مومنہ جدون
ایبٹ آباد
!اچھا سنو
کچھ وفا باقی ہے
کچھ جفا باقی ہے
کچھ جاں باقی ہے
کچھ سانس باقی ہے
کچھ سزا باقی ہے
کچھ جزا باقی ہے
اہاں الوداع کہنے سے پہلے
کچھ دل کے زخموں کا
کچھ نم ہوتی آنکھوں کا
ابھی امتحان باقی ہے
آخری سانس سے پہلے
لپٹ کر تجھ سے
کرنی ہے وصیت ہم نے
کچھ حال احوال کہنا ہے
اور کچھ تمہاری سننا باقی ہے
یاد رکھنا ! ابھی تو بے جان ہاتھوں سے ہمارے
تمہارا ہاتھ چھڑانا باقی ہے
بوجہ آخری ہچکی
جو کھلی رہ جائینگی آنکھیں
ان پہ بھی تو تمہارا ہاتھ پھیرنا ابھی باقی ہے
اور ہاں اس جہاں میں
ہمارا
تمہارا انتظار کرنا ابھی باقی ہے
ابھی تو اس منزل کو
طے کرنے میں سال باقی ہیں
ہاں تم تھک نہیں جانا
کچھ لمحات باقی ہیں
ابھی تو ستم کی اک داستاں باقی ہے
مکافات عمل کا ہونا باقی ہے
جو نہیں کہی تم
ابھی وہ بات باقی ہے
زندگی کے حق میں جینے کی کوشش ابھی باقی ہے
زندگی میری بنجر بیاباں
آنے کو اس میں بہار باقی ہے
جی رہی اس آس پہ میں
زندگی
مرنے سے پہلے ایک ہونے کی امید ابھی باقی ہے

0 Comments