Hifsaalmas

محنتی لڑکا از ارم اکرم

محنتی لڑکا 

 ارم اکرم


عمیر جو کہ 10 سال کا تھا اور ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جب عمیر کی پیدائش ہوئی تو کچھ ماہ بعد اس کے والد کا انتقال ہو گیا  اسے پڑھائی کرنے کا بہت شوق تھا وہ گھر کے قریب ایک موٹر سائیکل والی دکان پر کام کرتا تھا  اور جو پیسے ملتے اس سے گھر کا سارا سرکٹ چلاتا تھا وہ صبح ہوتے ہی دکان پر چلا جاتا تھا ۔ اس دکان کے پاس ایک سکول تھا عمیر روز صبح جب دکان پر آتا تو سکول جانے والوں کو دیکھ کر بہت اداس ہوتا اور دل ہی دل میں کہتا کہ کبھی تو میں بھی اس طرح سکول کا یونیفارم پہن کر بیگ لے کر اس سکول میں پڑھنے جایا کروں گا

unplash

 

لیکن عمیر نے ہمت نہ ہاری اور کام کرتا رہا آہستہ آہستہ جب ایک دو سال گزرے تو عمیر نے اپنے پیسوں سے ایک قاعدہ خریدا اور رات کو جب بھی گھر آتا تو قاعدے کو بیٹھ کر پڑھتا اور صبح ہوتے ہی دکان پر چلا جاتا اور اگر دکان میں بھی وقت ملتا تو اپنا قاعدہ پڑھتا رہتا 

اس نے ہمت نہ ہاری اور اسی طرح اپنی تعلیم کو جاری رکھا  آہستہ آہستہ اس نے پانچ جماعتیں پڑھ لیں اور وہ پانچ جماعتیں اس نے گھر میں خود ہی پڑھیں۔ اس کو پڑھائی کا اتنا شوق تھا کہ ایک دن اس نے سوچا کہ کسی گورمنٹ سکول میں داخلہ لے لیتا ہوں اس نے اپنی آمدنی سے کتابیں خریدی اور اگلے دن سکول چلا گیا جیسے ہی سکول سے چھٹی ہوتی وہ اپنی دکان پر آ جاتا اپنا کام کرتا اور گھر چلا جاتا اس کے بعد اپنا کام کرتا سبق یاد کرتا  اور سو جاتا اسے اپنی نیند کی کوئی پروا نہیں تھی بس وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ بھی پڑھ لکھ کر ایک اچھا انسان بن سکے۔ 

 کچھ سالوں تک اس نے میٹرک کیا جب رزلٹ آیا تو پتہ چلا کہ عمیر نے لاہور بورڈ میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی ہے اس کے بعد اس نے موٹر سائیکلوں کی دکان پر جانا چھوڑ دیا  اب وہ میڈیکل بھی جاتا اور ساتھ اپنی پڑھائی بھی کرتا تھا اب اس کے حالات بہت بدل گئے تھے وہ گھر کا سارا سرکٹ بہت آسانی سے چلاتا تھا جب میڈیکل کی تعلیم مکمل ہوئی تو اسے بہت سے انعامات سے نوازا گیا  اسے بہت سی کامیابیاں ملیں وہ بہت خوش ہوا  اب تو اس کی والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا اب وہ بالکل اکیلا ہو گیا تھا  وہ وہاں کے اچھے ہسپتال میں اچھی نوکری کرتا کچھ ماہ بعد اس کا  امریکہ سے وظفیہ آیا اور اسے پتہ چلا کہ اسے وہاں کے بہت بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر کے عہدے سے نوازا گیا ہے وہ بہت خوش ہوا اور اسی خوشی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کہنے لگا اگر آج میری ماں زندہ ہوتی تو وہ مجھے اس عہدے پر دیکھ کر بہت خوش ہوتی۔ اسی طرح اب وہ اپنی پرسکون زندگی گزار رہا تھا  عمیر نے ہمت نہ ہاری اور اپنی زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کیں اگر وہ اس وقت محنت نہ کرتا تو شاید آج وہ بھی اسی موٹر سائیکلوں والی دکان پر ہوتا لیکن اس نے کوشش کی، محنت کی اور بہت سی کامیابیاں حاصل کیں اللہ تعالیٰ محنت کر کے کمانے والے کو پسند کرتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments