا ہے.  یہ انگریز غلامی کے اثرات کا نتیجہ ہے. ہمارے ہاں انگریزی کو بطور لازمی مضمون پڑھایا جاتا ہے جبکہ اردو کو میٹرک کے بعد اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی جاتی ہے. بطور قومی زبان یہ اردو کی توہین ہے. آزاد قومیں جہاں جاتی ہیں ، اپنی زبان میں گفتگو کرتی ہیں اور اپنے لباس میں چلتی پھرتی ہیں. مگر ہمارے لباس بھی مغربی ہیں اور زبان بھی. 

       میرے خیال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو زبان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ، جہاں حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے ، وہیں یہ ذمہ داری بطور پاکستانی ہم پر عائد ہوتی ہے کہ ہم بھی انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر نفاذ اردو کے لیے کوشاں رہیں اور ماحول کو سازگار بنانے کے لیے اقدامات کریں. بحثیت والدین اور اساتذہ ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ماتحت لوگوں کو اردو زبان میں گفتگو کرنے کی ترغیب دیں اور بحثیت طلباء ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی زبان کی حفاظت کریں.  اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے اجتماعی جدوجہد کا آغاز کریں. کیونکہ اردو زبان نہ صرف  ہمارے لیے بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی تعلیمات کے طور پر اہم ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کا گراں قدر ذخیرہ بھی اردو زبان میں موجود ہے ، جو ہماری ابدی اور دائمی ہدایت کا ذریعہ ہے. نفاذ اردو کے لیے ہردم کوشاں رہیں تاکہ ہر شہری یہ کہنے پر مجبور ہو جائے :

 میں نے اردو کے لیے وقف کیا ہے خود کو

اپنے  اس  عزم کو  ہر  بزم  میں  دہراتا  ہوں



Post a Comment

0 Comments