Hifsaalmas

"" تم اور ہو'ہم اور ہیں""ازقلم فوزیہ کنول'کنگن پور


"" تم اور ہو'ہم اور ہیں""

ازقلم

      فوزیہ کنول'کنگن پور


  "ہم غزنوی، ہم بت شکن، تم اور ہو، ہم اور ہیں"

   "تم سومنات،تم برہمن،تم اور ہو، ہم اور ہیں"


  "میں سوچتی ہوں کہ یوم دفاع کو کیسے بیان کروں

 اپنے ملک کی خوبصورتی بیان کروں یا اپنے ملک کے رہبر محسن،غازی، شہیدوں  اور بہادروں کا ذکر کروں؟

 اپنے ملک میں پائی جانے والی نعمتوں کا شکر ادا کروں یا ملک کے شہیدوں کی لازوال کارکردگی کی مثالیں دوں؟

 لیکن میں آج کا دن اپنے ملک کے نوجوانوں کی لازوال قربانیوں کے نام کرتی ہوں کیونکہ آج کے دن دشمن نے ہمارے ملک میں لاہور کے پانچ راستوں سے داخل ہوکر حملہ کیا تھا اور آج ہی کے دن دشمن کا سامنا ہمارے فوجی جوان میجر عزیز بھٹی شہید سے ہوا تھا جنھوں نے دشمن کا ڈٹ کر سامنا کیا۔

ابھرتی امنگیں،ڈوبتا ہوا سورج،زندہ دلانِ لاہور میں فضا میں گونجتی نعرہ تکبیر کی صدائیں اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں میں پاکستانی پرچم کو عزت و احترام کے ساتھ اتارا گیا کہ اچانک خدا کے دشمن نے خدا کے بندوں کو ایک زوردار دھماکے سے اڑا دیا،ہر سو انسانی اعضاء بکھرے ہوۓ نظر آنے لگے،وہاں موجود لوگوں کا لہو سبز حلالی پرچم پر بھی دکھائی دینے لگا جسے کچھ ہی دیر پہلے بڑی عزت و احترام کے ساتھ اتارا گیا تھا وہاں موجود لوگوں کا لہو دشمن کو للکار رہا تھا۔دو نومبر کا سورج فضا کو سوگوار بنا کر غروب ہوگیا لیکن ٹھیک چوبیس گھنٹوں بعد دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جس جگہ کی بو خون سے رچی بسی تھی اسی جگہ پر وہی شہری 'پاکستان زندہ باد'کے نعرے لگاتے ہوۓ یہ نوید دے رہے تھے کہ"

      خون دل دے کر نکھاریں گے رخِ برگ گلاب

       ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔۔"

Google 


 6 ستمبر1965" لا الہ الا اللہ"کے ماننے والوں کے لیے امتحان کی گھڑی تھی، اور وہ بزدل یہ ارادہ رکھتا تھا کہ شام کو اس پاک سرزمین پر شباب و کباب کی محفل سجائے گا، وہ سمجھتا تھا کہ اپنے ٹینکوں ، اپنے طیاروں اور اپنی تین گنا بڑی فوج سے ہمارے دیس کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا، مگر وہ ظالم یہ بھول گیا تھا کہ ہم ہی وہ نوجوان ہیں جنھوں نے ستاروں پہ کمندیں ڈالیں اور کفر کے سینے میں خنجر گھونپنے والے نوجوان ہم ہی ہیں، لہو کی گردشوں کو جراتوں میں ڈھالنے والے ہم ہی ہیں، اور میدانِ جنگ میں اکڑ کر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے بھی ہم ہی ہیں،مگر پھر بھی وہ غرور میں ڈوبا اپنے ٹینک اور فوج لے کر چلا آیا، اس دیس کی مٹی کا ذرہ ذرہ گواہ ہے کہ ہمارے فوجی جوانوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر  چونڈہ کے میدانوں کو حریف ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

 اس وطن کی ہوائیں گواہ ہیں کہ جب اقبال کے شاہین نے ایم ایم عالم کا روپ دھارا تو آسمان کو سرخ رنگوں سے سجا دیا۔ اگر اشقیا بحری فوج لایا تو سمندر کی موجیں گواہ ہیں  کہ جب ان گنت بحری قوتوں کے سامنے وہ غازی آن کھڑا ہوا تو سومنات کے قصے کو دہرایا گیا اور دشمنوں کی راکھ کو سمندر میں بہایا گیا مگر حریف پھر بھی باز نہ آیا، اگر وقت کا نمرود زمینی فوج لایا تو خدا گواہ ہے کہ امرتسر سے لے کر راجھستان کی سرزمین تک میرے نوجوانوں نے اپنا ہلالی پرچم لہرا دیا۔"

          "ہم سے الجھو گے تو زمانے میں جیو گے کیسے۔؟

         "ہم تو وہ ہیں جو ظلم کی ہر دیوار گرا دیتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments