Hifsaalmas

انڈیا کی آبی جارحیت

 انڈیا کی آبی جارحیت

مسکان امجد (لاہور)


قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی پانی کی تقسیم کا مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا لیکن اس تنازع میں میں بڑے اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ مسلہ یہ ہے کہ اس خطے کے اکثر دریا ہمالیہ کے پہاڑوں سے نکلتے ہیں اور ان کے منبع زیادہ تر بھارت میں واقع ہیں انڈیا اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان برسوں کے مذاکرات ،اختلافات جھگڑوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کے  ماتحت  سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عمل میں آیا تھا۔اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریا یعنی سندھ, چناب اور جہلم کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا اور تین مشرقی دریا یعنی بیاس, راوی اور ستلج کا پانی بھارت کو دے دیا گیا۔یہ معاہدہ پاکستان کے حق میں بہتر اس لیے نہیں تھا کہ بھارت کے حصے والے دریاؤں کا بڑا حصہ پاکستان میں ہی واقع تھا اس لیے کم ازکم ایک اور مشرقی دریا خاص طور پر راوی کا پانی پاکستان کو دیا جانا چاہئے تھا۔اس لیے بھی کہ راوی کے راستے میں پاکستان کے بڑے آبادی والے علاقے آتے تھے جن کے لیے پانی کی اشد ضروت تھی۔ لیکن عالمی بینک نے اس مفاہمت کو پاکستان پر تھوپ دیا اور ایوب خان نے  عالمی بینک کی دیگر امداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر دست خط کردیے۔اس معاہدے کے چند برس بعد ہی اس کے تباہ کن نتائج پاکستان میں سامنے آنا شروع ہوگئے۔ راوی ایک گندے نالے کی شکل اختیار کرتی گئی اور جنوبی پنجاب میں بھی دریا خشک ہوتے چلے گئے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے یہ کیا کہ جب بھی سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ان دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا جس سے غیر متوقع طور پر پانی کے ریلے آ کر یہاں تباہی پھیلانے لگے۔ گو کہ پاکستان نے اس کے بعد کئی بار کوشش کی کہ اس معاہدے میں منصفانہ ردّ و بدل کرکے پاکستان کو اس کا جائز حصہ دلوایا جائے لیکن خود عالمی بینک نے اس میں کوئی زیادہ دل چسپی کا مظاہرہ نہیں کیا اور پاکستان کی آبی حق تلفی ہوتی رہی۔ 



دو ہزار دس میں پاکستان کے دریائے سندھ میں آنے والے سیلاب سے وسطی پاکستان تباہی وبربادی کا شکار ہوا۔ اس تباہی وبربادی کے باعث دو ہزار سے زائد لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بہت سا مالی نقصان بھی ہوا۔ابھی کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا جس کے باعث قصور کے 12 دیہات متاثر ہوئے اور 5 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ و بر باد ہوگئیں۔دیہات میں پانی آجانے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہوگئی ۔تاہم پاکستان کے پاس اچانک آنے والے اس پانی کے ریلے سے نبرد آزما ہونے کا انتظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے دریاؤں سے متصل کئی دیہات زیر آب آجاتے ہیں ۔بات وہی ہے نا پھر ہر آفت کے بعد ہم دوبارہ سوجاتے ہیں ۔

Post a Comment

0 Comments