Hifsaalmas

شاہانہ ناز

 شاہانہ ناز


فصیلِ جاں ہے کہ مقبرہ ہے

جہاں نہ آہٹ کوئی خوشی کی

رمق نہیں کوئی زندگی کی 

نہیں ہے چڑیوں کی چہچہاہٹ

نہ آبشاروں کی گنگناہٹ

نہ کان پڑتی صدا ہے کوئی 

نہ دردِ دل کی دوا ہے کوئی 

فصیلِ جاں میں تو چاروں  جانب 

کوئی بھی در ہے نہ ہے دریچہ 

جہاں سے تازہ ہوا گزر کر 

ہمارے دل کو سکون بخشے 

نہ طاقچہ اور چراغ کوئی 

کہ جس سے اندر کے گھپ اندھیرے

 میں روشنی ہو 

کوئی بھی ایسا خلا نہیں ہے 

جہاں سے دل کی صدا 

کسی کی سماعتوں تک رسائی پائے 

نہ در ہے کوئی کہ جو کھلے تو 

اسیرِ جاں یہ رہائی پائے

فصیلِ جاں ہے کہ مقبرہ ہے

unplash


Post a Comment

0 Comments