" بے وقوف عورت "
تحریر : نفیس اکبر بھٹو ( سندھ )
زندگی کے ہاتھ نہیں ہوتے لیکن کئی دفعہ ایسا تھپڑ لگاتی ہے کہ پھر ساری عمر اس کا نشان نہیں جاتا۔ مرد عورت کی قدر تب تک کرتا ہے جب تک اسے حاصل نہیں کر لیتا مرد عورت کا شکار کرنے کے لیے بڑی ہوشیاری سے اس کی پسند کا چولا پہنتا ہے اور جب اسے حاصل کر لیتا ہے پھر اپنے اصلی رنگ ڈھنگ میں آ جاتا ہے عورت سمجھتی ہے کہ مرد بدل گیا ہے جب کہ وہ بدلتا نہیں وہ اپنے اصلی رنگ میں واپس آ جاتا ہے۔ زندگی میں زیادہ رشتوں کا ہونا ضروری نہیں لیکن جو رشتے ہیں ان میں زندگی کا ہونا ضروری ہے۔ مرد کہتا ہے کہ عورت بے وفا ہوتی ہے عورت کہتی ہے کہ مرد بے وفا ہوتا ہے۔لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ ہر وہ انسان بے وفا ہے جس میں انسانیت نہیں ہوتی پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اگر تمھیں اپنی محبوبہ سے زیادہ کوئی اور عورت خوبصورت لگنے لگے تو سمجھ لو کہ تم اس کھوٹے سکے کی مانند ہو جو پیار کی مارکیٹ میں صرف دھوکے سے چل سکتا ہے۔ لیکن عشق محبت مارکیٹ میں چلنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔کیونکہ عشق صرف ایک سے کیا جاتا ہے۔ فرق پڑتا ہے! جیسے سفید دودھ میں ایک چٹکی ہلدی سے ، ایک دیگ چاول میں دوچٹکی زعفران سے ، ایک کپ چائے میں کھٹاس کی تین بوندوں سے ، فرق مقدار میں کتنا ہی کم اور تعداد میں کتنا ہی نیچے کیوں نہ ہو فرق پڑتا ہے۔ ہم کبھی موجود سے محبت کر ہی نہیں پاتے ۔ لاحاصل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔
![]() |
| unplash |
ازل سے لے کے اب تک عورتوں کو سوائے جسم کیا سمجھا گیا ہے۔
خدا کی شاعری ہوتی ہے عورت
جسے پیروں تلے روندا گیا ہے۔

0 Comments