Hifsaalmas

آرسی رٶف

 غزل

آرسی رٶف


دوَا جو کی تو دعا ٶں کا وہ اثر بھی گیا

”ہوا کے زور سے پندارِ بام و  در بھی گیا“


ہمیں تو چاند   تلک  کا سفر بھی مہنگا پڑا

نہ ہم کو تارے  ملے ،ساتھ ہی قمر بھی گیا



خبر کسی  نے نہ لی ،موت سے میں لڑ پڑا تھا

 مرا تھا تب،لٹا سب کچھ ہی، اور گھر بھی گیا


ہے کُن کے زیرِ اثر کا ٸنات کی ہر شے

 اشارہ جو ہوا  دیکھو سبھی بکھر بھی گیا


اے آرسی زرا دیکھو چمن کے رنگ  عجَب

اڑان بھر نے پرندہ  بے بال و  پر بھی گیا


Post a Comment

0 Comments