ہراساں
رداامانت علی
فیصل آباد
آج میں نے بہت دنوں بعد قلم اٹھایا اور لکھنے کا سوچ رہی تھی تو یاد آیا کہ کسی نے مجھ سے ہراساں کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا کہ مرد کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ عورت کو جب چاہے ہراساں کر سکتاہے میں نے اسکو جواب اس وقت مختصر سا دے دیا پر اب لکھنے بیٹھی ہوں تو سوچ رہی ہوں آج اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قلم سے کچھ قلمبند کر لیا جائے ہراساں لفظ سنتے ہی ہمارے دماغ میں بہت سے سوالات جنم لے لیتے ہیں کہ ہراساں کیا تو کیوں کیا ضرور لڑکی کی غلطی ہو گی لازمی نہیں ہوتا کہ جو نظر آ رہا ہو وہ حقیقت پر مبنی ہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ محض آنکھوں کا دھوکہ ہو کہ لڑکی لڑکے کے ساتھ بات اپنی خوشی سے کر رہی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لڑکے نے لڑکی کو کسی بات پر اتنا مجبور کر دیا گیا ہو کہ وہ اپنی مجبوری کے تحت بات کر رہی ہو اب سب کے دماغ میں یہ سوالات جنم لے رہے ہوں گے کہ کونسی مجبوری میں ادھر بہت ہی چھوٹی مثال دے کر بتانا چاہوں گی اگر ایک لڑکی کسی بھی جگہ نوکری کر رہی ہے اور اس کو اپنی ایک یا دو دن کی رخصت اتفاقیہ لینی ہو تو وہ اپنے انچارج صاحب سے اجازت کے لئے درخواست دیتی ہے پر اسکا انچارج صاحب اسکو رخصت دینے کی جگہ اس سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیتا ہے جو کہ اس لڑکی کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتی دیکھنے والوں نے کہنا کیا بات ہے یہ تو انچارج صاحب سے کیسے باتوں میں مشغول ہےجب کہ لڑکی اپنی مجبوری کے تحت انچارج کی باتیں سن رہی ہے دیکھنے والوں نے اس سے اس طرح سے پیش آنا جیسے کہ وہ کردار کی اچھی لڑکی نہیں ہے اور اس سے نہ محض باتوں کے ساتھ ہراساں کرنے کی کوشش کرنی بلکہ اس کو اپنی تسکین کی خاطر جسمانی ہراساں بھی کرنا لڑکی اگر آگے سے کچھ بول دے تو اس کی زبان بہت لمبی ہے یہ ہے وہ ہے اگر لڑکی اسی طرح سے بات کرے جیسے کہ لڑکا چاہتا ہے تو پھر ہمارے بہت سے لوگوں کا مشہور قول یہ تو ہے ہی ایسی ہر ایک کے ساتھ فری ہو کر بات کرتی وہ لوگ اپنے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے کہ اس کی جگہ پر اگر ہماری بہن بیٹی یا بیوی ہو تو اس کے ساتھ کوئی اس طرح کا سلوک کرے تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے معاشرے میں کم از کم ہراساں کیا جانا بہت کم ہو جائے گا کسی بھی عورت کو ہراساں کر کہ جو مرد خود کو بہت معتبر سمجھتے ہیں دراصل وہ مرد نہیں مرد تو نام ہی حفاظت کرنا عزت دینے کا نام ہے مرد عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں چاہے وہ ماں کی صورت میں عورت ہو بہن کی صورت میں بیوی کی صورت میں یا پھر بیٹی کی صورت
میں آج کوئی بھی چھوٹی بچی ہو جوان لڑکی ہو یا ضعیف عورت کوئی بھی آج کے مردوں کی نہ صرف نظروں سے محفوظ ہے نا ہی کام کرنے کی جگہ پر اور نا ہی اپنے گھر کے لئے سازوسامان لینے کے لئے جانے کے لئے آخر کیوں عورت محفوظ نہیں ہے کیوں عورت کو ہراساں کر کہ ذہنی اذیت دی جاتی ہے آخر کیوں اس کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے ہم سب کو مل کر احسن طریقے سے قدم اٹھانا ہو گا تا کہ اسکی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے اگر لڑکی اپنے گھر والوں کو نہیں بتا سکتی کہ اسکو ہراساں کیا گیا کیونکہ وہ یہ سوچتی ہے کہ اس کے گھر والوں کے سامنے اسکی عزت نہیں رہے گی وہ اس دڑ کی وجہ سے ہراساں پر ہراساں ہوتی چلی جاتی ہے اگر وہ اسکے خلاف کوئی ایکشن بھے لے تو کسی نے بھی اس کی بات پر یقین نہیں کرنا کیونکہ پہلے ہی لڑکی کے کردار کو سب کی نظروں میں مشکوک کیا گیا ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں نہ صرف لڑکیوں کی بلکہ لڑکوں کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے ان کو ان کی مجبوری کے تحت چھوٹی سی عمر میں کام پر لگا دینا تا کہ گھر کے اخراجات میں مدد ہو سکے جس عمر میں تعلیم حاصل کرنی چاہئے تھی اس عمر کے حصے میں کام کر کہ اپنا اور گھر کے لئے پیسے کمائے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا جاتا ہے ان کو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے ان سب کی روک تھام کے لئے ہم سب کو مل کر احسن طریقے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ ان لوگوں کو سزا دی جا سکے جو کہ لڑکا ہو یا لڑکی کو ہراساں کرتے ہیں۔

0 Comments